ریاست کے اندر ریاست

عباس اطہر مرحوم کی لگائی ”اُدھر تم اِدھر ہم“ کے علاوہ بھی ہمارے اخبارات میں چھپی کئی شہ سرخیاں ہیں جو میرے ذہن پر نقش ہو چکی ہیں۔ اکثر یاد آ کر کبھی حیران، اکثر پریشان اور بسا اوقات مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ ایک سرخی مگر ایسی بھی ہے جو یاد آتی ہے تو سمجھ نہیں آتی کہ اس کے بارے میں کیا محسوس کیا جائے۔ اگرچہ وہ سرخی کئی حوالوں سے ایک خاص تاریخی پسِ منظر میں بے بسی اور خود ترحمی کا بھرپور اظہار تھی۔
1979ءکے مارچ کے آخری ایام تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ نے پھانسی کی جو سزا سنائی تھی اسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کے علاوہ ہمارے لوگوں کی اکثریت کو یقین تھا کہ ”اصول پسند“ اور سخت گیر جنرل ضیاءپھانسی کی اس سزا پر عمل درآمد کروائیں گے کہ تاکہ اس ملک ِخداداد میں قانون سب کے لئے برابر نظر آئے۔ انصاف کا بول بالا ہو۔
ذوالفقار علی بھٹو عالمی اعتبار سے ایک جانی پہچانی شخصیت تھے۔ خارجہ امور کو بہت مہارت اور ذہانت سے ڈیل کرنے والے بھٹو کے عالمی برادری میں بے شمار دوست اور بہی خواہ بھی تھے۔ ان سب نے یکے بعد دیگرے موقع کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سفارتی ذرائع کے بجائے اخباری بیانات کے ذریعے جنرل ضیاء سے بھٹو کے لئے رحم کی اپیلیں کرنا شروع کر دیں۔ بھارت میں مرارجی ڈیسائی کی حکومت اس ضمن میں البتہ بالکل خاموش رہی۔ ڈیسائی کو جنرل ضیاءکا دیا ”نشانِ پاکستان“ والا اعزاز کام آ گیا۔
عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو ہمارے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملات کے ساتھ جوڑنے میں بھٹو صاحب نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے جیالوں کو قوی امید تھی کہ چینی قیادت نے اصرار کیا تو ان کے لیڈر کی جان بخشی ہوجائے گی۔ چین اس معاملے میں لیکن بالکل خاموش رہا۔ ڈینگ سیاﺅپنگ نے البتہ امریکی صدر کارٹر کے مشیر برائے قومی سلامتی برزنسکی کو ایک موقع پر سفارتی زبان میں ٹھوس اشارے دئیے کہ اگر امریکہ ضیاء کو بھٹو کی جلاوطنی پر آمادہ کر لے تو چین بھٹو کو اپنے ہاں رکھنے کو تیار ہے۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ یہ تجویز ڈینگ سیاﺅپنگ نے کسی باقاعدہ سفارتی ملاقات میں پیش نہیں کی تھی۔ وہ بزرنسکی کے ساتھ کار میں بیٹھے چینی دارالحکومت میں منعقد ہوئی ایک ضیافت کے لئے جارہے تھے۔ راستے میں ایک محل نما مکان آیا۔ اس کا اندازِ تعمیر دیکھ کر برزنسکی حیران ہوا۔ اپنے میزبان سے اس کی بابت پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ وہ مکان چین کے قدیم ترین شاہی گھروں میں سے ایک ہے۔ کمبوڈیا کے سہانوک کو جب اپنا ملک چھوڑ کر چین میں پناہ لینا پڑی تو اس محل کو اس کی اصل حالت میں بحال کر کے کمبوڈیا کے شہزادے کی رہائش کے لئے وقف کر دیا گیا۔
بزرنسکی کو اس کے بعد بتایا گیا کہ ان دنوں یہ محل خالی ہے۔ امریکہ اگر جنرل ضیاء کو ذوالفقار علی بھٹو کی جلاوطنی پر آمادہ کرلے تو یہ محل ان کی رہائش کے لئے وقف کیا جا سکتا ہے۔ خبر رہے کہ یہ تجویز چینی حکومت نے پاکستانی حکام کو باقاعدہ طورپر پیش نہیں کی تھی۔ امریکہ کے ذریعے ضیاء کو بھٹو کی جلاوطنی کی تجویز سفارت کارانہ مہارت کے ساتھ پیش کی گئی۔
بہرحال اپریل 1979ء شروع ہو گیا۔ جنرل ضیاء نے واضح انداز میں یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہر صورت عمل درآمد کرے گا۔ ان دنوں رحم کی اپیلوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس طلب ہوا۔ کئی گھنٹوں کے ”غور“ کے بعد اس میں کئی فیصلے لئے گئے۔
اس اجلاس کے دوسرے دن البتہ ہمارے اُردو اخبارات کے صفحہ اول پر شہ سرخی تھی۔”پیارے چیئرمین کھانا کھا لیں“۔ اس سرخی کا پس منظر یہ ہے کہ بھٹو صاحب کو دانتوں میں شدید درد ہورہا تھا۔ وہ اپنا علاج صر ف ڈاکٹر ظفر نیازی مرحوم سے کروانا چاہ رہے تھے جو ان کے دانتوں کے پرانے معالج تھے۔ ضیاء حکومت کو مگر شبہ تھا کہ ظفر نیازی، بھٹو صاحب کے دانت دیکھنے کے ”بہانے“ جیل جاتے ہیں تو ان کے پیغام رساں بن جاتے ہیں۔ انہیں اجازت نہ ملی۔ بھٹو صاحب نے احتجاجاََ کھانا چھوڑ دیا۔ ان کی ”انقلابی“ جماعت کی سنٹرل کمیٹی آفتوں کے اس موسم میں ایک باقاعدہ قرارداد کے ذریعے اپنے محبوب چیئرمین سے مذکورہ درخواست کرنے کی بجائے اور کچھ نہ کر پائی۔
ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ مگر فوج نے الٹا تھا۔ وہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد جیل کی کال کوٹھڑی میں پھانسی کے منتظر تھے۔ ان کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو ٹکٹکی کے ساتھ باندھ کر کوڑے لگائے جاتے تھے۔ نواز شریف اور ان کے حامیوں کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ پانامہ کا قصہ چھڑا۔ نواز مخالف سیاست دانوں نے اسے اچھالا۔ معاملہ سپریم کورٹ کے روبرو لے گئے۔ روزانہ کی سماعتوں کے بعد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا گیا۔
ان کی نااہلی کے باوجود شاہد خاقان عباسی نواز شریف کی نامزدگی کی بدولت وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انہوں نے نارووال کے راجپوت احسن اقبال کو وزارتِ داخلہ کے منصب پر بٹھایا۔ اگرچہ اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال بھی اچانک چمک اُٹھا ہے کہ مسلم لیگ (ن) وزارتِ داخلہ راجپوتوں ہی کے سپرد کیوں کرتی ہے۔ اس سوال کو اپنی پھکڑپن کی عادت پر قابو پانے کے لئے مگر نظرانداز کرنا ہو گا۔
احسن اقبال بہرحال خود کو ایک ”دبنگ“ وزیر ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ چند روز قبل احتساب عدالت کو رینجرز کے ”نرغے“ سے آزاد کروانے گئے تھے اور ”ریاست کے اندر ریاست“ کی دہائی مچاتے گھر لوٹ آئے۔ اس کے بعد DG-ISPR کے پاکستانی معیشت کے بارے میں تبصروں کو بھی انہوں نے ٹویٹس کے ذریعے Reject کیا۔
ان دنوں مگر ان کا پنجابی محاورے والا”چا“ اترا ہوا لگ رہا ہے۔ کونے میں بیٹھ کر دہی کھاتے نظر آتے ہیں۔ کم از کم دو رپورٹروں نے اپنی اخبارات کے لئے لکھی خبروں میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے دورہ ترکی سے قبل اسحاق ڈار، خواجہ سعد رفیق اور احسن اقبال کے ہمراہ اسلام آباد کے پنجاب ہاﺅس جاکر چکری کے راجپوت سے اسرارِ حکمرانی سیکھنے کے لئے ایک ملاقات کی۔ یہ ملاقات وزیراعظم ہاﺅس میں اس لئے نہ ہو پائی کیونکہ چودھری نثار علی خان اپنی فراست کے موتی وہاں بکھیرنے کو تیار نہیں تھے۔ احسن اقبال صاحب نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے اگرچہ پنجاب ہاﺅس میں ایسی کسی ملاقات کی تردید کی ہے۔
دریں اثناء FIA نام کا ایک ادارہ ہوتا ہے۔ سنا ہے یہ وزارتِ داخلہ کی ”ماتحتی“ میں کام کرتا ہے۔ اس ادارے نے کچھ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر عدلیہ اور افواج پاکستان کے خلاف مبینہ طور پر”توہین آمیز“ ٹویٹس لکھنے کے الزام میں ”اٹھا“لیا۔ یہ نوجوان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جیالے سمجھے جاتے ہیں۔ جیالوں اور متوالوں کو ریاست اکثر نظر انداز کردیا کرتی ہے۔ ورنہ سوشل میڈیا ہی نہیں لائسنس یافتہ ٹی وی چینلوں پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور نواز شریف اور مریم نواز کے بارے میں جو زبان مسلسل استعمال کی جا رہی ہے وہ ہرگز دیکھنے اور سننے کو نہ ملتی۔
FIA کی Monitoring کافی سخت مگر Selective ہے۔ میں یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ احسن اقبال جیسا Hands On وزیر اس ادارے کی پھرتیوں کے بارے میں لاعلم ہے۔ حاسدوں کو شبہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ FIA کی ایسی پھرتیوں کے ذریعے ناروال کے راجپوت اب ”ریاست کے اندر ریاست“ والے کلمات ادا کرنے کا کفارہ دے رہے ہیں۔
حقیقت کچھ بھی رہی ہو۔ اتوار کی صبح آنکھ کھلی تو سرہانے رکھے اخباروں میں اپنا ”نوائے وقت“ اٹھایا۔ ”مخالفانہ سیاسی نقطہ نظر جبراً دبانا قابلِ مذمت ہے: نواز شریف“۔ ہمارے اخبارکی شہ سرخی تھی۔ جانے کیوں اسے دیکھ کر مجھے اپریل 1979ءمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کی جانب سے ”پیارے چیئرمین کھانا کھا لیں“ والی فریاد یاد آگئی۔
نواز شریف کی جانب سے جاری شدہ مذمتی بیان بہت ہی قابلِ مذمت ہے کیونکہ یہ ایسے رہ نماکی جانب سے جاری ہوا ہے جس کے نامزد کردہ شخص شاہد خاقان عباسی پر ان دنوں اس ملک کے ”چیف ایگزیکٹو“ ہونے کا الزام بھی ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے