ثواب کا لمحہ

خیبر پختون خوا کے سٹینڈاپ کامیڈین میراوس خان کے مشہور آئیٹمز میں سے ایک آئیٹم ہے کہ کسی شخص سے اس کے دوستوں نے دریافت کیا کہ سنا ہے کل تمہاری فلاں غنڈے سے بڑی زور دار لڑی ہوئی، ذرا اس کی کچھ تفصیل تو بتایئے ! وہ تفصیل بتاتے ہوئے کہنے لگا ’’اس نے مجھے تڑی دی تو میں نے اسے وہیں دبوچ کر اٹھا لیا اور سر سے بلند کرکے۔۔۔۔‘‘ ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ وہی غنڈہ سامنے آگیا جس سے لڑائی ہوئی تھی، اس پر نظر پڑتے ہی اس نے جملہ پورا کرتے ہوئے کہا ’’ اس نے مجھے پٹخ دیا‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ کی نام نہاد جنوبی ایشیا پالیسی بیان کرتی تقریر کے بعد ہمارا حال بھی میراوس خان کے اس آئیٹم کے مضروب والا ہے۔ اس تقریر کے ردعمل میں ہم اکڑ گئے۔ کسی کا امریکہ جانا ملتوی کیا تو کسی کا امریکہ سے آنا منسوخ کرایا۔ افراتفری کا ایک ماحول قائم کیا اور اس ماحول میں قومی سلامتی کمیٹی کے اوپر تلے یوں اجلاس ہونے لگے جیسے پاکستان کی تاریخ کی فیصلہ کن گھڑی آ پہنچی ہو اور کوئی تاریخی اقدام ہونے جا رہا ہو۔ بیجنگ، ماسکو، تہران ، ریاض اور انقرہ کے ہنگامی دوروں کے شیڈول ترتیب پانے لگے تو ہاٹ لائن پر کچھ فون بھی کھڑکائے جانے لگے۔ غرضیکہ ملک کا مجموعی ماحول ایسا بنادیا گیا کہ قوم نے سانسیں روک اور ٹکٹکی باندھ کر اپنی مصروفیت صبح پنڈی تو شام اسلام آباد کو تکنے تک محدود کردی۔ پھر اجلاس بند اور دورے شروع ہوئے، قومی غیرت والے بیانات اس تواتر سے آنے لگے کہ لپیٹنے دشوار ہوگئے۔ ایک ہی بات بار بار دہرانے کو قدیمی ثقافت میں ’’ایک ہی لکیر پیٹنا ‘‘ کہا جاتا، اب اسے ’’بیانیہ‘‘ کہتے ہیں۔ میڈیا کی چاٹی میں بیان ڈال کر تکرار کی مدھانی سے بیانیے کی لسی تیار کی جانے لگی۔ ’’ہم ڈو مور قبول نہیں کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں امریکی امداد نہیں چاہئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امریکہ سے برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں‘‘ یہ وہ مکھن ہے جو میڈیا کی چاٹی میں تیار ہونے والی بیانیے کی تازہ لسی پر تیرنے لگا۔ اور یہ سب اس مہارت و سنجیدگی کے ساتھ کیا گیا کہ ہماری بھی عقل رسا تڑا کر گھاس چرنے دوڑ گئی اور ہم یہ سوچ سوچ کر جھومنے لگے کہ مالک نے کرم کیا کہ ستر سال بعد وہ گھڑی آہی پہنچی جب ہم اور امریکہ ’’برابر‘‘ کی عالمی طاقت ہوگئے۔ سو اب تعلقات برابری کی بنیاد پر ہی قائم ہوں گے۔ یقین مانئے خوش فہمیوں کے اس سرسبز ماحول میں ہمیں سلامتی کونسل میں چھٹی مستقل نشست ہی نظر نہ آئی بلکہ تصور کی اس خوش فہم آنکھ نے تین سالہ ٹیکنوکریٹ دور میں اس پر کسی سالانہ اجلاس میں عزت مآب ممنون حسین کو براجماں بھی دیکھ لیا۔ ہم بھول گئے کہ ہم ہی تو ہیں جن کے ہسپتالوں میں ماؤں کی آغوش سے نومولود تو قبرستاتوں میں گورکن کی نظروں سے مردوں کی ہڈیاں غائب کی جا تی ہیں۔ ہم فراموش کر گئے کہ ہم تو وہ کارواں ہیں جس کے دل میں احساس زیاں کی جگہ دیپکا پڈوکون لے چکی جو ایک آنکھ صبح تو دوسری شام کو مارتی ہے اور ہمارا دل ہے کہ اس کے در و بام اس ہائے ! ہائے ! سے گونجتے ہیں جو اس قتالہ کی آنکھ کے ہر تیر کا جوابی ٹھرکی بیانیہ ہے۔

مگر آہ ! ہماری قسمت ! ابھی ہم تین گھڑی بھی خوابوں کے اس سبزہ زار پر نہ جی پائے تھے کہ ایک خبر آ گئی اور خوابوں کی پوری کائنات چکاچور کر گئی۔ بتایا گیا کہ امریکی سفیر نے اطلاع دی کہ ایک گاڑی افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا چاہتی ہے، سواروں میں پانچ مغوی شامل ہیں جنہیں چھڑانا مطلوب ہے۔ آپریشن ہوا، گاڑی کے ٹائر برسٹ کرکے مغوی چھڑا لئے گئے۔ یہ ہمارا سرکاری دعویٰ تھا اور ہمیں اس پر سو جان سے یقین تھا لیکن پھر امریکہ سے ’’تصحیح‘‘ جاری ہوگئی، بتایا گیا کہ افغانستان سے گاڑی داخل ہونے کی بات نہیں بلکہ مغوی موجود ہی پاکستان کے ایک سیف ہیون میں تھے جہاں سے چھڑائے گئے۔ ہم انتظار کرتے رہ گئے کہ امریکہ کی اس ’’تصحیح‘‘ کو اس کے منہ پر دے مارا جائے گا کیونکہ اب تو ہم برابری کے تعلقات طلب کرنے والی سپر طاقت ہیں لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا، امریکی تصحیح کو کسی نے بھی غلط نہ کہا۔ کیا ہماری ہی ریاست نے ہم سے جھوٹ بولا ؟ ابھی اس سوال پر ڈھنگ سے غور بھی نہ کر پائے تھے کہ ایک اور منظر نے ہمیں ہماری اوقات یاد دلا دی۔ دل خوش کن گھڑیوں میں ہمیں نوید دی گئی تھی کہ آئندہ امریکہ سے جو بھی آفیشل آئے گا اس سے صرف اس کا پاکستانی ہم منصب ملا کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترا تو ہمیں یقین تھا کہ ٹیلرسن پاکستانی دفتر خارجہ جا کر خواجہ آصف سے ملیں گے اور واپسی کی راہ لیں گے۔ مگر جب ٹی وی سکرینوں نے ملاقات کے مناظر دکھائے تو ایک لمحے کو یوں لگا جیسے کوئی یہودی سازش ہوگئی ہو۔ تاریخ میں پہلی بار ہمارے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ، چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی ایک چھت تلے امریکی وزیر خارجہ کے لئے جمع تھے۔ ہم نے اپنے جنگل کے تمام ہم منصب تنکے یکجا کرکے امریکہ کی سہولت کے لئے ’’ون ونڈو شاپ‘‘ قائم کر دی تھی۔

ایک وزیر خارجہ کے حضور ہمارے چھ طاقتور لوگوں کا یوں جمع ہونا ہمیں سمجھا گیا کہ جس امریکہ کا ایک وزیر ہم پر اتنا بھاری ہے اس سے ’’براری کے تعلقات‘‘ کا بیانیہ وہ فریب ہے جو ہم جانتے بوجھتے اپنی قوم کو دے رہے ہیں۔ گویا نوبت بایں جا رسید کہ اب ہم بے تکے بیانیے تخلیق کرتے وقت یہ تکلف بھی نہیں برتتے کہ مجوزہ بیانیہ کسی فلاپ فلم کی طرح ہفتہ بھر تو کامیابی سے چل جائے۔ جب امریکی مہمانوں کو ان کے ہم منصب تک محدود رکھنے کا حوصلہ نہ تھا تو یہ بڑھک مارنے کی ضرورت کیا تھی ؟ جب آپ امریکی تصحیح کو ’’ریجیکٹڈ‘‘ نہیں کہہ سکتے تو وہ دعویٰ ہی کیوں کرتے ہیں جو کسی امریکی تصحیح کے نتیجے میں قومی شرمندگی کا باعث بنے ؟ اگر ہمارے ہاں کوئی سیف ہیون نہیں تو پھر امریکہ کو یقین دہانی کیوں کرا رہے ہیں کہ ہم بروقت اطلاع پر بروقت آپریشن کے لئے تیار ہیں ؟ قوم کے سامنے سچ بولنا ضروری نہیں لیکن جھوٹ نہ بولنا بہت ضروری ہے ورنہ قلم شرمندگی کے خوف سے قومی بیانیے کے بیان سے انکار کر دیتا ہے۔ قوم کا اپنے آپ پر ہی اعتماد متزلزل ہوجاتا ہے۔ جب آپ سے اشرف غنی جیسا بے دست و پا صدر بھی نہیں سنبھالا جا رہا تو ڈونلڈ ٹرمپ جیسے بدمست صدر کے سامنے اکڑنے کی ایکٹنگ کیوں کرتے ہیں ؟ جنابِ ٹارزن ! یہ اکڑ کے گناہ کا نہیں انکسار کے ثواب کا لمحہ ہے !

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button