کیوں نکالا کا جواب

کمرہ عدالت کا ماحول بالکل مختلف تھا، کانوں میں سرگوشیاں جاری تھیں، سوال اٹھ رہے تھے، کسی نے کہا فرد جرم عائد ہوکے رہے گی، کوئی نواز شریف فیملی کے وکلاء کی اگلی چال جاننے کو بے چین تھا، ایسے میں دروازہ کھلا،سلام کی دھیمی آواز سنائی دی، مریم نواز اکیلی کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں، اپنی نشست پر پہنچیں تو حاضرین کو پھر سے سلام کیا اور بیٹھ گئیں، ہاتھوں میں فینسی کاونٹر تھامے ملسل ورد کرتی رہیں، جج کی موجودگی کے باوجود سرگوشیاں جاری تھیں کہ فاضل جج نے پوچھا وکلاء کیوں نہیں آئے، آصف کرمانی نے بتایا راستے میں ہیں، اور ساتھ ہی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی پہنچ گئے، کچھ دیر گزری وکلاء کی آمد ہوئی، سوچا اب تو تھوڑا انتظار ہے فرد جرم عائد کردی جائے گی، مگر وکیل صفائی نے ٹرائل روکنے کی درخواست کردی، دلائل ہوئے، نیب پراسیکوشن ٹیم نے جواب دیا، فیصلہ محفوظ ہوا، عدالت نے حکم سنایا پندرہ منٹ بعد سماعت ہوگی، مجھ سمیت سب رپورٹز خبر پہلے لکھوانے کی دوڑ میں باہر بھاگے، کیپٹل ٹی وی کی رپورٹر کو ٹیکرز تھمائے اور کہا سہیل رشید کو دیے دیجیے گا، خود واپس کمرہ عدالت میں آن کھڑا ہوا،مریم نواز عابد شیر علی کیساتھ گفتگو میں مصروف تھیں، دل میں پہلا خیال آیا مریم نواز کا انٹرویو کرلیا جائے، اپنے منصوبے کو عملی جاما پہنایا اور مریم نواز کو سلام کے بعد اپنا تعارف کروایا، انہوں نے سماء سے متعلق گلہ کیا، اور مین نے پہلا سوال داغ دیا، جواب دینے کی بجائے انہوں مجھ سے پوچھا میڈیا کیا خبریں چلا رہا ہے، اپنا موبائل دکھایا اور بولیں دیکھیں ایک چینل پر کیا چل رہا ہے، دیکھا تو حیران ہوا واقعی مریم نواز نے یہ نہیں کہا تھا اصل ڈان تو میڈیا ہے، ڈان اخبار کے رپورٹر ان کے قریب کھڑے تھے، مریم نواز نے پوچھا یہ کون ہیں، جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے بتایا ڈان اخبار سے تعلق ہے، مریم نواز مسکرائیں اور کہا اصل ڈان تو پھر یہ ہوئے، سیسلین مافیا اور ڈان مافیا نے بھی کبھی پیشیاں بھگتیں، قہقہ لگا اور بات ختم ہوگئی، مگر کچھ دوستوں نے خبر چلا دی جس پر انہوں نے گلہ کیا، اور پوچھا آپ نے کیا سوال کیا تھا، میں نے سوال دہرایا تو جواب ملا سیاست میں آبھی گئی ہوں اور نہیں بھی، میرے پوچھنے پر بولیں عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہوں مگر حتمی فیصلہ تو پارٹی کرے گی، پارٹی نے ذمہ داری ڈالی تو ذمہ داری این اے ایک سو بیس کی طرح نبھاوں گی، ٹھیک اسی طرح جیسے میڈیا کنڑول کرنے کی لگائی گئی تھی، سوال کے جواب میں بولیں بعض اوقات زندگی مشکل ہوجاتی ہے مشکلات سے انسان نکھر جاتا کیونکہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا نام ہے، ایسے میں جج کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو یہ انٹرویو اس وعدے کیساتھ ختم ہوا کہ پھر کبھی وقت ملا تو تفصیلی بات ہوگی، عدالت نے درخواست مسترد کی تو وکلاء نے ٹرائل پر حکم امتناع کی درخواست دائر کردی، اس پر گرما گرم بحث ہوئی، دلائل مکمل ہوئے، باہر گئے تو ساتھی رپورٹرز نے پوچھا فرد جرم عائد ہوگئی، بتایا ایک اور درخواست دائر ہوگئی، سماعت دوبارہ شروع ہوئی عدالت نے درخواست خارج کی تو فوری تیسری درخواست دائر کردی گئی، دلائل لمبے ہوئے کمرہ عدالت میں موجود رپورٹرز کی ٹانگیں جواب دے گئیں، سب نیچے ہی بیٹھ گئے، منظر کچھ ایسا بنا جیسا لاہور میں ضمنی انتخاب کے بعد مریم اورنگزیب کی نیچھے بیٹھنے کی تصویر وائرل ہوئی تھی،بھلا ہو جج صاحب کا جنہوں نے سماعت میں پھر پانچ منٹ کا وقفہ کردیا ، خیر وقت گزرا سوچا ایک اور درخواست دائر ہوگی، مگر عدالت نے مریم نواز، کیپٹن صفدر اور نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی، الزامات پڑھ کرسنائے، جسے انہوں نے مسترد کردیا اور کہا تاریخ ایسے انصاف کو مذاق طور پر یاد رکھے گی، مریم نواز چلی گئیں ، تاہم ہل میٹل ریفرنس میں نواز شریف پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے دو بجے کا وقت طے پایا، پھر سے عدالت لگی نواز شریف کو وہ تمام الزامات بتائے گے جس کا وہ اکثر اپنی تقاریر میں پوچھتے رہتے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا ، انہیں بتایا گیا آپ پر الزام ہے آپکے اثاثے آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے، بچوں کے نام پر بے نامی اثاثے بنائے، آپ ہی کو بچوں نے کروڑوں روپے کے تحائف دیے، آپ ہی کی گلف اسٹیل مل فروخت کرنے کا معاہدہ جعلی ہے، آپ ہی پر الزام ہے لندن میں غیر قانونی اثاثے بنائے، ایک ایک کرکے تمام الزامات گنوائے تو انکے نمائندے نے سب الزامات کو من گھرٹ اور بے بنیاد قرار دے دیا، اور مسترد کرتے ہوئے صحت جرم سے انکار کردیا، انکار پر عدالت نے گواہوں کو طلب کرلیا، نواز شریف نے نمائندے کے ذریعے کہاآئین پاکستان شفاف ٹرائل کا حق فراہم کرتا ہے، خاص طور پر اس کیس میں نگران جج تعینات کرکے شفاف ٹرائل کا حق چھینا گیا، تاریخ ایسے انصاف کو مذاق کے طور پر یاد رکھے گی، وہ ٹرائل کا سامنا کریں گے اور الزامات کیخلاف دفاع کریں گے، فرد جرم عائد کردی گئی، گواہ بھی طلب ہوگئے،باضابطہ ٹرائل بھی شروع ہوگیا، مگر بات سوچنے کی تھی جب نواز شریف پر فرد جرم عائد کی جارہی تھی تو اس وقت نہ تو ان کا کوئی وکیل موجود تھا، نہ ہی کوئی لیگی رہنما کمرہ عدالت میں نظر آیا، مریم نواز آئیں تو پوری لیگی قیادت عدالت اور احاطہ عدالت میں موجود تھی، شاید انہیں خبر ہے مستقبل کی رہنما مریم نواز ہیں، اس لیے انکے سامنے رہنے میں ہی انکا فائدہ ہے، وقت بھی کیا گھن چکر ہے، وہ نواز شریف جو اس ملک کے سیاہ سفید کا مالک تھا، آج کٹہرے میں کھڑا ہے، کہتے ہیں اقتدار ملتا ہے تو انسان کو مست کردیتا ہے،شاید اقتدار کا نشہ ہی کچھ ایسا ہے، جسے اسے نشے کی لت نہ پڑی وہ تو بچ گیا، جو مدہوش ہوگیا اسے ایک دن عدالتی کٹہرے میں لاکھڑا کرتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے کل کا حاکم اور آج کا ملزم!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے