ن لیگ کیلئے بڑا خطرہ

اس ویک اینڈ میرے غریب خانے پر ایک چھوٹی سی مجلس جمی۔ سپریم کورٹ سے آف شور کیسز کی رپورٹنگ والے وحید مراد، آف شور تعلیم والے ثاقب ملک اور آف شور بیگم والے اسرار احمد تشریف لائے تھے۔ سیاست میں فوجی مداخلت اور اس پر میرا سخت موقف زیر بحث آیا تو وحید نے چٹکی بھرتے ہوئے کہا، "چند سال قبل جب میں فوج پر تنقید کرتا تھا تو یہ اس کا دفاع کیا کرتے تھے، ایک بار میرے فوج مخالف کمنٹ پر مجھے وارننگ بھی دی” وحید کی چٹکیاں پر لطف ہوتی ہیں سو لطف تو میں نے اس کا لیا لیکن ساتھ ہی یہ بات واضح کردی کہ فوج پر تنقید کرنے والے دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ ہیں جو فوج کا بطور ادارہ احترام کرتے ہیں، اس کے پروفیشنل امور زیربحث ہوں تو اس کی ڈٹ کر حمایت کرتے ہیں لیکن اگر کبھی ایسا واقعہ پیش آجائے جس میں فوج کی غفلت ظاہر ہو جیسے ایبٹ آباد آپریشن، یا فوج کی سیاست میں مداخلت نظر آئے تو پھر فوج پر اس حوالے سے تنقید بھی جم کر ہی کرتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو فوج سے بطور ادارہ ہی نفرت کرتے ہیں، آپ ان کے سامنے کسی جائز حوالے سے بھی فوج کی تعریف کردیں تو وہ آپے سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ یہ لوگ ایشو ٹو ایشو کا اصول پیش نظر رکھ کر تعریف یا تنقید کی سوچ نہیں رکھتے۔ ان کے ہاں فوج کے لئے تنقید کے سوا کچھ نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس کے جوانوں کی شہادت میں بھی خود اسی کا ہاتھ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طبقہ پہلے صرف لبرلز میں پایا جاتا تھا اب ان مذہبی عناصر میں بھی دیکھا جا رہا ہے جو ٹی ٹی پی کی فکر سے قریب ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ رویہ انتہاء پسندی کے سوا کچھ نہیں۔ میری وال خود گواہی دے سکتی ہے کہ میں ان دو میں سے کس طبقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے وحید سے پوچھا، سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن جاری ہے، لوگ غائب کئے جا رہے ہیں جبکہ سب سے سخت تنقید فوج پر میں کر رہا ہوں لیکن مجھے اٹھانا تو درکنار فون پر کوئی وارننگ تک نہیں دی گئی، کیوں ؟ وحید نے کہا، "شاید اس لئے کہ آپ کی تنقید میں لاجک ہے اور یہ ایشو پر ہے۔”

مسلم لیگ نون کو اس وقت اسی مسئلے کا سامنا ہے اور اگر اس نے اسے کنٹرول نہیں کیا تو بازی اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ سیاست میں یہ ایک عام رواج ہے کہ ایک پارٹی کی مرکزی سوچ ہوتی ہے اور ساتھ ہی تھوڑی سی گنجائش مخالف سوچ کے لوگوں کے لئے بھی رکھی جاتی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ایک مکمل سیکولر جماعت ہے لیکن ساتھ ہی اس میں ایک دو چھوٹی سطح کے "مشائخ” بھی پائے جاتے ہیں جو بوقت ضرورت آگے کر دئے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک دو مشائخ پی ٹی آئی میں بھی پائے جاتے ہیں جن میں سے مفتی عبدالقوی آج کل خبروں میں بھی ہیں۔ اسی طرح رائٹ ونگ کی مسلم لیگ نون میں پرانے وقتوں میں چند لبرلز ہوا کرتے تھے جن کی بوقت ضرورت نمائش کردی جاتی۔ یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب سب سے زیادہ لبرلز رکھنے والی پیپلز پارٹی پنجاب میں زمیں بوس ہوئی۔ لبرلز کی بڑی تعداد تو پی ٹی آئی میں چلی گئی لیکن ساتھ ہی ایک نمایاں تعداد نون لیگ میں بھی آگئی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ لبرلز فوج کے فطری مخالف ہیں، سو جو لبرلز پی ٹی آئی میں گئے وہ تو خاموش ہیں کیونکہ وہاں فوج کی سرپرستی کا تاثر ہے۔ اور جو نون لیگ میں آئے انہیں فوج کے خلاف بولنے کی وجہ میسر ہے چنانچہ وہ بول رہے ہیں لیکن خطرناک بات یہ ہے کہ جب یہ عناصر بولتے ہیں تو زہر اگلتے ہیں، یہ ننگی گالیاں دیتے ہیں اور صریح جھوٹ بکتے ہیں۔ مثلا جب احسن اقبال نے ڈی جی رینجرز کے معیشت پر تبصرے کے خلاف بیان دیا تو اس شام احمد وقاص گورایہ نے یہ پروپیگنڈہ چلایا کہ فوج نے فلاں فلاں اقدامات اٹھا لئے ہیں اور آج رات حکومت رخصت کردی جائے گی۔ فیس بک پر تو لبرلز بہت بیک فٹ ہیں، لیکن اگر آپ ٹویٹر پر جا کر دیکھیں تو وہاں ان کا گمراہ کن پروپیگنڈہ زوروں پر ہوتا اور ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ ٹویٹ اور ری ٹویٹ میں معروف صحافیوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو بھی ساتھ ساتھ غیر محسوس طریقے سے شامل کر لیتے ہیں۔ میں نے احمد نورانی، عمر چیمہ اور نصرت جاوید کو بکثرت ان کے چنگل میں دیکھا ہے جو خود غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کرتے لیکن یہ تاثر بہرحال قائم ہوجاتا ہے کہ یہ گالم گلوچ مافیا سے ملے ہوئے ہیں۔ ان انتہاء پسند لبرلز کی کمانڈ پرویز رشید کے پاس ہے اور پرویز رشید نے مریم نواز کو قابو کر رکھا ہے، یوں انتہاء پسند لبرلز اور مریم نواز کا لنک قائم ہے اور عام تاثر یہی ہے کہ فوج کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کے پیچھے مریم نواز ہیں حالانکہ مریم نہیں پرویز رشید ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ لبرلز کا دوسرا نام "این جی او مافیا” ہے اور پاکستانی فوج ہمیشہ سے اس مافیا کے نشانے پر رہی ہے۔ اگر یہ مافیا سیاست کے اس نازک موڑ پر اپنی واردات کے لئے مسلم لیگ نون کا پلیٹ فارم استعمال کرتی ہے تو اس کا نون لیگ کو بہت بھاری نقصان ہوگا۔ مسلم لیگ نون کی قیادت کو اس کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ ان وارداتیوں کی صورت ایک بڑا خطرہ اس کے دروازے پر دستک دے رہا ہے !

متعلقہ مضامین