صحافی کب تک نشانے پر

کل پمز ہسپتال جانے کا اتفاق ہوا۔ سوچا کہ وہاں زیرِ علاج تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کو بھی دیکھ لیا جائے۔ جب انتہائی نگہداشت کے وارڈ کے باہر پہنچے تو کچھ دیر انتظار کے بعد اندر جانا ہوا۔ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ ایک انسان جو کچھ دن پہلے تک ٹھیک ٹھاک ہشاش بشاش ٹی وی پر نظر آتا تھا اور اخبار میں چھپنے والی اپنی تحقیقاتی خبروں پر بات کیا کرتا تھا۔ وہ ہسپتال کے بستر پر زخمی حالت میں بیٹھا تھا۔ اور کسی سے بڑے دھیمی آواز میں بات کر رہاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت کمزوری محسوس کر رہے ہیں۔ خود پر ہونے والے حملے کی تفصیلات بھی بتا رہے تھے کہ کیسے کچھ موٹر سائیکل سواروں نے راستہ روکنے کی کوشش کی ۔نورانی صاحب نے ڈرائیور کو گاڑی نہ روکنے کی ہدایت دی لیکن لمحوں میں ایک تیز رفتار موٹر سائیکل سوار نے پھرتی اور چابک دستی سے چلتی گاڑی کے قریب آ کر گاڑی کی چابی نکال لی ۔ ظاہر ہے پھر احمد نورانی کو باہر نکلنا پڑا کیوں کہ کار رک گئی تھی۔ احمد نورانی کے مطابق سامنے نظر آنے والے لڑکے عمر میں ذیادہ نہیں تھے۔ وہ لڑائی کرنا چاہ رہے تھے بقول نورانی صاحب وہ شاید ان کا مقابلہ کر بھی لیتے لیکن کسی نے پیچھے سے سر کو نشانہ بنایا اور کسی آلے سے وار کیا جس کے بعد وہ خود کو نہ سنبھال سکے۔ اسکے بعد مزید وار کیے گئے۔ موبائل چھین کر زمین پر پھینک دیا گیا۔ احمد نورانی کہتے ہیں کہ اسی دوران کچھ لوگ آ گئے جن کی وجہ سے حملہ آور بھاگ گئے ورنہ تو حملہ آور جان لئے بغیر نہ جاتے ۔انہی لوگوں نے احمد نورانی کو ہسپتال پہنچایا۔
اللہ کا شکر ہے کہ احمد نوروانی کی جان بچ گئی۔ لیکن زخم بہت گہرے ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں پر حملے کوئی نئی انہونی بات نہیں۔ بلکہ پاکستان صحافیوں کے لیئے خطر ناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ احمد نورانی نے اپنے دوستوں کے کہنے پر کچھ ہی روز پہلے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بند کر دیا تھا۔ اخبار میں ان کی کوئی اسٹوری بھی کافی دنوں سے نہیں شائع ہوئی تھی۔
بہت سے لوگوں کو احمد نورانی کی رپورٹوں پر اعتراض تھا۔ ایک خاص سیاسی پارٹی نے تو باقاعدہ سوشل میڈیا مہم میں احمد نورانی کی کردار کشی کی تھی۔ صحافتی تنظیموں اور حکومت کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا۔؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح حملہ آور بچ نکلیں گے؟
احمد نورانی پر حملے کے بعد زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مذمت کی۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں، حکومتی وزرا اور فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے بھی احمد نورانی کے لیے نہ صرف نیک خواہشات کا اظہار کیا بلکہ واقعے کی تحقیقات میں مدد دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

وہ نامعلوم افراد کون تھے؟ کیا چاہتے تھے؟ ان کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟ ان تمام سوالوں پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ آف دا ریکارڈ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ احمد نورانی اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی حق میں رپورٹنگ کرتے رہے اس لیے شاید فوج کے کسی خفیہ ادارے نے یہ کام کروایا ہو۔ لیکن شہرِ اقتدار میں ہی یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ شاید حکومتی حساس ایجنسی نے یہ حملہ کروا کر فوج کے خفیہ ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہو۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی تیسری پارٹی بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہو، ۔سی سی ٹی وی فوٹیج نہ ہونے کے باعث ان حملہ آوروں کی پہچان بھی مشکل ہے۔ اب امتحان ان تمام اداروں کا ہے جن پر الزامات لگ رہے ہیں کہ وہ اصل حملہ آوروں کو اور اگر کوئی سازش ہوئی ہے تو اس کو بے نقاب کریں۔تاکہ دوسروں کے لئے انصاف کی بات کرنے والوں کو خود بھی انصاف مل سکے۔

متعلقہ مضامین