بحریہ ٹاﺅن کا مقدمہ کیسے چلتا ہے

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ اس میں کل سترہ جج بیٹھتے ہیں جن میں ایک چیف جسٹس بھی شامل ہے۔
یہ اتنے طاقت ور لوگ ہیں کہ کسی آئین و قانون اور مقرر کردہ معیارات کی پروا کیے بغیر ملک کے چیف ایگزیکٹو کو گھر بھیج سکتے ہیں، کسی بڑے سے بڑے افسر مثلا چیئرمین نیب کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں، اور سیکرٹری ٹائپ افسر تو ان کے منہ سے نکلے دو جملوں کی مار ہیں۔ مگر خاکی وردی والے کسی سپاہی کا کیس آ جائے تو یہ گونگے شیطان بن جاتے ہیں، اور اگر ملک کے سب سے بڑے قبضہ مافیا ڈان کا مقدمہ لگ جائے تو عدالت میں موجود افراد کیلئے مزا دوبالا ہو جاتا ہے۔
گزشتہ سات برسوں سے ریاض ٹھیکیدار کے کئی مقدمات ملک کی سب سے بڑی عدالت میں زیرالتواء ہیں، ستمبر دوہزار پندرہ میں ایک مقدمے کا فیصلہ اس وقت کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے دیا۔ اب اس پر نظر ثانی اپیل دائر ہوئی، عمل درآمد آج تک اس پر بھی نہیں ہوا۔ جس دن وہ فیصلہ آیا تھا اسی رات دنیا ٹی وی کے پروگرام میں شامی اور جامی نامی اینکروں نے ٹھیکیدار کے منشی کرنل کو فون لائن پر لے کر جسٹس جواد کو توہین مذہب کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کی تھی کیونکہ اس دن سپریم کورٹ میں نماز جمعہ کے وقفے کے دوران بھی مقدمے کی سماعت ہوئی تھی۔
جسٹس جواد کی ریٹائرمنٹ کے بعد بحریہ ٹاﺅن کے دیگر مقدمات ڈیڑھ برس بعد سماعت کے لیے مقرر ہوئے۔ وجہ شاید اس کی یہ بھی ہوکہ جمالی صاحب کمزور اعصاب کے مالک چیف جسٹس تھے۔ اور سپریم کورٹ کے کئی ریٹائرڈ ججوں نے ٹھیکیدار کی سوسائٹی میں سکونت بھی اختیار کر رکھی ہے۔
بہرحال ان سطورمیں آج ہم تازہ سماعت کا احوال بتاتے ہیں۔ بحریہ ٹاﺅن کراچی کیلئے ہزاروں ایکڑ زرداری حکومت کی جانب سے تحفہ دیا گیا اور ہزاروں ایکڑ پر ٹھیکیدار کے کارندوں نے دھونس دھاندلی سے قبضہ کرلیاہے۔ اس کے خلاف درخواست کی سماعت وکیل کے نہ آنے سے ملتوی کردی گئی، اور ایسا گزشتہ پانچ سماعتوں سے ہورہاہے۔
بحریہ ٹاﺅن اسلام آبادکی زمین قبضے کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے وکیل اعتزاز احسن، علی ظفر اور دیگر ٹھیکیدار کی نمائندگی کرتے ہیں اور عدالت پر رعب جھاڑتے رہتے ہیں۔ عدالت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد عبدالرﺅف نے بتایاکہ ہائیکورٹ نے بھی بحریہ ٹاﺅن کے قبضے میں لی گئی زمین کی نشاندہی کا حکم دیاتھا مگر سروے آف پاکستان ایسا کرنے میں ناکام رہا، اس کی وجوہات بھی تاحال معلوم نہیں ہوسکیں۔ وکیل اعتزاز بولے کہ میں نے ایک متفرق درخواست دے رکھی ہے، بحریہ ٹاﺅن کو اس کیس سے الگ کیا جائے کیونکہ حالیہ سروے رپورٹ کے مطابق ہمارے قبضے میں جو نو ایکڑ سے زائد زمین دکھائی گئی ہے اس کے متبادل زمین ہم نے محکمہ جنگلات کو واپس کردی ہے۔ ہم نے قبضہ میں لی گئی زمین رکھ لی ہے اور تخت پڑی میں بحریہ کی زمین جنگلات کو تبادلے میں دیدی ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے پوچھاکہ کس نے اور کیسے یہ پراپرٹی کا تبادلہ کیا؟۔ محکمہ جنگلات کو ایسا کرنے کی اجازت کس نے دی کہ تبادلہ کرے؟۔ اعتزاز بولے کہ یہ ساری باڑ تھی، یہ کوئی جنگل نہ تھا، درخت نہیں تھے، جھاڑیاں تھیں۔جنگلات کی زمین بحریہ کے پاس نکل آئی، بحریہ کی زمین جنگلات کے پاس تھی، کوئی باقاعدہ حدود کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی، اب تعمیرات ہوگئی ہیں اس لیے تبادلہ کیا۔ وزیراعلی نے اس علاقے میں صحافیوں کو بھی زمین دی ہے اور ان کی بھی سوسائٹی بنی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ وزیراعلی نے اعلان کردیا اور زمین مل گئی، جب زمین وفاق کی ہے تو پنجاب کا وزیراعلی کیسے دے سکتاہے؟۔ ( جج صاحب کو درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کہنا پڑا، اس کیلئے پنجاب اسمبلی سے قانون منظور کرکے تین شہروں میں میڈیا ٹاﺅن بنائے گئے)۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ کیا چیف منسٹر کو کسی نے نہیں بتایا کہ یہ وفاق کی زمین ہے انہوں نے بحریہ ٹاﺅن سے تبادلے کی اجازت کیسے دیدی؟۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہاکہ سی ڈی اے نے کہاتھامگر کسی نے توجہ نہ دی۔ اس وقت محکمہ جنگلات کے پاس لوہی بھیر کے اس علاقے میں چار سو ساٹھ ایکڑ زمین رہ گئی ہے، اس کی دیکھ بھال ممبر فارسٹ کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ کوئی بھی شخص یہاں کا مستقل رہائشی نہیں، سب کچھ ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اس میں سے کون سا علاقہ راول پنڈی میں ہے اور کون سااسلام آباد میں آتاہے؟۔ساری دنیا میں دارالحکومت کی حدود واضح ہوتی ہیں، یہاں کوئی نشاندہی نہیں کی گئی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ اس پورے علاقے میں تعمیرات ہوچکی ہیں، تخت پڑی کا جنگل راول پنڈی جبکہ لوہی بھیر کا اسلام آباد میں آتاہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ اس معاملے میں چیئرمین سی ڈی اے کو بھی سننا چاہیں گے۔
وکیل اعتزاز احسن ایک بار پھر بولے کہ جناب ، بحریہ ٹاﺅن کو اس معاملے سے الگ کردیا جائے کیونکہ ہم نے ساڑھے نو ایکڑ قبضے کی زمین تبادلے میں دوسری جگہ واپس کردی ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ سوال یہ ہے کہ وفاق کی یہ زمین پنجاب حکومت کیسے تبادلہ کرسکتی ہے؟۔ اورمحکمہ جنگلات کی زمین ہے تو کسی اور کو ایساکرنے کا اختیار کس نے دیا؟۔ اعتزا ز احسن نے کہاکہ بحریہ ٹاﺅن نے اچھی نیت کے ساتھ تبادلہ کرکے زمین واپس کی دوسری کسی سوسائٹی نے قبضے کی زمین واپس نہیں کی۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ کوئی بھی سرکاری زمین کسی مقصد کیلئے مختص ہوتی ہے تو اس کا باقاعدہ نوٹی فیکیشن ہوتا ہے کہ یہ جنگلات کی ہے یا کسی اور سرکاری مصرف میں ہے۔ حکومت پنجاب کے وکیل نے کہاکہ ہمارے علاقے میں موجود زمین کے نوٹی فیکیشن موجود ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ دارالحکومت کے پاس سرکاری کاغذات میں ساڑھے تین سو میل کا علاقہ ہے، اس کی حدود کیوں متعین نہیں ہوئیں؟۔ اس کا کوئی نقشہ کیوں عدالت کوفراہم نہیں کیا گیا، سروے آف پاکستان بتائے اس نے اس حوالے سے کیا کیاہے؟۔ سرکاری ریکارڈ میں یہ تمام چیزیں دستیاب ہوں گی کہ کون سا علاقہ کس مقصد کیلئے ہے، وہ ریکارڈ کہاں ہے پیش کیا جائے۔ ہم تمام نقشے دیکھنا چاہیں گے۔
عدالت نے پوچھا کہ اسلام آباد کے محکمہ مال نے تو رپورٹ پیش کردی ہے کہ کس کے قبضے میں کتنا علاقہ ہے مگر راولپنڈی کی رپورٹ کب آئے گی؟۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس نے بتایاکہ سروے آف پاکستان اور محکمہ مال کا کہنا ہے کہ راول پنڈی میں بحریہ ٹاﺅن اور جنگلات کی زمین کاسروے کرنے پر مزید دوماہ لگیں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ یہ حکم دوسال پہلے دیا گیاتھا، اور گزشتہ سماعت بھی چھ ماہ قبل ہوئی تھی، اب مزید دوماہ میں تو پورے پاکستان کی زمین کا سروے کیا جاسکتاہے۔
عدالت کو بتایاکہ ان زمینوں کے کئی مقدمات ماتحت عدالتوں میں برسوں سے زیرسماعت ہیں۔ تقریبا پچپن ایسے موضعات ہیں جن کے جڑواں شہروں میں تقسیم کے معاملات زیر التواء ہیں۔ عدالت نے حکم دیاکہ چیئرمین سی ڈی اے ان تمام معاملات کو دیکھ کر تفصیلی رپورٹ دیں، ممبر ایڈمنسٹریشن بھی معاملے کا جائزہ لے کرعدالت کو آگاہ کریں، بتایا جائے کہ وفاق نے اس زمین کے حصول کیلئے کیا اقدامات کیے، سروے آف پاکستان رپورٹ اور نقشے پیش کرے جس میں دونوں شہروں کی حدود کا تعین کیا گیا ہو ۔

متعلقہ مضامین