ترین کا لندن پلاٹ ایکڑوں میں

جہانگیر ترین نااہلی کیس میں وکیل سکندر بشیر مہمد دلائل کے اختتام کی طرف بڑھ رہے، عدالت استفسار کر رہی ہے کہ بیرون ملک جائیداد خریدنے کا طریقہ کار کیا ہے، عدالت نے جہانگیر ترین کے ٹرسٹ اور آف شور کمپنی بارے زیادہ استفسار کیا تو سکندر بشیر بات کو ایون فیلڈ کے فلیٹس تک لے گئے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی جہانگیر ترین کا نام لیے بغیر کہا پیسہ تو پاکستان سے بہت کما لیا باہر آنا جانا بھی لگا رہتا ہے،حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے ،کوئی سہارا بھی چاہیے ہو تا ہے،بچوں کو بیرون ملک پڑھانا بھی ہے بتایا جائے کہ بیرون ملک جائیدار خریدنے کا طریقہ کار کیا ہے۔
وکیل جہانگیرترین نے دلائل کا آغاز اپنے موکل کے زیر التواء ٹیکس معاملات سے کیا ،انہوں نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے جہانگیر ترین کے خلاف اپیلٹ فورم کا فیصلہ کالعدم قرار دیکر دوبارہ ٹریبونل کو وپاس بھجوا دیا ہے، آف شور کمپنی پر دلائل میں وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار نے کمپنی چھپانے کا الزام لگایا ہے،موکل نے اپنا کوئی اثاثہ نہیں چھپایا،کمپنی کی تمام تفصیل سے عدالت کو اگاہ کروں گا، شائنی ویو کمپنی کو ٹرسٹ کے تحت رکھا گیا ،کمپنی کے ذریعے لندن کے باہر رہائشی پلاٹ خریدا گیا ،چیف جسٹس نے کہا آف شور کمپنی اور ٹرسٹ بنانے کے معاملات کو سمجھنا چاہتے ہیں،پاکستان میں حالات ایک جیسے نہیں رہتے ہیں،پیسہ کمالیا ہے ،یہ بتائیں کہ ملک سے باہر جائیدار خریدنے کا طریقہ کیا ہے ؟ چیف جسٹس نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ میرا ذہین چیزوں کو سمجھنے میں تھوڑا وقت لیتا ہے ،اس لیے کمپنی اور ٹرسٹ بنانے کے بارے میں وضاحت سے بتائیں،وکیل سکندر بشیر نے کہا مائہ لارڈ ایسی بات نہیں،اپ بڑے فاضل اور قانون کی مکمل سمجھ رکھتے ہیں،سب سے پہلے ستائس اپریل کو ٹرسٹ بنایا گیا ،پانچ مئی کو ٹرسٹ کی سیٹلمنٹ طے ہوئیں،جہانگیر ترین ٹرسٹ کے سیٹلر ہیں، عدالت کو ٹرسٹ ڈیڈ اور جہانگیر ترین کے بچوں کے ٹیکس گوشواروں دکھانا چاہتا ہو ،ان دستاویز کو دوسرے فریق کو نہ دیا جائے،یہ دستاویز صرف ججز کے دیکھنے کے لیے ہیں،چیف جسٹس نے کہا استحقاق کا دعوی کیسے کیا جا سکتا ہے ،موکل کو بتادیں کہ کھلی عدالت میں ہر چیز شفاف اور سامنے ہو گی،عدالت کو کوئی بھی ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار ہے،عدالت کے اختیار پر کوئی قد غن نہیں، انہوں نے مزید کہا پہلے دن ہی کہہ دہا تھا کہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے،نہیں معلوم لیز زمین کے ریکارڈ کے لیے انکوائری کرانا پڑے،آف شور کمپنی کی تشکیل کی مکمل پکچر عدالت کے سامنے رکھی جائے،عدالت کی ناراضگی پر وکیل نے کہا وہ یہ دستاویز متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرادیں گے اور درخواست گزار کے وکیل کو بھی درخواست کی کاپی مہیا فراہم کرے گے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضع کیا کہ تکنیکی نکات کو عدالتی کاروائی میں رکاوٹ بننے نہیں دینگے،وکیل سکندر بشیر نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ کمپنی کے ذریعے چوبیس لاکھ پاونڈز سے زائد رقم خرچ کرکے رہائشی پلاٹ خریدا گیا ،زمین کو گروی رکھ کر گھر کی تعمیر کے لیے قرض حاصل کیا گیا ،کمپنی کسی قسم کی کاروباری سر گرمی میں ملوث نہیں،ٹرسٹ بنانا،کمپنی خریدنا ایک قانونی طریقہ ہے،جہانگیر ترین ٹرسٹ یا کمپنی کے بینیفیشل مالک نہیں،ان کے بچے بھی گھر کے مالک نہیں، ایک بار ٹرسٹ بنا لیا تو عدالتی حکم کے بغیر ختم نہیں ہو سکتا ،ٹرسٹ ڈیڈ خفیہ دستاویز ہوتی ہے جس کی تفصیل شیئرنہیں کی جاتی،جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا ہمیں بتایا جائے کہ کمپنی کو کنٹرول کون کرتا ہے ،کیا جہانگیر ترین کی ہدایات کا کمپنی پر اطلاق نہیں ہوتا؟ کمپنی کو قرض کی ادائیگی کے لیے پیسہ کون بھیجتا ہے ؟ وکیل نے بتایا کہ جہانگیر ترین ٹرسٹ کو پیسے بھیجتے ہیں،ٹرسٹ کو دیا پیسہ واپس نہیں ہوتا،جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا ٹرسٹ کو رقم بھیجتے تو جہانگیر ترین ہی ہے ، وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹرسٹ اور کمپنی میں جہانگیر ترین کا کوئی اثاثہ نہیں،چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ اصل سوال ایمانداری کا ہے ،یہ بتا دیں کمپنی کے لیے پیسہ باہر کن اور کیسے بھیجا گیا ؟ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس میں کہا عام طور پور عوامی عہدیدار غیر قانونی رقم سے بیرون ملک ٹرسٹ بنا کر جائیدار خرید لیتا ہے جب کاگذات نامزدگی کا مرحلہ آتا ہے تو موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یہ میرا اثاثہ نہیں،کیا س طرح کا ٹرسٹ اثاثہ چھپانے کے لیے نہیں بنایا جاتا ؟جسٹس عمرعطاء بندیال نےنقطہ اٹھایا کہ جہانگیر ترین کمپنی کے بینیفشل مالک نہیں، ان کے بچے گھر میں راہ سکتے ہیں فروخت نہیں کر سکتے، جہانگیر ترین نے بچوں کی بجائے غیر ملکی بنک کے نمائندوں پر اعتبار کیا ،یہ ساری باتیں سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں، وکیل سکندر بشیر نے کہا اثاثہ کو کیموفلاج کرنے کا ترین کا کیا فائدہ ہو گا؟ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا فائدہ یہ ہو گا کہ الیکشن گوشواروں میں اثاثہ بتانا نہیں پڑے گا ،جہانگیر ترین کے وکیل عدالت کے تشویش پر تھوڑے جذباتی ہو گئےانہوں نے کہا جہانگیر ترین کا رہائشی گھر ایون فیلڈ کے فلیٹس نہیں جن کی منی ٹریل نہ ہو، جہانگیر ترین نے قانونی آمدنی سے پیسہ باہر بھیجا ،تمام منی ٹریل موجود ہیں،بچوں کے ٹیکس گوشواروں میں ٹرسٹ اور کمپنی کو ظاہر کیا گیا ،چیف جسٹس نے استفسار کیا یہ بتائیں کہ لندن میں گھر کا ایڈریس کیا ہے ،پیسہ کیسے باہر گیا ،رہائشی پلاٹ کا رقبہ کتنا ہے ،وکیل نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ پلاٹ کا رقبہ بارہ ایکڑ ہے،گھر کا نام ہائیڈ ہاوس ہے،چیف جسٹس نے گھر پر نام پر تعجب کا اظہار کیا تو وکیل نے کہا جس روڈ پر یہ گھر واقع ہے اس روڈ کا نام ہائیڈ روڈ ہے،اس روڈ کی مناسبت سے نام رکھا گیا ہے اور ویسے بھی یہ ہائیڈ وہ والا نہیں یہ ہائیڈ ایچ وائی ڈی ای والا ہے،جسٹس عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ فارن ایکسچینج اکاونٹ سے رقم باہر بھجوانے کا معاملہ اسٹیٹ بنک کے علم میں لایا گیا ،وکیل سکندر بشیر نے کہا فارن کرنشی اکاونٹ کو متعلقہ قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے،رقم بیرون ملک کسی کارپوریٹ کمپنی کو بھیجی جائے تو ایسی صورت میں اسٹیٹ بنک کو مطلع کیا جاتا ہے ،مقدمہ کی مزید سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی،وکیل سکندر بشیر کے دلائل جاری و ساری ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button