کیلبری فونٹ والی فوجی ڈگری

ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد بارے بڑا انکشاف اور وہ بھی سب بڑی عدالت سپریم کورٹ میں، انکشاف کیا ہے اس کی صداقت پر بات ہو گی، اس سے قبل ماضی کے دریچوں سے کچھ یادیں تازہ کر لیں جائیں۔ دس جولائی دو ہزارہ سترہ، پانامہ پیپرز لیکس پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی مکمل رپورٹ، کسی کو معلوم نہیں تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ میں شریف فیملی کے خلاف کیا نتیجہ اخذ کیا،اسی روز بڑے اخبار میں رپورٹ کے نتائج بارے شائع خبر سے شکایت کنندگان قدرے مایوس دکھائی دیے،عمران خان کی لیگل ٹیم کے رکن فیصل چوہدری سے رپورٹ پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا ،، یار اب رپورٹ کا کیا کرنا ہے فلاں اخبار نے ساری رپورٹ چھاپ دی ہے ،رپورٹ میں ہمارے لیے کچھ نہیں،فیصل چوہدری سے کہا اخبار میں لکھا صحیفہ نہیں،رپورٹ تو ابھی عدالت میں جمع ہونی ہے ،اس دن ایک بجے تین رکنی خصوصی عدالت میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش ہونا تھا،مقررہ وقت سے واجد ضیاء اپنی ٹیم کے اراکین کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے،گاڑی سے تحقیقاتی رپورٹ کے بڑے باکسز کو کمرہ عدالت میں لیجایا جا ریا تو وہاں موجود صحافی باکسز پر لکھی تحریر کو غور سے پڑھ کر سرگوشیوں میں لگ گئے،رپورٹ کے باکسز پر بڑا بڑا ،،ثبوت،، لکھا گیا تھا ،عدالت لگی،رپورٹ پیش ہوئی،رپورٹ کو پبلک کرنے کا حکم جاری ہو گیا ،عدالتی حکم کے چند گھنٹوں بعد تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کے مندرجات میڈیا پر بریک ہو نا شروع ہو چکے تھے،رپورٹ کے نتائج میڈیا کی ہیڈلائینز کی زینت بننے سے پہلے عوام کا بڑا طبقہ کیلبری فونٹ سے واقف نہ تھا ،رپورٹ کے مندرجات شائع ہوئے تو لوگوں کو کیلبری فونٹ سے شناساہی ہوئی،تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسین نواز اور مریم نواز کے درمیان لندن فلیٹس بارے لکھی ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی کہا گیا ،رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی تیاری کے لیے کیلبری فونٹ کا استعمال ہوا، ڈیڈ جس تاریخ کو لکھی گئ اس وقت کیلبری فونٹ متعارف نہیں ہوئی،خیر رپورٹ آئی ،پیش ہوئی،پبلک ہوئی اور کیلبری فونٹ مشہور ہو گئی،ٹوئیٹر پر کیبلری سیاہی ٹاپ ٹرینڈ بنا۔

اس وقت نواز شریف ،مریم نواز،حسین نواز،حسن نواز ،کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کے خلاف احتساب عدالت اسلام آباد میں ریفرنسز چل رہے ہیں،حسین اور حسن نواز کے علاوہ سب ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے ،مریم نواز پر فرد جرم میں الزام ہے کہ ان کے حسین نواز کے درمیان لکھی ایون فیلڈ فلیٹس بارے ٹرسٹ جعلی ہے ،فرد جرم میں لکھا گیا کہ ڈیڈ میں استعمال کیلبری فونٹ کا استعمال ہوا ،واضح رہے کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کا یہ ریفرنس نیب آفس لاہور میں تیار ہوا جس کے ڈی جی سلیم شہزاد ہے۔
اب ماضی کے دریچوں سے باہر نکلتے ہیں،آج بھی عدالت لگی تھی ،وہی عدالت تھی اور اتفاق سے دو رکنی بینچ کا سر براہ معزز جج بھی پنامہ بینچ والا،نیب میں غیر قانونی بھرتیوں کے معاملہ پر ڈپٹی پراسکیوٹر نیب رپورٹ پیش کر رہے تھےعدالت کو بتایا گیا کہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں باون غیر قانونی بھرتیوں کا جائزہ لے گیا ہے ،مزید چالیس سے زیادہ بھرتیوں کا جائزہ لیا جانا ہے ،ابھی یہ بات چل ہی رہی تھی کہ نیب پراسکیوٹر کے عقب سے درخواست گزار آگے آیا اور اونچی آواز میں بولنا شروع کر دیا ،درخواست گزار نے انکشاف کیا ڈی جی لاہور کی ڈگری جعلی ہے،جعلی ڈگری کے لیے کیلبری فونٹ استعمال ہوئی،فونٹ دو ہزار سات میں متعارف ہوئی ڈگری دو ہزار دو کی ہے ،درخواست گزار نے ادھر یہ بات کی ادھر مریم،حسین نواز کی ٹرسٹ کا معاملہ زندہ ہو گیا،اب اللہ کی طرف سے کوئی نشانی ہے یا محض اتفاق ،جس ٰڈی جی نیب نے مریم نواز کو کیلبری فونٹ پر مریم نواز کو ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں ملزم بنایا اس کی اپنی سند پر جعلی اور کیبلری فونٹ کے استعمال کا الزام لگ گیا ،گو اس انکشاف کی اہمیت ایک الزام دے زیادہ نہیں لیکن بات کرنے والے کہاں کرتے ہیں وہ تو کہیں گے دوسروں پر کیبلری کا الزام لگا کر ریفرنس بنانے والے کو اپنی ڈگری پر کیلبری سیاہی کیوں بھول گئے،خیر بینچ کے سر براہ نے درخواست گزار کو اونچی آواز میں روک کر کہا زیادہ نہ بولو ،چیئرمین نیب اور ڈی جی لاہور کو نوٹس کرکے جواب مانگ لیتے ہیں، دیکھنے والوں نےکمرہ عدالت میں یہ بھی نوٹ کیا کہ پانامہ مقدمہ میں کیبلری فونٹ پر ریمارکس دینے والے معزز جج نے یہاں کیلبری سیاہی کے استعمال پر ریمارکس دینے سے گریز کیا اس کی وجہ ہرگز نہ تھی کہ ڈی جی نیب لاہور کا تعلق ماضی میں بڑے گھر سے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین