انصاف کی تلاش میں

راولپنڈی کے علاقے عابد مجید روڈ کی رہائشی سائلہ م نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل میں درخواست دائر کردی ۔سائلہ نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے انصاف کے حصول کیلئے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ۔تفصیلات کے مطابق عابد مجید روڈ کی رہائشی سائلہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ اُنکے والدین سے صہیب علی اور اسکی بیوی مریم نے گھریلو تعلقات استوار کیے ،صہیب علی نے والد کو پراپرٹی کے کاروبارمیں سرمایہ کاری کرنے کو کہا۔والد نے صہیب علی پر اعتبار کرتے ہوئے اپنی جدی جائیداد و مکان دکانیں فروخت کر کے چا ر کروڑ بائیس لاکھ روپے نقد دیئے بعد ازاں سائلہ کی والدہ و خالہ سے صہیب نے اپنی بیوی رابعہ عرف مریم کے ذریعے تقریبا دو کلو سونے کے زیورات ادھار لیے کہ وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کزن ہے ،چوہدری نثار کی اہلیہ کو پرانے ڈیزائن کے زیورات پسند ہیں وہ تقریبا ت میں پہن کر جائینگی اور بعد میں واپس کر دیے جائیں گے ۔بعد ازاں جب رقم اور زیورات واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو صہیب علی نے کہا کہ وہ چوہدری نثار کیساتھ بطور پارٹنر چک بیلی خان میں رقبہ خریدا ہے جو جلد فروخت ہوگا تو رقم واپس کر دی جائے گی ،میرے خاندان کو چک بیلی خان لے جاکر رقبہ بھی دکھایا ۔بعد ازاں ایک دن صہیب علی نے اپنی بیوی کے ذریعے مجھے گھر بلوایا اور خنجر دکھا کر قابل اعتراض تصاویر بنالیں ۔بعد میں جب میرے والدین نے رقم و زیورات واپسی کیلئے دباؤ ڈالا تو ملزم صہیب نے دھمکی دی کہ قابل اعتراض تصاویر انٹرنیٹ پر چڑھا دوں گا ۔سائلہ کا مزید کہنا ہے انھوں نے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے نوٹس میں نومبر 2016میں واقعہ کی تمام تفصیلات لائیں لیکن تحریری شکایت کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا گیا ،بعد میں ڈی جی ایف آئی اے محمد املیش کو درخواست دی تو انھوں نے کہا چوہدری نثار ہمارے باس ہیں ،اُنکے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی ۔چوہدری نثار کا نام خذف کر کے دوبارہ درخواست دی تو ابتدائی تحقیقات کے آغاز پر ہی کیس واپس لینے کیلئے ایف آئی اے نے دباؤ ڈالنا شروع کردیا ۔سائلہ کا کہنا ہے اب ملزمان نے میرا اور میرے والدین کا جینا حرام کردیا ہے اور ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ،چیف جسٹس آف پاکستان واقعے کا ازخو دنوٹس لیکر انصاف دلوائیں اور ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button