خان کی یوٹرن کی استدعا

عمران خان کو بیاسی ہزار کی مہنگی غیر ملکی کرنسی کیسے ملی؟ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمن عمان خان کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ وہ عوامی اجتماعات، جلسے جلوسوں اور میڈیا انٹرویوز میں دیے بیانات سے ہٹ جاتے ہیں، ان کی اس عادت کی وجہ سے انہیں یوٹرن خان بھی کہا جا تا ہے، ایسا ہی ایک تاثر عمران خان کے بارے مٰیں سپریم کورٹ میں پروان چڑھ رہا ہے جہاں کپتان اپنی بنی گالہ اراضی کی خریداری کے حوالے سے تین مختلف موقف اختیار کر چکے ہیں، اب عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع اضافی دستاویز کے ذریعے ایک لاکھ پاونڈز سے متعلق ایک اور موقف اپنایا گیا ہے، سپریم کورٹ میں جاری کپتان کی نا اہلی کیلئے دائر درخواست میں عدالت کو بتایا کہ لندن فلیٹ کی فروخت کے بعد ان کی آف شور کمپنی کے اکاونٹ میں تقریبا سات پاونڈز کی رقم موجود تھی جس میں سے اڑتیس ہزار پاونڈ انہوں نے اپنے فنانشیل کنسلٹنٹ، پانچ لاکھ باسٹھ ہزار پاونڈز جمائمہ خان کو قرض کی مد میں ادا کیے، جس کے بعد کپتان کے اکاونٹ میں ایک لاکھ پاونڈز کی رقم واپس بچ گئی تھی، سپریم کورٹ نے نااہلی کیس میں آبزرویشن دی تھی کہ کمپنی اکاونٹ میں پڑا ایک لاکھ پاونڈ عمران خان کا اثاثہ تھا جس کو عمران خان نے یہاں پاکستان میں ٹیکس اور انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا، جب کہ عمران خان کا موقف تھا، یہ ایک لاکھ پاونڈ کی رقم کمپنی کا اثاثہ تھی، یہ رقم لندن فلیٹ کی قانونی چارہ جوئی پر خرچ ہوئی اور اس عدالتی چارہ جوئی سے عمران خان کو کچھ مالی فائدہ نہیں ہوا ۔
عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع نئی دستاویز میں نئے موقف سامنے آئے ہیں، عمران خان اپنے جواب میں کہتے ہیں کہ بنی گالہ اراضی کی تعمیر کے نقشہ کے لیے ننانوے ہزار پاونڈز کی رقم جمائمہ نے لندن سے بھیجی،جس میں سے اناسی ہزار پاونڈز نقشہ نویس کو ادا کیے گئے، لندن میں پڑے ایک لاکھ پاونڈز میں سے چالیس ہزار پاونڈز عمران خان کو سترہ مئی دو ہزار چار کو نیازی کمپنی کے اکاونٹنٹ نے بھجوائے، یہ چالیس ہزار کی رقم عمران خان کے الفلاح اکاونٹ میں وصول کی گئی، دوسری جانب عدالت کو لندن فلیٹ کی قانونی جوئی سے متعلق بتایا گیا ہے کہ لندن فلیٹ کے کرایہ دار سے عمران خان کو بیالیس ہزار یورو کی رقم ملی، یہ رقم نیازی سروسز کمپنی کے یورو اکاونٹ میں وصول ہوئی، بعد ازاں یہ رقم عمران خان کو پاکستان بھجوائی گئی، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیالیس ہزار یورو کی رقم کی پہلی قسط چار جولائی دو ہزار سات کو بیس ہزار یورو کی وصول ہوئی، دوسری قسط چار مارچ دو ہزار آٹھ کو بائیس ہزار چار سو چھپن یورو کی وصول ہوئی، جواب میں بتایا گیا ہے کہ سال دو ہزار دو تک نیازی سروسز کے اکاونٹ میں بیلنس ختم ہو چکا تھا، اس سے قبل عدالت کو بتایا گیا تھا کہ لندن فلیٹ کے کرایہ دار سے عدالتی کاروائی میں عمران خان کو کچھ بھی مالی فائدہ نہیں ہوا، یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ نیازی کمپنی کا کوئی یورو اکاونٹ بھی تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ کمپنی کے اکاونٹ میں پڑے ایک لاکھ پاونڈ سے عمران خان کو کچھ نہیں ملا، اب نئے جواب کے بعد پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کو ان کے پہلے موقف کے برعکس لندن سے چالیس ہزار پاونڈز اور بیالیس ہزار یورو کی رقوم وصول ہوئی، نئے جواب میں عدالت عظمی سے معصوم سی استدعا بھی کی گئی ہے کہ عمران خان کو اس بارے میں اپنا پہلا تحریری موقف تبدیل کرنے کا موقع دیا جائے اور اس کو درست بھی سمجھا جائے ۔

متعلقہ مضامین