”جمہوریت“ بچالی ہے

شہباز شریف صاحب نے بالآخر ایک بہت ہی صبرآزما اور جذباتی حوالوں سے بے پناہ مشکل مشق کے بعد ”جمہوریت“ بچالی ہے۔ بچت فقط ”جمہوریت“ ہی کی ہوئی نظر نہیں آرہی۔ منگل کے روز عوام کے روبرو لائی مریم نواز شریف سے ان کی ملاقات اور بعدازاں حمزہ شہباز شریف کے شاہ زیب خان زادہ جیسے معروف اور اقتدار کے ایوانوں میں معتبر مانے اینکر کو دئیے انٹرویو نے ہمیں پیغام یہ بھی دیا کہ شاید وزیراعظم عباسی کو ہٹاکر کوئی ٹیکنوکریٹ حکومت لانے کی اب ضرورت نہیں رہی۔ شاہد خاقان عباسی ”اسی تنخواہ“ پر کام جاری رکھیں گے اور احسن اقبال کو بھی محض اپنے کام پر توجہ دینے پر مجبور کریں گے۔
خواجہ آصف اور خواجہ سعد رفیق جیسے وزراء ”ریڈ لائن“ کو پہلے ہی دریافت کرچکے ہیں۔ خرم دستگیر خاموش رہتے ہیں۔ وزیر خزانہ کا دن احتساب عدالت میں گزرتا ہے، اس کابینہ کو اب مزید ”ٹیکنوکریٹ“ ہوکر نئے انتخابات تک کافی کچھ ڈیلیور کرنا ہوگا تاکہ پاکستان مسلم لیگ نون ایک بار پھر بھاری اکثریت سے نہ سہی کم از کم آئندہ ایوان میں نشستوں کے اعتبار سے سب سے بڑی جماعت بن کر لوٹ سکے۔
منگل کے روز ہوئے واقعات کے بعد اٹک سے لے کر رحیم یار خان تک پھیلے اور آبادی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی بادشاہی بھی خود کو خادم اعلیٰ کہتے شہباز صاحب ہی کے پاس رہے گی۔ ان کی وہاں موجودگی،پاکستان مسلم لیگ نامی اس جماعت ،جو اب بھی نون کے لاحقے کے ساتھ کام کرنے کو بضد ہے ،کے استحکام کی ضمانت ہے۔ اس جماعت کے اراکین قومی اسمبلی کو ابھی تک صرف چودھری نثار علی خان صاحب اپنی فراست کی بدولت کسی ”فارورڈبلاک“ کے قیام کی طرف مائل نہیں ہونے دے رہے تھے۔
مجھے خبر نہیں کہ منگل کے روز ہوئے واقعات کے بعد نمایاں ہوئے سیاسی منظر نامے کو نواز مخالف سیاست دان کیسے برداشت کریں گے۔ پاکستان کے تیسری بار منتخب ہوئے وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہل کروانے میں اہم ترین کردار راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر نے ادا کیا تھا۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد انہیں یقین تھا کہ اب باری حدیبیہ پیپرز کی ہے جنہیں وہ Mother of All Corruption کہتے ہیں۔ یہ پیپرز کھلیں تو شہباز صاحب کو بھی منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک سانحہ ماڈل ٹاﺅن بھی ہے جس کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کا انتظار ہورہا ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کو کامل یقین تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حقائق عدالتی حکم کے تحت منظرِ عام پر آگئے تو ”گاڈفادرII“بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح نااہل ہوکر قتل جیسے سنگین مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے ”عبرت کا نشان“ بن جائیں گے۔ یہ خطرہ بھی فی الحال ٹل گیا ہے۔عمران خان صاحب کو لہذا اپنی جماعت کی تنظیم سازی کی طرف توجہ دیتے ہوئے نئے انتخابات کی تیاری کرنا ہوگی جو بظاہر اب آئندہ سال وقتِ مقررہ پر ہی ہوتے نظر آرہے ہیں۔
قبل از وقت انتخابات کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی بھی تیار نہیں ہے۔اسے پنجاب میں اپنے ناراض ووٹروں سے رابطوں اور معافی تلافی کے لئے وقت درکار ہے۔ منگل کے روز ہوئے واقعات نے اس کی راہ بھی نکال دی ہے۔
”جمہوریت“ اور ”سسٹم“ کو اداروں کے ٹکراﺅ“ سے بچاکر میاں نواز شریف کو ٹھوس سیاسی حوالوں سے فی الوقت ”مائنس“ بنادیا گیا ہے۔ بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری کے لئے ان کا لندن میں کچھ عرصہ قیام ویسے بھی ضروری ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں مریم نواز شریف احتساب عدالت میں پیش ہورہی تھیں۔ احتساب عدالت میں پیش ہوتے وقت مگر وہ اسحاق ڈار جیسا رویہ اختیار نہ کر پائیں۔ چند جوشیلے کارکن اور جونیئروزراءان کے دائیں بائیں نظر آنا اپنی سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے فرض کی مانند لے رہے تھے۔ پُرجوش کارکنوں کی موجودگی سے احتساب عدالت کے باہر نہ صرف ہڑبونگ مچ جاتی ہے بلکہ کچھ لوگوں تک یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ شاید عدالتوں کے خلاف کوئی فیصلہ کن جنگ لڑنے کی تیاری ہورہی ہے۔
عدالتی پیشیوں کے درمیان آئے وقفوں میں مریم بی بی نے مسلم لیگ نون کے کارکنوں سے براہِ راست روابط استوار کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ آغاز ان کوششوں کا لاہور کے NA-120سے ہوا۔ نواز شریف کی نااہلی کی وجہ سے یہ نشست خالی ہوئی تو محترمہ کلثوم نواز کو ان کے متبادل کے طورپر کھڑا کیا گیا۔ یہ فیصلہ نواز شریف کے بردبار ساتھیوں کو پسند نہ آیا۔ شہباز شریف بھی اس فیصلے سے کوئی زیادہ خوش نظر نہیں آئے۔ وہ اور ان کے ”ولی عہد“ شمار ہوتے،حمزہ شہباز لہذا انتخابی مہم سے قطعی لاتعلق ہوگئے۔اس لاتعلقی کے باوجود بیگم کلثوم یہ نشست جیت گئیں۔ اس جیت کے بعد یہ خدشہ تھا کہ مریم بی بی Solo ہو کر ”اداروں سے ٹکراﺅ“ کی راہ پر چل نکلیں گی۔
مریم بی بی کو اس راہ پر چلنے سے ہر صورت روکنا نون کے لاحقے والی پاکستان مسلم لیگ کے اراکین قومی وصوبائی اسمبلی کی بے پناہ اکثریت نے اپنی بقاء کے لئے نہایت ضروری سمجھا۔ ہمارے مقتدر ادارے بھی مریم بی بی کی مچائی ہلچل کے بارے میں کافی سیخ پا نظر آئے۔ بالآخر فیصلہ یہی ہوا کہ شہباز شریف سامنے آئیں۔ جمہوریت،سسٹم اور پاکستان مسلم لیگ کو بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ منگل کے دن مریم بی بی کو چائے پر بلاکر شہباز صاحب نے ا پنا فرض ادا کر دیا ہے۔
اس ملاقات کے بعد ”ذرائع“ نے خبریں دیں کہ مریم بی بی کو سمجھادیا گیا ہے کہ ”اداروں“ کو اشتعال دلانے والے رویے سے اجتناب برتاجائے۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے مریم بی بی نے ان خبروں کے ذریعے پھیلائے تاثر کو جھٹلانے کی کوشش کی۔ ان کی یہ کوشش مگر حمزہ شہباز کے تفصیلی انٹرویو کے بعد غیرموثر ہوچکی ہے۔
مجھے امید ہے کہ حمزہ شہباز کے انٹرویو کے بعد وہ احتساب عدالت کے روبرو اسی خاموشی سے پیش ہوں گی جو اسحاق ڈار نے اپنی پیشیوں کے ضمن میں اپنارکھی ہے۔ راوی کے لئے چین ہی چین لکھنے کے لئے منگل کے روز جو کچھ بھی لاہور میں ہوا وہ بہت سوچ بچار اور تیاری کے بعد ہوا ہے۔”جمہوریت“ کی ڈولتی کشتی کے ناخدا اب شہباز شریف بن چکے ہیں۔ اُمید ہے ان کی فراست اس کشتی کو بھنور سے باہر نکال کر پُرسکون پانیوں میں رواں کردے گی۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے