Free Doom

گزشتہ ہفتے دی نیوز کے رپورٹر، احمد نورانی کو دن دیہاڑے بہیمانہ حملے کانشانہ بنایا گیا۔ اس حملے نے پاکستان میں آزاد میڈیا کے مستقبل پرخوف و خدشات کے سائے گہرے کردئیے ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب ایک مذہبی گروہ کے احتجاج کی وجہ سے اسلام آبادمیں پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ تمام انتظامیہ ممکنہ طور پر ہائی الرٹ تھی۔ لیکن سیکورٹی کی ان دبیز تہوں کا نورانی کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ نہ ہی اس حقیقت سے کوئی فرق پڑا کہ جب وہ موت کو چکما دینے کی کوشش کررہے تھے تو شہر میں زندگی کی سرگرمیاں جاری تھیں۔
چھ موٹر سائیکل سواروں نے اُن کا تعاقب کیا، اور لوہے کی راڈز، چاقواور اسٹیل کے مکوں سے اُن کے سر پر وار کئے۔ سر پرزخم یا ضربیں لگانے کا مقصد واضح تھا۔ وہ اُنہیں ہلاک یا مفلوج کرنا چاہتے تھے۔ نورانی اپنی موت کے سائے کو قریب سے دیکھ رہے تھے لیکن اُن کی قسمت اچھی کہ بچ گئے۔ حملے کا منصوبہ تشکیل دینے اورتمام واقعات کو مربوط کرنے میں وقت لگا ہوگا۔ احمدنورانی کا کافی عرصے سے تعاقب کیا جاتا رہا ہوگا، اُن کی تمام حرکات وسکنات کا احتیاط سے جائزہ لیا گیا ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ حملہ آور جانتے تھے کہ اُنہیں کس جگہ گھیرنا ہے تاکہ وہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت تمام اسلام آباد میں نصب کیے گئے کیمروں میں نہ آسکیں۔
نورانی کی جان لینے کے لئے اذیت ناک طریقہ اختیار کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ خوف و ہراس پھیلے، اور دیدہ دلیری اور بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کا پیغام چلا جائے۔ اس حملے میں کوئی گولی نہ چلائی گئی، کوئی بم دھماکہ نہ ہو، کوئی گرنیڈ نہیں پھینکا گیا۔ اُنہیں بصارت اور بصیرت رکھنے والوں کے لئے نشان عبرت بنایا جانا تھا۔ اُن کے حملہ آور، وہ جو کوئی بھی تھے، یا تو انتہائی احمق اور لاپرواتھے، یا پھر اُنہیں اپنی اس حرکت کے نتائج و عواقب سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ اُنھوں نے بالکل درست نشانہ لیا، ٹھیک ٹھیک ضربیں لگائیں، اور اس مہلک کارروائی پر اُنہیں پورے پورے نمبر ملنے چاہئیں۔
نورانی پر حملہ پاکستان میں میڈیا کی خطرناک صورت ِحال کی واحد مثال نہیں۔ جس روز نورانی پر حملہ کیا گیااُس روز کوئٹہ ( ایک اور محفوظ شہر)میں عملی طور پر گھروں میں کوئی اخبار تقسیم نہ کیا جاسکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انتہاپسندگروہوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ اخبارفروشوں پر حملے کریں گے اور اُنہیں مار دیں گے کیونکہ جو اخبار اُن کا موقف شائع نہیں کرتے، وہ اُن کے دشمن ہیں۔ صرف پشتون آبادی کی اکثریت رکھنے والے علاقوں میں ہی گھروں میں اخبارات تقسیم کیے جاسکے، دیگر علاقوں میں کوئی اخبار تقسیم نہ ہوا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق اُس روز 90 فیصد شائع شدہ اخبارات تقسیم کاروں کے مراکز سے نہ اٹھائے جاسکے۔
بلوچستان میں پیغام رساں کو قتل کردینے کی دھمکی نئی نہیں۔ چند برس پہلے فرقہ وارانہ تنظیموں، طالبان اور دیگر انتہا پسند گروہوں نے میڈیا آئوٹ لٹس کو بہت کھلے الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ یا تو وہ واقعات پر اُن کا موقف شائع کریں، یا پھر اپنی جان کی خیر منائیں۔ اس پر بلوچستان ہائی کورٹ نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کی رو سے میڈیا پر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی تشہیر پر پابندی تھی۔ اس حکم نامے کے بعد نیشنل ایکشن پلان میں ریاست سے لڑنے والے گروہوں کو میڈیا پر کسی قسم کی جگہ دینے کی پابندی لگادی گئی۔
