مریم نواز کے مکھی مار انکل

منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے افراد کے لیے عدالت میں پیش ہونا زندگی کا انوکھا تجربہ ہوتا ہے، مغربی معاشرے میں یہ کچھ زیادہ انوکھی بات نہیں مگر پاکستان جیسے ملک میں حکمران خاندان کے افراد کے لیے عدالتی کمرے میں گھنٹوں بیٹھے رہنا کوئی آسان کام نہیں_ ماضی میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو اپنے والد اور پھر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹتی رہیں _

اب مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی بیٹی مریم نواز عدالت کے کٹہرے میں ہیں مگر وہ لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے آگے پیچھے وکیلوں کے علاوہ پارٹی رہنماؤں کی بھی فوج ہاتھ باندھے کھڑے رہتی ہے _ ان میں سے بہت سے ‘انکل’ مریم نواز کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے ہیں، احتساب عدالت میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ایسے بہت سے دلچسپی کے سامان لیے واقعات روز پیش آتے ہیں، آج آپ کو ایک واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں _

انیس اکتوبر کی صبح کا سورج طلوع ہوا تو گھر سے ناشتہ کرکے نیب عدالت اسلام آباد چلا گیا کیونکہ ادارے کی جانب سے ڈیوٹی لگائی گئی کہ میاں صاحب، مریم اور ان کے شوھر پر فرد جرم عائد ہونی ہے،  لہذا کمرہ عدالت میں رہ کر کوریج کرنی ہے۔
سیکیورٹی کلیئر کرکے نیب عدالت کے کمرے میں پہنچا تو وہاں نظارہ ہی کچھ الگ تھا کیونکہ ایک رات پہلے ہی چند ٹی وی رپورٹرز نے انتظامیہ سے مل کر من پسند 15 دوستوں کے نام دیئے تھے کہ وہ ہی کمرہ عدالت میں جاکر کارروائی کور کرینگے۔ ان دوستوں نے مجھ سمیت بہت سے رپورٹرز کے نام نہیں دیئے تھے اس وجہ سے ان پر ان کی عدم موجودگی میں غصہ نکالا جارہا تھا۔ لیکن میں کوشش کرکے کمرہ عدالت تک جا پہنچا۔
مریم نواز پہلے اور کیپٹن صفدر بعد میں کمرہ عدالت پہنچے۔ سماعت شروع ہوئی تو مریم نواز کے وکیل خواجہ حارث کے جونیئر وکیل ظافر خان نے فائل سے ایک درخواست نکالی کہ فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔ جس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے، پھر نیب عدالت کی کارروائی  روکنے کیلئے حکم امتناع کی درخواست دی، عدالت سے دونوں مسترد ہوئیں۔ پھر ایک اور درخواست دی گئی کہ تینوں ریفرنسز کو ایک ساتھ یکجا کرکے سنا جائے وہ بھی مسترد ہوگئی ۔
عجیب منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب مریم نواز اپنے شوھر کیپٹن صفدر اور آصف کرمانی کے ساتھ سائلین کی نشست پر بیٹھے تسبیح پھیرتے اللہ کو یاد کر رہی تھیں کہ اچانک ان کی پیٹھ پر ڈان لیکس کے کردار طارق فاطمی نے وزٹنگ کارڈ ھولڈر تین بار مارا۔ جس سے مریم نواز خوفزدہ ہوکر سیٹ سے کھڑی ہو گئیں تو طارق فاطمی نے مریم سے کہا پریشان نہ ہوں میں نے آپ کی پیٹھ پر بیٹھی مکھی ماری۔ مریم نے جواب میں انگریزی میں کہا i thought you are beating me۔ اس دوران کیپٹن صفدر اور آصف کرمانی نے مریم کو سیٹ پر بٹھا دیا۔
طارق فاطمی کی اس شرارت سے پہلے اسی مکھی کو جس کو طارق فاطمی نے مارا دانیال عزیز جو پچھلی سیٹ پر براجمان تھے ھاتھ سے کئی بار ھٹانے میں کامیاب رہے تھے لیکن مکھی کی موت طارق فاطمہ کے ھاتھوں ہونی تھی وہ ہو کر رہی –

ایسے انکلز سیاست سمیت ہر شعبے میں میسر ہیں، اللہ ان کا سایہ مریم اور بلاول سمیت سب کے سروں پر قائم رکھی تاکہ پاکستان میں رونق لگی رہے _

متعلقہ مضامین