بعد از مرگ

احساس / اے وحید مراد
اور پھر یوں ہوا کہ وہی ہوا جس کے بارے میں دوست میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے تھے کہ اچھا لکھتے ہو مگر احتیاط کیا کرو۔ ہنس کے ٹالنے کا نتیجہ بھگتنے کا وقت ٹالا نہیں جا سکتا۔
اسلام آباد کے زیروپوائنٹ سے آگے ایک ایسا دفتر ہے کہ جس کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔ پہلے جب فیس بک نہیں تھا تو کہاجاتا تھاکہ امریکا، اسرائیل اور انڈیا اس دفتر سے لرزاں ہیں۔ جب فیس بک آیا تو پھر اس دفتر کے بارے میں ایسی ایسی کہانیاں پڑھنے کو ملیں کہ جنرل ریٹائرڈ حمیدگل بھی وفات سے قبل ان کو تین بار پڑھتے کہ واقعی یہ تو انہوں نے بھی نہیں سوچا تھا جب اس دفتر کے کرتا دھرتا تھے۔
خیر اسی دفتر کے سامنے سے گزرنے والی سڑک کو برسوں قبل بند کیا گیا کہ امریکا، اسرائیل اور انڈیا کی آنکھوں میں کھٹکتے اس دفتر کو محفوظ رکھا جاسکے۔ دفتر تو اللہ کا شکر ہے محفوظ ہے اور اللہ اسے محفوظ ہی رکھے تاکہ پاکستان کے سرپر منڈلاتی بلائیں صرف اس کے نام کی وجہ سے ہی دور سے گزرتی رہیں مگر اس سڑک کو محفوظ نہ بنایا جاسکا۔ مجھے چونکہ اسی سڑک سے گزرنا تھا، اس لیے موٹرسائیکل سواروں نے میرے شانوں پر رکھے ہاتھوں کے ذریعے دیے گئے مشورے پر غور نہ کرنے والے دماغ کو سبق سکھانے کیلئے اسی سڑک کو چنا۔
پھر مجھے ہسپتال میں رہنا پڑا، جہاں ڈاکٹر اپنے کام میں مصروف رہے، سوشل میڈیائی جہادیوں نے اپنا کام جاری رکھا اور حکومت کے چلانے والے بھی ٹی وی پر آنے کیلئے میرے سرہانے کھڑے ہوتے رہے۔ اس دوران بہت کچھ کہا اور لکھا گیا۔ سرکاری بیانات سے فوجی ٹویٹوں تک سب نے ہمدردی کا اظہار کیا۔ سب نے کہاکہ حملہ آور بچ کر نہیں جائیں گے۔ ریاست اپنے تمام وسائل بروئے کار لاکر کیمرے نہ ہونے کی غلطی کا ازالہ کرے گی۔
صحافی رہنماﺅں نے پریس کلب کے سامنے میرے حق میں کھڑے ہوکر اظہار رائے کی آزادی ،قانون اور آئین کی بالادستی پر تقاریر کیں، جس وقت وہ جوش خطابت میں قانون کی بالادستی پر لیکچر دے رہے تھے ان کر سر پر غیرقانونی بل بورڈ لگے ہوئے تھے جن سے وہ سالانہ کروڑوں روپے کا فنڈز حاصل کرتے ہیں۔ پھر  سات بجے شام سے رات گیارہ تک ٹی وی ٹاک شوز میں ست رنگی ٹائیاں لگائے اینکرز نمودار ہوئے۔ وحشت ناک ٹی وی نے اپنی خاص خبر میں حملے کو ’را‘ کی کارروائی قراردیا تاکہ اس وجہ سے ہمارے خاص دفتر کو بدنام کیا جاسکے۔ دہشت ناک ٹی وی نے کہاکہ حملے کی تفتیش سے پہلے یہ بھی دیکھا جائے کہ فائدہ کسے ہوا۔ گھی والے چینل پر بیٹھے گنجے اینکر نے کہاکہ اس کے خاص ذرائع نے خبر دی ہے کہ حملہ سرکاری ایجنسی نے کیا ہے تاکہ خاص دفتر پر الزام لگے اور اس کا دل ٹھنڈا ہو۔
ٹوئٹر پر بھوٹانی وردی کے دفاعی تجزیہ کار نے لکھا کہ سب ڈرامہ ہے تاکہ برطانیہ کا پاسپورٹ حاصل کیا جاسکے۔ عقاب اور شترمرغ نے بھی فیس بک پر اپنے تبصروں میں اس حملے کو ’اداروں کے خلاف‘ سازش قرار دیا۔ یہ سب کچھ تو بنانا ری پبلک میں عام سی بات تھی۔ اگلے دن روزنامہ جھرلو، چھرا، بے وقعت اور بے غیرتی نے حملے کے حوالے سے رنگین صفحات پر بہت کچھ شائع کیا۔ مگر تین دن بعد جب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میری موت ہوئی اور مجھے وصیت کے مطابق آبائی علاقے میں بادام کے درخت کے نیچے دفنایا گیاتو روزنامہ جہالت نے سب سے’ اہم خبر‘ کو اپنے صفحہ اول پر شائع کرکے قارئین کو آگاہ کیاکہ مرحوم پر حملہ ان کے رقیبوں نے کیا تھا۔ رقیب چونکہ بہت سارے ہو سکتے ہیں اس لیے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہانی کو رنگین بنایا گیا اور بتایا گیاکہ ایک بڑی یونیورسٹی کی خوبرو طالبہ سے معاشقے کی وجہ سے ’دوست‘ بھی دشمن بن گئے تھے اور یہ کام انہوں نے ہی دکھایا ہے۔ بہت سے لوگوں نے روزنامہ جہالت کے ٹھیکیدار مالک اور اس کو ٹھیکے پر لے کر چلانے والے ’چیف ایڈیٹر‘ کے ماضی کے بارے میں بھی دبے دبے الفاظ میں تبصرے کیے مگر یہ اسی طرح دب گئے جس طرح چیف ایڈیٹر کے بارے میں آبپارہ تھانے میں ماضی بعید میں درج کی گئی ایف آئی آر کاغذوں کے ڈھیر میں دفن ہوگئی تھی۔
اتنی دلچسپ رپورٹ پر قبر میں کروٹ لیتے ہوئے میرے سر سے ٹیس اٹھی مگر خوبرو طالبہ کے تصور میں دب گئی۔ پھر میں نے شکر ادا کیاکہ عقابوں نے مجھے غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے ’گے‘ نہیں بنا دیا وگرنہ ان کیلئے کیا مشکل تھا۔ وہ تو مفتی قوی کی طرح میرے موبائل سے ڈیلیٹ کیے گئے چالیس ’ٹوٹے‘ بھی برآمد کرکے ٹی وی اسکرین پر سجا سکتے تھے۔ وہ تو اسلام آباد میں مارے گئے صحافی اسماعیل خان کے کیس کی طرح پولیس رپورٹ پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار میں اپنے کرائم رپورٹر کے ذریعے شائع کرا کے تفتیش کا ر خ موڑ سکتے تھے ۔ وہ تو اسماعیل خان کے مبینہ قاتل کسی لڑکے کو میڈیا کے سامنے پیش کرکے ہم جنس پرستی کے کھاتے میں مارے جانے کا بھی کہلوا سکتے تھے۔
قبر میں کچھ دن خوشی خوشی گزرے مگر پھر معلوم ہواکہ ٹوئٹر اور فیس بک پر دفاع کے صفحات اور کاﺅنٹس کی پوسٹوں کی بھرپور کامیابی کو دیکھتے ہوئے روزنامہ کیموفلاج نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مارے گئے صحافی پر حملہ بھی ملالہ یوسفزئی اور حامد میر کے حملے کی طرح ایک ڈراما تھا اور اس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا تھا، دشمن کی یہ سازش بھی پاکستانی قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناکام بنادی ہے۔
(آپ سب سے بھی گزارش ہے کہ کسی کیمرے کی آنکھ کے مناظر فلم بند ہونے کا انتظار کیے بغیر مرنے سے پہلے اپنی محبوباﺅں اور ان کے موٹرسائیکل سوار عاشقوں کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھ دیں تاکہ کہانی میں آپ کا موقف بھی آٹھ دس سطروں پر شامل کیا جاسکے۔)

 

متعلقہ مضامین