ردالفساد ہو گیا

ملک تو جنرل باجوہ صاحب کے ارشاد کے مطابق "آئین وقانون کے اصل راستے پر چل پڑا ہے” اس لئے یہ بات تو ذہن میں ہی نہ لائیے کہ مجیب الرحمن شامی کے پروگرام "نقطہ نظر” کی بندش آزادی اظہار کا گلہ گھونٹنے کی غرض سے ہوئی ہوگی۔ "اصل حقیت” کچھ یوں ہے کہ ایک دن شامی صاحب اپنے پروگرام کے سیٹ پر چاقو لے آئے، ان کے میزبان نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو فرمانے لگے

"دونوں بھائی بریک کے دوران سیب کاٹ کر کھائیں گے، حکماء روز ایک سیب کھانے کی تلقین کرتے ہیں”

میزبان چپ کر گئے۔ اگلے دن وہ پستول لے آئے۔ میزبان نے پوچھا

"شامی صاحب ! کیا اس سے دونوں بھائی اخروٹ توڑ کر کھائیں گے ؟”

فرمایا

"نہیں ! ناریل پانی کو جی کر رہا ہے، ناریل آنے والے ہیں اس میں سراخ کے لئے پستول سے بہتر کچھ نہیں، ادھر ٹریگر کھینچا، ادھر سوراخ ہو گیا”

"لیکن شامی صاحب ! سوراخ تو دونوں جانب ہوگا، پانی کہاں بچے گا ؟”

"برخوردار گھبرایئے مت، یہ درہ آدم خیل کا پستول ہے، اس کی گولی داخل تو ہوجاتی ہے مگر پار نہیں ہوتی”

میزبان یہ سوچ کر چپ کر گیا کہ بزرگ دانشور ہیں کہیں بے ادبی نہ ہوجائے۔ اگلے روز تو حد ہی ہوگئی۔ شامی صاحب توپ لے کر سیٹ پر آگئے۔ دنیا ٹی وی کے ہیڈ آفس میں ایسی دہشت مچی کہ اکثریت بلڈنگ سے باہر چلی گئی۔ میزبان نے کانپتے ہوئے پوچھا

"شامی صاحب ! یہ کیا ہے ؟”

"برخوردار یہ نقطہ نظر ہے”

"خدا کا خوف کیجئے شامی صاحب ! یہ کیسا نقطہ نظر ہے ؟”

"برخوردار یہی تو وہ نقطہ نظر ہے جو اس ملک میں سب سے زیادہ چلتا ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا محاورہ پرانا ہوا، اب محاورہ ہے "جس کی توپ اس کا ملک”

یہ کہہ کر شامی صاحب نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور گولے نکالنے شروع کردیے۔ چینل کے مالک میاں عامر بم پروف لباس پہن کر پاس ہی کھڑے تھے۔ انہوں نے پوچھا

"شامی صاحب ! کیا کرنے لگے ہیں ؟”

شامی صاحب نے مولانا ظفر علی خان کا مشہور شعر سنا دیا

خاک ارض پاک سے ایسے اٹھاؤں گا شہید
جن کے مدفن کو زمینِ کربلا دینی پڑے

میاں عامر اس دہشت انگیز ماحول میں یہ خوفناک شعر سن کر سیدھا شامی صاحب کے قدموں پر گر گئے اور منت سماجت شروع کردی۔ شامی صاحب بولے

"گھبرایئے مت میاں ! اس چھوٹی سی بلڈنگ میں 21 توپیں آ نہیں سکتی تھیں سو میں توپ تو ایک ہی لے آیا لیکن گولے پورے 21 لایا ہوں”

"لیکن آپ نے کرنا کیا ہے اس سب کا ؟”

شامی صاحب نے انگلی سے عینک ناک کے سرے تک کھسکائی اور اس کے اوپر سے میاں عامر کو دیکھتے ہوئے فرمایا

"آئین و قانون کی عملداری کو 21 توپوں کی سلامی پیش کرنے لگا ہوں”

مالک کا فضل و احسان کہ شامی صاحب کو اپنی حسرت پوری کرنے کا موقع نہ مل سکا، قانون نافذ کرنے والے پہنچ گئے اور "ردالفساد” ہوگیا !

متعلقہ مضامین