انتہا پسند گروہوں کی دھمکیوں اور عدالت کے فیصلے کے درمیان پس کر رہ جانے والے صحافیوں کی مشکلات اتنی بڑھ گئیں کہ اُن کے لئے ایک ایک دن جینا دشوار ہوگیا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بلوچستان کے کم از کم نصف درجن کے قریب بہت اچھے رپورٹرز اس پیشے کو چھوڑ چکے ہیں کیونکہ وہ اس جنگ میں اپنی جان گنوانا نہیں چاہتے تھے۔ بلوچستان میں صحافت کا پیشہ ترک کرنے والوں کی اصل تعداد اس سے بہت زیادہ ہوگی۔ ریاست صحافیوں اور ان کے اہل ِ خانہ کو تحفظ دینے میں تو ناکام ہے، لیکن توقع کر تی ہے کہ اس صوبے سے آنے والی ’’مثبت خبروں‘‘ کا تانتا بندھ جائے۔ اس صورت میں صحافیوں کے سامنے اس پیشے کو خیر باد کہنے، یا پھر جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے ’’مقامی سطح پر مفاہمت ‘‘ کے سوا اور کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ اس مفاہمت پر صحافت کے بنیادی اصول قربان کرنے پڑتے ہیں۔ چنانچہ پیش کیے گئے مواد اور مفہوم کے بیچ حقیقت کہیں الجھ کر رہ جاتی ہے۔
اسلام آباد اور کوئٹہ کے یہ دونوں واقعات میڈیا کی صنعت، خاص طورپر صحافیوں کو لاحق شدید خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حتیٰ کہ عام شہری، جو اس پیشے سے وابستہ نہیں ہیں اور جو ان قتل گاہوں سے محتاط فاصلے پر ہیں، بھی سوچ رہے ہیںکہ جب اُن کی زندگی کتنی محفوظ ہوگی جب بہتر روابط (جیسا کہ فرض کیا جاتا ہے) اور قلم کی طاقت رکھنے والے صحافی جانی پہچانی، آباد سڑکوں پر مار دئیے جاتے ہیں؟اور یہ ایک اہم سوال ہے : آپ اس ماحول میں اپنا بچائو کیسے کرسکتے ہیں؟ آپ خود کو محفوظ کیسے سمجھ سکتے ہیں جب حکومت کے وزرا آپ کو فون پر کہہ رہے ہوں کہ’ آپ اپنے بچائو کے انتظامات خود کرلیں کیوں ہم آپ کو نہیں بچا سکتے، اور یہ ریاست آپ کے لئے کچھ نہیں کرسکتی۔‘ہم انتہائی خطرناک ماحول میں، جہاں شہروں کی ہر گلی انتہا پسندوں کی شکار گاہ ہو، میں اپنی جان بچانے کے لئے ایک غیر جذباتی، افسوس ناک اور بدقسمت طرز ِعمل اپنا سکتے ہیں۔
آپشنز بہت محدود اور ناخوشگوار ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کسی مذہبی گروپ میں شامل ہوجائیں جو ہجوم کو سڑکوں پر لا کر ریاستی مشینری کو مفلو ج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ آپ کسی فرقہ وارانہ گروہ کے غیر اعلانیہ رکن بن کر اس کے تحفظ کی چھتری کے نیچے آسکتے ہیں۔ اس کی طاقت آپ کو جان کی امان دے سکتی ہے۔ یا پھر کسی بھی رئیل اسٹیٹ مافیا میں شامل ہو جائیں۔ وہ آپ کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے کیونکہ آپ اس تحفظ کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ آپ اُن کی تعریف کرتے رہا کریں، اور آپ اور آپ کے اہل ِخانہ کے سر پر تحفظ کا سائبان قائم رہے گا۔ یا پھر آپ شوگر ٹائیکون بن جائیںاور دیکھیں کہ کوڑیوں کے مول لیز پر لی ہوئی زمینیں کیسے سونا اگلتی ہیں۔ کوئی ٹیکس وغیرہ کا جھنجھٹ نہیں۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ اس دھرتی میں کتنی مٹھاس ہے۔ آپ جائیداد خریدیں، جہاز خریدیں، ملک کے طاقتور افراد کواپنے جہازوں میں سفر کرائیں، اور آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔
یا پھر آپ ملک کے کسی ادارےمیں چلے جائیں۔ دوسروں کی جاسوسی کریں۔ یا وکلا برادری میں شامل ہو جائیں۔ اس کے لئے آپ کو قانون کی کہیں سے، کسی بھی طرح، حاصل کی گئی ڈگری (اور مارشل آرٹس کی مہارت) درکار ہوگی۔ اس کے بعدکوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ تمام نظام غیر مشروط طور پر آپ کی بات مانے گا۔ یا آپ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوجائیں جو استحقاق یافتہ ہے، یا جس کا ستارہ بلندی پر ہے۔ مثال کے طور پر شیخ رشید، عمران خان، طاہر القادری، پی ایس پی، پرویز مشرف وغیرہ کی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلیں۔ ایسا کرتے ہی آپ کو محسوس ہوگا گویا حاتم کی چمتکاری تلوار آپ کے ہاتھ آگئی ہے۔ آپ جوچاہیں کہیں اور کریں، آپ کو کچھ نہیں ہوگا۔
محفوظ رہنے کا ایک اور بھی طریقہ ہے۔ زندگی میں کچھ نہ کریں۔ کیونکہ اگر آپ کچھ نہیں کریں گے تو آپ کے ساتھ کچھ نہیں ہوگا۔ آپ پرامن طریقے سے ملازمت سے ریٹائر ہوجائیں، گولف کھیلیں، ویک اینڈمحفل میں گزاریں، یا عظیم مقاصد کے لئے زبانی جہاد کا معرکہ سرانجام دیں، جبکہ آپ کی نئی نسل دیار غیر میں بہترزندگی کی راہ ہموار کررہی ہو۔ ایک اور چوائس بھی ہے۔ یہاں سے ہجرت کریں۔ جتنی دور ہوسکتا ہے چلے جائیں۔ کسی اور ریاست کی نیشنیلٹی لے لیں۔ اس کے بعد وہاں بیٹھ کر تبصروں کے شغل سے دل بہلایا کریں کہ اس ملک کے حالات کتنے خراب ہیں۔ آپ گاہے گاہے پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں، یہاں کی ہو ا کوہلکا سا سونگھ کر اپنے بدقسمت رشتہ داروں کو حب الوطنی کے لیکچر دے سکتے ہیں۔ بدقسمت وہ جو آپ کی طرح یہاں سے نہ جاسکے اور اپنے بچوں کی وہاں پرورش نہ کرسکے جہاں آپ کررہے ہیں۔آپ کچھ زبردست کام بھی کرسکتے ہیں۔جی ہاں، سی آئی اے کے لئے کام شروع کردیں۔ یہ ایجنسی پاکستان میں اپنے اثاثوں کا تحفظ کرنے کا خصوصی بندوبست رکھتی ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جب آپ تیز طوفان کی زد میں ہوں تو بھی آپ کے سر سے ہیٹ نہ گرنے پائے۔ جس دوران آپ سی آئی اے کے لئے کام کررہے ہوں تو آپ خود کو انتہائی حب الوطن ظاہر کریں۔ یہ ملک کا محفوظ ترین مورچہ ہے۔
لیکن اگر آپ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے عام شہری اور اپنے کام سے محبت کرنے والے صحافی ہیں جن سے کبھی غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہے (کوئی بھی غلطی سے مبرا نہیں) لیکن آپ دل سے جمہوری اصولوں پر یقین رکھتے ہیں، اور آئین میں درج آزادیوں پر سنجیدگی سے یقین رکھتے ہوئے پوری ایمانداری سے سچی بات کہہ ڈالتے ہیں تو محترم، آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آپ شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ آپ کی سانسوں کی ڈور
بہت نازک ہے کیونکہ آپ کے سر پر حفاظت کی کوئی چھتری نہیں۔ آپ اور آپ کے اہل ِخانہ کو اس کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ یہ ادائیگی (محاورے کے مطابق) اپنی ناک سے کرنی پڑے گی اور اگر آپ ’’نورانی‘‘ ہیں تو پھر سر بھی کرنی پڑسکتی ہے۔ یقین کریں، آپ کا اپنا شعبہ بھی آپ کی حمایت نہیں کرے گا۔ کچھ صحافی نمائندہ تنظیموںاورپر یس کلبوں کے احتجاج کے علاوہ ہر میڈیا ہائو س نے نورانی پر حملے کی خبر سے گریز کیا۔
جیو سمیت جن گیارہ چینلوں کی مانیٹرنگ کی گئی، ان میں سے چھ اہم چینلوں نے اس حملے کا ایک نیوز ٹکر بھی نہ چلایا۔ بعد میں آٹھ چینلوں نے اسے کسی بھی نیوز بلیٹن کے قابل نہ سمجھا۔ اگلے روز، دی نیوز اور جنگ کے علاوہ کسی اور اخبار نے اسے نمایاں جگہ پر شائع نہ کیا۔ زیادہ تر اخبارات نے تواس کا بلیک آئوٹ کیا۔ یہی رویہ کوئٹہ میں میڈیا کے ساتھ کیے گئے سلوک کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ یہ ہے پاکستان میں آزادی ٔ صحافت ! اوریہی حقیقت ہے۔ نورانی پر ہونے والے حملے اور بلوچستان میں صحافیوں کے خطرناک حالات اسی مہیب حقیقت کا اظہار ہیں۔ میں نے موجود آپشنز کی فہرست بیان کردی ہے۔ سر جھکا لیں، یا سرکٹانے کے لئے تیار رہیں۔ معذرت نہ کی تو معذور ہوجائوگے۔ خوشامد کریں، خوش رہیں اور انعام پائیں۔ سچائی پر کھڑے ہونے کی جسارت کی توٹھوک دئیے جائو گے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button