بڑے وکیلوں کا مقدمہ

سپریم کورٹ میں ڈائریکٹ ٹو ہوم یعنی ڈی ٹی ایچ ٹیکنالوجی کے لائسنس لینے والی کمپنیوں اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا کی لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی۔ انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن/جیو کی طرف سے جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ کے سامنے وکیل عاصمہ جہانگیر پیش ہوئیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایاکہ ڈی ٹی ایچ کیلئے پہلی بولی میرے موکل نے جیتی تھی مگر روکا گیاتو سپریم کورٹ بھی سب سے پہلے ہم آئے۔ عاصمہ جہانگیر کے ساتھ ہی عدالت کے روسٹرم پر اعتزاز احسن ، وسیم سجاد اور سلمان اکرام راجا جیسے وکیل کھڑے تھے۔ عدالت نے پوچھا تو اعتزاز احسن نے بتایا کہ وہ سب سے بڑی بولی دے کر جیتنے والی پارٹی میگ کے وکیل ہیں۔ وسیم سجاد نے کہاکہ وہ دوسرے نمبر پر بولی جیتنے والی پارٹی اسکائی کا مقدمہ لڑیں گے۔ سلمان اکرم راجا نے کہاکہ وہ پیمرا کی نمائندگی کرتے ہیں۔
جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ بولی جیتنے والے کون ہیں، میگ کے پیچھے کون ہے؟۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ جیو نے پچیس کروڑ کی بولی دی تھی۔ اعتزاز احسن نے کہاکہ ہمارا مسئلہ زیادہ بڑا ہے، ہم نے ستر کروڑ جمع کرائے ہیں اور ایک سال ہوگیا ہے۔ وکیل وسیم سجاد نے کہاکہ ہم نے بھی اربوں روپے کی بولی دی ہے، ستر کروڑ جمع کرائے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ لاہورہائیکورٹ نے جیو کو بولی میں شامل کرنے کا فیصلہ دیاہے تو اس کے خلاف پیمرا نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ آپ سب بڑے وکیل ہیں مگر پہلے پیمرا کے وکیل کو دلائل دینے دیں کیونکہ مقدمہ ان کا ہے، اگر آپ کا مقدمہ وہی لڑلیں تو آپ کو ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ وکیلوں نے کہاکہ کہ ہم اضافی گزارشات کریں گے یا ان کی مزید معاونت کرلیں گے۔ وکیل اعتزاز احسن نے کہاکہ کہ آپ کہتے ہیں تو مطلب ہے کہ ہم بیٹھ ہی جائیں۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ ایسے نہ بیٹھیں کہ پھر اٹھ ہی نہ سکیں۔ سلمان اکرم راجا کو دلائل کا آغاز کرنے کیلئے کہا گیا تو عاصمہ جہانگیر بولیں کہ اب تو چھ ہفتے دلائل جاری رہیں گے ہماری باری کب آئے گی۔ جسٹس قاضی فائز نے مذاق کیا ہے کہ آپ سلمان راجا کی تعریف کررہی ہیں یاان کو بدنام کر رہی ہیں۔ عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ نہیں، یہ بہت اچھے وکیل ہیں اس لیے طویل دلائل دیتے ہیں۔ سلمان راجانے کہاکہ یہ دراصل طنز ہی سمجھا جاسکتاہے۔
سلمان اکرم راجانے دلائل کا آغاز کیا تو عدالت نے کچھ سوال پوچھے جس پر انہوں نے کہاکہ وضاحت کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہاکہ کسی ایک وکیل کی بھی تیاری نہیں ہے، وقت ضائع کر رہے ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہاکہ پیمرا قانون میں ٹی وی چینل رکھنے والے کو ڈی ٹی ایچ لائسنس کی بولی میںحصہ لینے سے روکنے کی کوئی شق نہیں ہے، پیمرا قواعد میں ایسا ہے مگر وہ قانون کے تابع ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کیا دنیا میں کوئی اور بھی ایسا ملک ہے کہ جہاں اخباری مالکان کو ٹی وی چینل کیلئے بھی لائسنس دیے گئے ہوں؟ دنیا میں ایسا کہیں بھی نہیں ہے، کراس میڈیا اونرشپ سے بچنا ضروری تھا، یہ الگ بات ہے کہ اس مقدمے میں ہمارے سامنے یہ معاملہ نہیں۔ اس موقع پر عاصمہ جہانگیر نشست سے اٹھیں اور جسٹس عظمت سے کہاکہ آپ پہلے سے اپنے ذہن میں نتائج اخذ کررہے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے برا مناتے ہوئے کہاکہ آپ بیٹھ جائیں، ایسا کچھ نہیں ہے، میں کچھ بھی اخذ نہیں کررہا۔
پیمرا کے وکیل سلمان اکرم نے دلائل جاری رکھے تو جسٹس عظمت نے کہاکہ جس وقت اخباری مالکان کو ٹی وی چینل کے لائسنس دیے جارہے تھے اس وقت ادارے نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں۔ وکیل نے کہاکہ موجودہ حالات میں کسی بھی ٹی وی چینل کے مالک کو ڈی ٹی ایچ دینا درست نہیں ہوگا کیونکہ انڈسٹری کے دیگر مالکان یا شراکت دار متاثر ہوں گے۔یہ نئی ٹیکنالوجی ہے اور میڈیا انڈسٹری کے ہی ایک حصے کے طور پر استعمال کی جائے گی اس لیے بچنا ضروری ہے تاکہ مسابقت برقرار رہے ۔
جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ اس معاملے کا ایک قانونی پہلو ہے اور دوسرا آئینی ہے کیونکہ آئین سب کو کاروبار کی آزادی کی ضمانت دیتاہے تو پھر کس طرح کسی پر کاروبار کرنے کی بندش عائد کی جاسکتی ہے۔ اس موقع پر جسٹس گلزار نے کہاکہ ہائیکورٹ نے قانون کی حدتک فیصلہ دیاہے، اب آئینی معاملہ بھی درپیش ہے، اس لیے ہم معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیتے ہیں۔ انہوں نے آرڈر لکھوانے کیلئے عدالتی عملے کو بلایا کہ لکھیں، تو اچانک جسٹس عظمت نے ان کو روک دیا اور کہاکہ ابھی صبر کریں، اس کے بعد جسٹس عظمت نے اپنے ساتھ بیٹھے جسٹس قاضی فائز سے مشاورت کی اورپھر بنچ کے سربراہ جسٹس گلزار احمد تک اپنی رائے پہنچائی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کومعاونت فراہم کرنے کیلئے نوٹس جاری کیاکہ آئین کے کاروبار سے متعلق آرٹیکل کی اس مقدمے میں تشریح کی جانی ہے ۔ وکیل اعتزاز احسن نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کو جلد سماعت کیلئے دوبارہ لگایا جائے کیونکہ ہمارے ستر کروڑ روپے گزشتہ سال نومبر سے پھنسے ہوئے ہیں جب یہ بولی ہوئی تھی۔ عدالت نے نومبر کے پہلے ہفتے تک کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین