نوسر بازوں کا ایک گروہ

بارہا اس کالم میں مختلف حوالوں سے میں نے یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ گوادر میں جدید طرزِ رہائش والے وسیع وعریض رہائشی منصوبے آنے والے کئی برسوں تک ایک خواب ہی رہیں گے۔ دل موہ لینے والے اشتہارات اور انٹرنیٹ پر بنائی Citesکے ذریعے آپ کو اس شہر میں ”ساحل سمندر کے کنارے طلوع و غروب آفتاب کے دلکش مناظر“سے مالا مال رہائشی منصوبوں میں زمین کی خریداری پر اُکسانے والوں سے بچنا لہذا بہت ضروری ہے۔ شہروں کو رہائشی حوالوں سے پھیلانے اور بسانے کے لئے بنیادی ضرورت پانی کی وافر فراہمی کی ہوتی ہے۔ گوادر میں زیر زمین پانی صدیوں سے تقریباًََ نایاب ہے۔ بارش ہو جائے تو اس کا پانی قدرتی طور پر بنے نالوں اور جھیلوں میں جمع ہو جائے تو وہاں پہلے سے موجود کنوﺅں میں بھی توانائی آ جاتی ہے۔ اس پانی کو نہایت کفایت شعاری سے استعمال کرتے ہوئے مقامی آبادی اپنا گزارہ چلاتی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر حصوں کی طرح گوادر کی آبادی میں بھی لیکن بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ فی کس اعتبار سے لہذا مقامی آبادی کے لئے پانی کی فراہمی بسااوقات مناسب بارشوں کے باوجود اطمینان بخش سطح تک نہیں پہنچ پاتی۔ پانی کی فراہمی کے حوالے سے عمومی بے ثباتی ہی نے تغلق جیسے بادشاہ کو جنوبی ہندوستان میں دولت آباد کو دلی کی بجائے برصغیر کا نیا دارالحکومت بنانے نہیں دیا تھا۔ جلال الدین اکبر جیسے ذہین حکمران کا پسندیدہ شہر آگرہ تھا۔ وہ فتح پور سیکری کودلی کی مانند بسانا چاہتا تھا۔ پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے ناکام ہوا اور بالآخر شا ہ جہاں کو آگرہ کو خیرباد کہنے کے بعد دلی ہی میں ”شاہجان آباد“ بسانا پڑا جہاں لال قلعہ ہے اوردلی کی جامع مسجد بھی۔
تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال اسلامی جمہوریہ ایران کا تاریخی شہر اصفہان ہے۔ ایک زمانے میں اسے ”نصف جہان“ کہا جاتا تھا۔ پانی کی فراہمی اس شہر میں لیکن ناممکنات کی حدود میں داخل ہورہی ہے اور کئی برسوں سے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ایران ابھی تک اس شہر کو اپنی تاریخی آن وشان کے ساتھ ایک پُررونق شہر کی صورت آباد رہنے کو یقینی نہیں بنا پایا ہے۔
تمام تر ٹھوس حوالوں کے باوجود ہمارے ہاں نوسربازوں کا ایک گروہ ہے جو گوادر میں طلوع اور غروب آفتاب کے ”دلکش مناظر“ سے بھرپور رہائشی منصوبوںکی مارکیٹ کرنے کے چکر میں مصروف رہتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت سے جنرل مشرف کی حکومت کے اختتامی ایام تک گوادر میں کئی رہائشی منصوبے کاغذوں اور اشتہاروں میں ”مکمل“ ہوئے۔ لاہور،کراچی اور اسلام آباد کے کئی مکینوں نے ان منصوبوں میں پلاٹوں کی فائلیں خرید کر لاکھوں روپے برباد کئے۔
CPECکے ذکر کے بعد ایک بار پھر گوادر میں رہائشی منصوبوں کے تذکرے شروع ہوگئے ہیں۔بدقسمتی سے حکومتِ پاکستان نے کبھی ان ”منصوبوں“ کے پیچھے موجود نوسربازی کو بے نقاب کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔جعل سازوں کا احتساب تودور کی بات ہے۔
چند روز قبل مگر حد ہوگئی۔ ایک معتبر انگریزی اخبار کے صفحہ اوّل پر اس کے لندن میں مقیم ایک محنتی اور عمومی طورپر پیشہ ور مانے نمائندے کی ایک خبر چھپی۔ اس کی شہ سرخی دیکھ کر میرا ماتھا اسلام آباد میں بیٹھے ہی ٹھنک گیا۔ مذکورہ خبر میں اطلاع یہ تھی کہ انگلستان میں ”چائنا پاک ہلز“ نامی ایک کمپنی Road Shows وغیرہ کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ 500 ملین ڈالر کی خطیر رقم کی سرمایہ کاری کے ذریعے گوادر میں ایک رہائشی منصوبہ بنارہی ہے جو 2023 تک مکمل ہو جائے گا۔ اس منصبوے میں زمین کی خریداری جدید طرز رہائش کی ضمانت اس لئے بھی ہوگی کیونکہ اس برس تک کم از کم 5000چینی ماہرین مجوزہ بستی میں رہائش اختیار کرچکے ہوں گے۔
5000چینیوں کی گوادر میں مستقل رہائش کی بات نے مجھے حقائق کو جانے بغیر ہی فکر مند کردیا۔ 70ء کی دہائی سے میں ”ناراض بلوچوں“ سے مسلسل رابطے میں رہا ہوں۔ ہمارے ان بھائیوں کا مجھ سے ہمیشہ شکوہ یہ رہا کہ ”پنجاب“ ان کے ”ساحل اور وسائل“ کو ”سامراجی“ انداز میں اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہ رہا ہے۔ گوادر کو ترقی کے نام پر ایک نوآبادی بنایا جارہا ہے جہاں پاکستان کے دوسرے شہروں سے لوگ لاکر آباد کئے جائیں گے اور مقامی آبادی بالآخر ”ریڈانڈینز“ کی صورت اپنی ہی زمین میں ”اجنبی“ ہوجائے گی۔
ہمارے ناراض بھائیوں کے شکوے میں اکثر مبالغہ بھی ہوتا ہے۔ انہیں کھلے ذہن کے ساتھ کم از کم سننا مگر ضروری ہے۔ان کے شکوے سے شناسائی کی بدولت مجھے فوراََ فکرلاحق ہوگئی کہ”5000 چینیوں“ کی گوادر میں ”مستقل رہائش“ والی شہ سرخی نے بلوچستان میں کئی زخموں کو ہرا کردیا ہوگا۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے ڈاکٹر عاصم کا شکریہ۔ انہوں نے بروقت اور واضح الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ ”چائنا پاک ہلز“ نام کی کوئی کمپنی حکومتِ پاکستان کے علم میں نہیں ہے۔ گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) نے بھی ایسی کسی کمپنی کو رہائشی منصوبے کے لئے کوئی NOC جاری نہیں کیا۔
ایسی واضح تردید فقط حکومتِ پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے ہی جاری نہیں ہوئی جو CPEC کے تحت چلائے تمام منصوبوں کی حتمی نگہبان و نگران ہے۔ اسلام آباد میں قائم چینی سفارتخانہ روایتی اور تاریخی اعتبار سے ہمیشہ میڈیا سے دور رہا ہے۔ اس سے متعلقہ افراد نجی محفلوں میں بھی خارجہ امور پر تواتر سے لکھنے والے مجھ ایسے رپورٹروں کے ساتھ بھی ہمارے داخلی امور پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے ہمیشہ پرہیز کرتے رہے ہیں۔
2014 کے بعد سے پاکستان اور چین کے مابین بڑھتے ہوئے معاشی تعلقات کو شکوک وشہبات کا نشانہ بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں تو اس سفارت خانے سے متعلق LIJIAN ZHAO انٹرنیٹ کے ٹویٹ پلیٹ فارم پر متحرک ہوگئے۔ وہ چینی سفارت خانے کے سفیر محترم کے بعد ڈپٹی چیف آف مشن بھی ہیں۔ ڈاکٹر عاصم کی جانب سے جاری ہوئی تردید کے بعد انہوں نے بھی مسلسل ٹویٹس کے ذریعے اس دعویٰ کی تردید کی ہے کہ ”چائنا پاک ہلز“ نامی کوئی کمپنی ہے جسے چین اور پاکستان کی حکومتوں نے گوادر میں ایک رہائشی منصوبہ بنانے کی اجازت دی یا اس کی سرپرستی کی اور یہ بھی کہ 2023 تک پانچ ہزار چینی ماہرین کی گوادر میں ”مستقل رہائش“ کے ہرگز کوئی امکانات نہیں ہیں۔
بروقت تردیدیں جاری ہوچکی ہیں۔حکومتِ پاکستان کے لئے اب بھی مگر ضروری ہے کہ وہ ”چائنا پاک ہلز“ نامی کمپنی کے پیچھے کلاکاروں کا سراغ لگائے۔ ایسے کلاکاروں کی دو نمبریاں محض نوسربازی کے ایک اور منصوبے تک محدود نہیں۔ حتمی مقصد ان کا CPEC کے بارے میں بدگمانیاں پیدا کرنا ہے اور یہ سلسلہ منظم انداز میں شروع ہو چکا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button