حوالدار سے ٹھیکیدار تک

پاکستان ٹیلی ویژن کے کامیاب ترین ڈراموں میں سے ایک اندھیرا اجالا بھی تھا اور اس کا ایک کردار ڈائریکٹ حوالدار جو پاکستان کی پولیس کا ایک رخ پیش کرتا تھا ہر بات اوئے کر کے کرنے سے لیکر چھوٹی موٹی ہیرا پھیری تک سارے معاملات جو اس کردار میں دکھائے جاتے تھے وہ ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ تھے، ڈائریکٹ حوالدار کا ایک ماتحت جس کانام کاکا شپاہی تھا وہ حوالدار کے ہر حکم کی پاسدار کرتے نظر آتا تھا ڈرامہ ختم ہوئے شاید دو دہائیوں سے زائد ہو گئے لیکن اسکے نقوش آج بھی ذہن میں موجود ہیں اور آج کل کے حالات بالخصوص موجودہ سیاست کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ماضی میں کچھ لوگ ایسے ہی کاکا شپاہی تھے،جو جی سر جی سر تو کرتے تھے لیکن ہیرا پھیری سے گریز کرنا گناہ سمجھتے تھے پھر کچھ وقت گزرا تو انکی ترقی ہوگئی اور وہ ڈائریکٹ تو نہیں ان ڈائریکٹ حوالدار بن ہی گئے پھر انکی زبان بھی بدل گئی اور رہن سہن بھی،کبھی وہ کسی کے ماتحت تھے لیکن پھر کئی انکے ماتحت آگئے وہ اپنے حریفوں کو سر عام اوئے اوئے کرتے نظر آئے،پاکستان کی سیاست میں دوسروں کی عزت اچھالنا،بلاوجہ کی تنقید،غیر سیاسی معاملات کو بھی سیاست کی نذر کرنا اور سب سے بڑھ کر اپنے علاوہ ہر کسی کو حقیر اور کرپٹ سمجھنا ایک عام سے بات ہوگئی،سیاست میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا،لیکن خیر سیاست تھی تنقید اور تائید کا سلسلہ شروع دن سے جاری ہے اور شاید جاری بھی رہے گا،لیکن عوام کے سامنے حقائق مسخ کر کے پیش کرنا، باتوں کا صرف وہ رخ سامنے لانا جو اپنے فائدے میں ہو،اپنی مرضی کے سوال کا جواب دینا یا سوالون کے جواب دینا بھی گوارہ نہ کرنا، عوام کو اپنا زر خرید غلام سمجھنا، ہر معاملے کا حل سڑکوں پر احتجاج کرتے تلاش کرنا شاید یہ سب کچھ سیاست نہیں جو کچھ آج کل ہو رہا ہے،خیر بات ہو رہی تھی حوالدار کی تو وہ سیاسی حوالدار جو کاکا شپاہی سے ترقی پر کر حوالدار بنے تھے اور اپنے علاوہ کسی کو ایماندار نہیں سمجھتے تھے شاید انہیں عوام میں کسی حد تک پذیرائی بھی ملی ہو جب انکی تھوڑی اور ترقی ہوئی تو وہ ڈائریکٹ حوالدار تو نہیں بنے تھے لیکن ڈائریکٹ ٹھیکیدار ضرور بن گئے،اب سوال یہ ہے کہ حوالدار سے ٹھیکدار کیسے؟ حوالدار اور ٹھیکیدار کا آپس میں کیا تعلق تو حضور ذرا رکئے بتاتے ہیں آپکو دونوں کا تعلق بھی اتنی جلدی کیا ہے؟بھئی پہلے کاکا شپاہی اور حوالدار تک تعلق تو سمجھ لیں پھر آگے چلتے ہیں، کاکا شپاہی پہلے حوالدار کے ماتحت تھا پھر خود حوالدار بنا تو اسے لگا کہ حوالداری سے آگے جہاں اور بھی ہیں حوالداری سے ٹھیکیداری کا سفر اس حوالدار نے اسی نظریے کے تحت طے کیا،لیکن ایک سوال کہ وہ حوالدار سے ٹھیکیدار تو بن گیا لیکن کس شعبے کا ٹھیکیدار بنا تو حضور وہ ٹھیکیدار بنا سیاست کا اور قومی اداروں کا،جو خود ہی اداروں کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور خود ہی اداروں کی حفاظت کےلئے عوام کو سڑکوں پر لانے کا اعلان بھی کر دیتا ہے، آجکل ایسے ٹھیکیداروں کی دکانداری خوب چمکی ہوئی ہے حالانکہ قومی اداروں کو ان سیاسی ٹھیکیداروں کی ہر گز ضرورت نہیں ان اداروں کو پتہ ہے کہ انکی حدود کیا ہیں اور انہوں نے کیا کرنا ہے لیکن کیا کیجئیے سیاسی ٹھیکیداروں کو اپنی دکان بھی تو چمکا کر رکھنی ہے،لیکن شاید انکی یہ حرکات اور ایسی سیاست نہ تو ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی انکے اپنے مفاد میں،یہ ایک ایسا غبارہ ہے جس میں وقتی طور پر ہوا تو بھری گئی ہے لیکن زیادہ حدت میں پھٹ جائے گا اور یہ ٹھیکیدار دوبارہ کاکا شپاہی کے قابل بھی نہیں ہو نگے، کیونکہ اس ملک کے ادارے اتنے مضبوط ہیں کہ انہیں نہ تو سیاسی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے اور نہ وہ کسی سیاسی جماعت کی مخالفت سے پریشان ہیں، وہ اپنی اپنی حدود میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں، ویسے ان ٹھیکیداروں سے بچنے کا ایک طریقہ اور بھی ہے وہ یہ کہ کاکا شپاہیوں اور حوالداروں کو سیاست میں زیادہ شور شرابے اور آگے بڑھنے سے پہلے ہی حیثیت کا بتا دیا جائے، وہ حیثیت کیسے بتائی جائے اسکا اندازہ شاید ہم سب کو ہے لیکن اس پر عمل کرنا باقی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے