خطا معاف کر دیجئے

جی میرا بہت مچل رہا ہے کہ شترمرغ بن جاﺅں۔ وطنِ عزیز کے خلاف امریکہ اور ہمارے ازلی دشمن کے اشتراک سے بنائے منصوبوں کو بھول جاﺅں۔ اعتبارکر لوں کہ اس ملک کے خارجہ اور سلامتی امور کی نگہبانی کے ذمہ دار چوکس ہیں۔ اپنے فرائض سے ہرگز غافل نہیں۔ نگہبان، خبردار ہوں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ لہٰذا Chill کرو۔ زندگی سے لطف اٹھاﺅ اور آج کل دل کو بہلانے کے لئے بہترین مواد ہمارے سیاست دانوں کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان کا دیا مواد جب ٹی وی اینکروں کے ہاتھ آتا ہے، وہ اس سے کھیلتے ہیں تو رونق لگ جاتی ہے۔ گھر بیٹھے ٹی وی سکرینوں پر وہ سب کچھ دیکھنے کو مل جاتا ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لئے مجھے 70ءکی دہائی میں لاہور آرٹس کونسل جانا ضروری ہوتا تھا۔
سٹیج ڈراموں کے لئے وہاں ایک چھوٹا سا ہال ہوا کرتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ”نئے پاکستان“ کی تعمیر کا آغاز کیا تو ڈاکٹر انور سجاد نوجوان مگر انقلابی فن کاروں کی بنائی ایک تنظیم Actors Equity کی قوت کی بناءپر لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین ہو گئے۔ ڈاکٹر صاحب کو آج کی نسل شاید جانتی بھی نہیں۔
ہمارے لاہور میں ایک چونا منڈی ہوا کرتی تھی۔ چوک وزیر خان یا شیرانوالہ دروازے سے آپ شاہی قلعے کی طرف جارہے ہوں تو ان دونوں کے اختتامی سنگم پر اس منڈی کا چوک آجاتا تھا۔ وہاں ڈاکٹر دلاور حسین صاحب کا کلینک تھا۔
انہیں ”بچوں کا ڈاکٹر“ کہا جاتا تھا۔ لاہور کے قدیمی شہر میں شاید وہ واحد ڈاکٹر تھے جو اس Speciality کی وجہ سے مشہور تھے۔ میری مرحومہ ماں کا دعویٰ تھا کہ وہ کئی بار دیوانوں کی طرح مجھے گود میں اٹھا کر ان کے پاس لے جانے کو مجبور ہو جاتی تھی۔ میرا گلا اکثر خراب ہو جاتا۔ جس کی وجہ سے کبھی کبھار تیز بخار بھی۔ ہمارے سکول کے باہر بکتے چورن اور خاص طورپر وہ جسے آگ کا شعلہ دکھاکر ”مصالحے دار“ بنایا جاتا تھا، گلے کی اس خرابی کا ذمہ دار تھا۔ گرمیوں کے موسم میں برف کے بنائے رنگ برنگ گولے بھی اس کا باعث ٹھہرائے جاتے۔
ہمارے گھر سے چونامنڈی تک کا یہ پیدل راستہ نسبتاً لمبا تھا۔ مجھے گود میں اٹھا کر وہاں لے جانا کافی تکلیف دہ ہوتا ہو گا۔ ڈاکٹر صاحب مگر صورت سے بہت ہی شفیق نظر آتے۔ خاموش طبع‘ چہرہ گول اور روشن جو متشرع سفید داڑھی کی وجہ سے بہت بارُعب نظر آتا۔
چھٹی جماعت کے بعد مجھے تنہا لاہور کی گلیوں اور کوچوں میں بلاسبب آوارہ گردی کی علت لاحق ہو گئی۔ چند کتابیں اٹھاکر بہانہ میں یہ بناتا کہ انہیں بادشاہی مسجد کے سائے میں بیٹھ کر غور سے پڑھنے کے لئے جا رہا ہوں۔ خال ہی البتہ اپنی بتائی منزل پر پہنچا اور اگر کبھی پہنچ بھی گیا تو بادشاہی مسجد کے سائے تلے بیٹھ کر کتاب ہرگز نہ کھولی۔ ان دنوں لاہور میں Hitti نوجوانوں کے گروہ بھی آیا کرتے تھے۔ شاہی محلے کے اِرد گرد علاقوں میں گھومنے کی انہیں بہت عادت تھی۔ میں ان میں سے حسین ترین عورتوں کو ڈھونڈ کر ان سے گٹ پٹ کرتے ہوئے اپنی انگریزی Improve کرنے کے بہانے ڈھونڈتا۔
میرا سفر ظہر اور عصر کی نماز کے درمیانی وقفے میں شروع ہوتا تھا۔ وزیر خان کی مسجد سے چوک چونا منڈی کی راہ سے آگے بڑھنا شارٹ کٹ فراہم کرتا تھا۔ بدقسمتی مگر یہ ہوئی کہ ان اوقات میں ڈاکٹر دلاور حسین صاحب اپنے کلینک کے باہر کرسی بچھائے بیٹھے ہوتے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی درشت آواز میں میرا وہ نام لے کر پکارتے جو میری ماں نے پیار سے دے رکھا تھا۔ ایک سخت گیر تھانے دار کی طرح وہ مجھ سے میری آوارہ گردی کا سبب پوچھتے۔ ان کی تفتیش سے بچنے کے لئے مجھے انہیں اپنی کتابیں دکھانا ہوتیں۔ اپنے گھر کی گرمی اور وہاں مچے شور کی شکایت بھی۔ انہیں مگر میری کہانی پر کبھی اعتبار نہیں آیا۔ ان کا ہمیشہ اصرار رہا کہ دل وجان سے علم کے خواہش مند کتاب اٹھاتے ہی دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ بالآخر تنگ آ کر میں نے اس چوک سے گزرنا ہی چھوڑ دیا۔ دوسرا راستہ چن لیا۔
ڈاکٹر دلاور صاحب نے جس انداز میں مجھے دوسرا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا تھا اس کی وجہ سے میں نے ان کے بہت ہی ہونہار اور ان دنوں کافی مشہور ہوئے فرزند سے ملے بغیر ہی طے کرلیا تھا کہ وہ ایک آمر صفت والد ہوں گے۔ بعدازاں ڈاکٹر انور سجاد کے تحریری افسانے پڑھے، ان کے ڈرامے دیکھے اور ان کی سیماب صفت شخصیت سے شناسائی ہوئی تو میرے اندر موجود ”نفسیات دان“ نے طے کر لیا کہ ڈاکٹر صاحب درحقیقت اپنے والد کی سخت گیر طبیعت سے باغی ہو کر اپنے اندر خوف سے دبائی توانائی کو روایت سے ہٹ کر لکھے افسانوں کے ذریعے باہر نکالتے ہیں۔ ان کے لکھے ڈرامے بھی بہت تجریدی ہوتے۔ وہ اداکاری بھی کرتے تھے اور مکالمے کافی وکھرے انداز میں ادا کرتے۔ کافی عمر گزرجانے کے بعد انہیں کلاسیکی رقص سیکھنے کا جنون بھی
طاری ہو گیا۔ مہاراج غلام حسین کتھک کے شاگرد ہو گئے۔ انہیں گھنگھرو باندھ کر رقص کرتے میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ مہاراج سے البتہ ایک بار بات ہوئی تو وہ اپنے شاگرد کی مہارت پر بہت فخر کرتے محسوس پائے گئے۔
بہرحال لاہور آرٹس کونسل جسے ان دنوں الحمراءکہا جاتا ہے ایک بہت ہی پُرسکون جگہ ہوا کرتی تھی۔ وہاں برگد کا ایک درخت بھی تھا۔ اس کے نیچے چائے کی پیالیاں لے کر بیٹھتے تھے۔ خالد عباس ڈار اور جمیل بسمل اکثر وہاں آ جاتے۔ ایک دوسرے کو ”جگتوں“ سے زچ کرتے۔ کبھی کبھار رفیع خاور المعروف ننھا مرحوم بھی وہاں آتے تو دور دور تک قہقہوں کی آوازیں گونجنا شروع ہو جاتیں۔
اب مجھ ایسے تفریح کے خواہاں لوگوں کو لاہور آرٹس کونسل جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ مجھے یقین ہے کہ ”الحمرا کلچرل کمپلیکس“ والی شان دار عمارت کو ”تعمیر“ کرتے ہوئے برگد کا وہ درخت بھی کاٹ دیا گیا ہو گا۔ مجھے اس عمارت کو باہر سے دیکھ کر ہی طیش آ جاتا ہے۔ اینٹوں سے بنی ایک عمارت ہے جو مجھے کہیں سے بھی ”ثقافت“ کا Hint تک نہیں دیتی۔ اس کے باغ سے جڑا Nostalgia مگر مجھے بہت عزیز ہے۔ اسے بچائے رکھنے کے لئے اس عمارت میں داخل ہونے سے کنی کتراتا ہوں۔
اسلام آباد میں اپنے گھر بیٹھا ہی ٹی وی کا ریموٹ دبا کر عمران خان صاحب کو سن لیتا ہوں جو گزشتہ دنوں سندھ کے طولانی دورے پر تھے۔ وہاں لوگوں کو بتاتے رہے کہ ”سندھ کے سب سے بڑے ڈاکو (آصف علی زداری)“ کی درمیانی وکٹ اُڑانے کے لئے وہ ایک خصوصی In Swing تیار کر رہے ہیں۔ منگل کے روز ٹویٹر کے پلیٹ فارم پر خبر ہوگئی کہ اس In Swing کی انسانی شکل کیا ہو گی۔ عمران خان کے کئی پرستاروں کو مگر خاص طور پر تیار ہوئی اس In Swing کا چہرہ اور رویہ پسند نہ آیا۔ دہائی مچا دی گئی۔
بدھ کے روز تحریک انصاف کو بالآخر ان صاحب کی شمولیت سے بچا لیا گیا ہے۔ ہمارے کئی ”سب سے مقبول اینکر“ (مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ٹی وی چینلوں کا ہر اینکر ”سب سے مقبول“ ہے) عمران خان کو متوقع شمولیت سے محفوظ بنا کر بہت شاداں نظر آئے۔ یوں محسوس ہوا کہ انہوں نے دلی کے لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرا دیا ہے۔
عمران خان کو ان کی جماعت میں ایک متوقع شمولیت سے بچا کر مہربان ماﺅں کی طرح اطمینان کا اظہار کرنے والے ”سب سے مقبول“ اینکر حضرات کو دیکھنے اور سننے کے بعد میں نے خود پر بہت لعنت ملامت کی ہے۔ میں واقعتاً آپ کو گزشتہ کئی روز سے پاک- امریکہ تعلقات کے بارے میں پریشان کن خبریں بتا کر بور کر رہا تھا۔ میری اس خطا کو معاف کر دیجئے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین