نئے پاکستان میں ننگا پن

سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر سخت ردعمل سامنے آنے کے باوجود خیبرپختون میں مثالی پولیس کی جانب معمول کی کارکردگی بھی نہیں دکھائی جا رہی ۔ تین روز گزر گئے مگر ملزمان کو کسی عدالت کے سامنے پیش نہ کیا جا سکا ۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے  تھانہ چودہوان کی حدود میں گرہ مٹ کے 5 مسلح افراد نے ذاتی دشمنی کے باعث مخالف خاندان کی 16 سالہ بچی ننگا کر کے گاؤں میں گھومنے پر مجبور کیا، بچی جوہڑ سے پانی بھر کے گھر واپس آ رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق، مسلح افراد نے اس چیختی چلاتی اور مدد کے لئے پکارتی برہنہ بچی کو کسی سے چادر تک نہ لینے دی، مظلوم لڑکی جب بھی کسی گھر میں داخل ہوتی تو مسلح حملہ آوروں کے ڈر سے لوگ اسے باہر نکال دیتے، گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ بربریت کا یہ رقص 1 گھنٹہ جاری رہا، کسی نے مظلوم بچی کی مدد نہ کی، بچی کے ورثاء تھانے رپوٹ درج کرانے گئے تو پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا لیکن جب خبر میڈیا تک پہنچی تو چودہوان تھانہ کی پولیس نے 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تاہم ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے بااثر ملزمان کے ساتھ مل کر لڑکی کے بھائی پر بھی مقدمہ درج کرلیا تاکہ اس کے خاندان کو دباؤ میں لایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے