کالم

نامعلوم نادیدہ کھیل

نومبر 1, 2017 6 min

نامعلوم نادیدہ کھیل

Reading Time: 6 minutes

احمد نورانی جان ہار سکتا تھا، اللہ نے اسے نئی زندگی دی۔ نامعلوم افراد، یقیناً اداروں کی دسترس سے دور رہیں گے کہ اصل مافیا یہی تو ہے۔ اب پتا چلا مافیا کیا ہوتا ہے؟ ہمت ہے تو پکڑ لو، نامعلوم افراد کا ریاست پاکستان کو کھلا چیلنج۔ غیر معطل ریاست کی کم سے کم ضرورت، اداروں بارے قوم غیر معتدل حالت اور معاندانہ تعصب سے پاک ہو۔ اداروں بارے قوم متفق و متحد ہوگی، غیر متعصبانہ رویوں کا غلبہ و تسلط ہو گا تو ملک دشمنوں کا معاندانہ رویہ، پراگندہ ذہن، خبث ِ دروں ریاست کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔ جب سے سوشل میڈیا کا زمانہ آیا ہے۔ سوشل میڈیا کے سامنے جدید الیکٹرانک میڈیا (TV) ماند پڑ چکا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا جائے اماں ڈھونڈ رہا ہے۔ سوشل میڈیا بھی ایسا، جو کسی کے کنٹرول میں نہیں، نامعلوم نادیدہ کی دسترس سے دور۔صحافیوں کی مار پیٹ، قتل و غارت ریاست کو نقصان ہی پہنچائے گا، فائدہ شاید نہ ہو۔
پچھلے تین سالوں سے ریاست پاکستان دومتضاد گروہوں میں متشددانہ بٹ چکی ہے، زیادہ متاثر دو اہم ادارے۔ سب کچھ متنازع کب، کیسے اور کیوں بنے؟ جب آئین اور قانون سے ماورا کردار یاکسی ادارے بارے بدگمانی عام ہو جائے، وطن دشمنوں کی ایسی کوششیں کامیاب رہتی ہیں۔ تکلیف دہ، عوام الناس کا حصہ بھی قبول کر لیتا ہے۔ کسی ریاست کا میڈیا اور سیاستدان معاشرے کے ہر حصے میں بڑا چھوٹا اپنا اپنا مستقل نظری، فکری مفاداتی موقف لئے، حمایت ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں کی سیاسی جماعتیں مسلک کے درجے پر پہنچ چکی ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کا اداروں بارے تشکیک، جانبداری کا تاثر اداروں کی اہلیت، قابلیت اور تاثیر کوہر صورت متاثرکرتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نوا ز شریف کی قیادت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ووٹوں کے ساتھ مقتدر، ملک ہر لحاظ سے ترقی کی جانب گامزن، ہر آنے والا دن بہتری کی نوید دے رہا تھا۔ آج تفکرات کی گرفت میں جکڑے جا چکے ہیں۔
روسی مداخلت کے بعد 80 کی دہائی میں وطن عزیز زندگی اور موت کے دوراہے پر، فتح روس نے نیست و نابود کرناتھا۔روسی شکست کے پردے میں ایٹمی طاقت بنے، بدلے میں ایک مضبوط ریاست اور فوج ابھر کر سامنے آئے۔ افغان جنگ میں کامیابی، تاریخ کا سنہرہ باب ہی تو تھا۔اتنی بڑی کامیابی آج ذکر اذکار سرسری کیوں؟ اہم بات، پیپلز پارٹی نے کھلے چھپے اس جنگ کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ بھٹو صاحب کے صاحبزادے مرتضی، شاہنواز ہزاروں جیالوں کے جلو میں، ساری حدیں ٹاپ گئے۔ روس بھارت کی مدد سے دہشت گرد تنظیم ’’الذوالفقار‘‘ بنا ڈالی جس کا کام ہی پاکستان فوج کے خلاف لڑنا تھا۔ بوڑھے شیر پنجاب مصطفی کھر بھارتی ٹینکوں پر پاکستانی سرحدیں عبور کرنے کا عزم رکھتے تھے۔ ایسا سیاسی رویہ پیپلز پارٹی کی ایجاد نہیں تھا۔ اس سے پہلے سانحہ مشرقی پاکستان جب رونما ہوا، مجیب کو فوجی عدالتیں پھانسی کی سزا سنا چکی تھیں۔ بدقسمتی سے سانحہ ہو کر رہا۔ شیخ مجیب الرحمٰن، عبدالولی خان کی نیب(حیدر آباد ٹریبونل کیس) وغیرہ وغیرہ جس سیاستدان پر جب بھی کڑا وقت آیا، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیتا رہا، عملاً ریاست ٹارگٹ رہی۔ عمران خان پر تو معمولی دبائو بھی نہ تھا، جب بین الاقوامی و بھارتی ٹی وی اور اخبارات کو دئیے گئے انٹرویوز (خصوصاً کرن تھاپڑے کے ساتھ) میں اداروں کو بدنام کرنے میں فراخدلی دکھا گئے۔ نواز شریف صاحب سے بھی خیر کی امید کم، توقعات ہمیشہ ایسی ہی، خیر سے ہمیشہ حفظ ماتقدم کے طور پر بھارتی دوستی میں آسودگی ڈھونڈی۔ ہمیشہ لکھا، پاکستان کے سیکورٹی پیراڈائم بارے جتنی یکسوئی، جانکاری، سیکورٹی اداروں کو ہے، ہمارے سیاستدان محروم۔ یہ بھی پورا سچ، سارے سیاستدان، سارے دانشور، سارے عسکری ادارے بالآخر مضبو ط و محفوظ خوشحال پاکستان کے ایجنڈے پر ایک جانب، متفق و متحدہیں۔ ایسی کیفیت کو دائمی بننا تھا، ٹوٹ پھوٹ سے بچتے۔ عوام الناس کے سارے جتھے تب ہی متحد رہتے جب تما م اداروں کی مسلم غیر جانبداری پر متفق ہوتے۔ عرصہ سے سیاستدان اور دانشور ادارو ںبارے بٹے رہیں، الزامات لگاتے رہیں، لواحقین من و عن مانتے رہیں۔ ایسے تاثر کو زائل کرنا، اداروں کی اپنی ذمہ داری، کہ گھر کو ٹھیک رکھنا ہے۔ سیاسی پارٹیاں بھی بری الذمہ نہیں، انکی ذمہ داری بھی۔پہل چونکہ عدلیہ اور مقتدر اداروں کی طرف سے رہی،انکی ذمہ داری بڑی۔ جسٹس منیر کے بدنام زمانہ نظریہ ضرورت کی ریت روایات بمع جنرل ایوب خان کی ہوس اقتدارشروعات تھیں، آج ایک لامتناہی آسیب بن چکا ۔ مشرقی پاکستان کا سانحہ بھی اس ترتیب کا کچھ نہ بگاڑ پایا۔ تنازعوں نے جہادِ افغانستان میں افواج پاکستان کا عظیم کردار باعثِ فخر و عزت نہ بننے دیا، دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ پر قومی اتفاق رائے کا رونا اسلئے نہیں کہ پاکستان کو گھیرنے اور خراب کرنے کا زاویہ ساتھ منسلک تھا۔ چنانچہ دلجمعی سے پذیرائی افواج پاکستان سے بھی نہ مل پائی۔
اگرسب حرف بحرف سچ تو اگلا کڑوا سچ بھی نگل لیں۔مسئلہ کا حل شہباز شریف آگے یا نواز شریف پیچھے دھکیلنے میں نہیں۔ نام نہاد قومی سمجھوتہ یا تجدید تعلقات کی جزویات ضروریات کچھ اور، توجہ دینی ہو گی۔ریاست متحمل ہو نہیں سکتی اگر سیاسی جماعتیں اور میڈیا اداروں کے اوپر منقسم رہے۔ کسی ملک میں ایسا میڈیا، ایسی سیاست بھی ،جہاں اداروں کی آڑ میں محبت، نفرت و حقارت،اپنی اپنی تقسیم بیچ رہے ہوں۔ کھلے عام جوش و خروش، جذبوں اور ولولوں کے ساتھ بعض اداروں کی حمایت میں سینہ سپرنظر آئیں۔ کئی دفعہ دن دیہاڑے مارشل لا لگوا چکے ہوں۔ بے شرمی سے مارشل لااور ماورائےآئین فیصلوںکے مطالبات کومقبول عام بنارہے ہیں۔ شیخ رشید جیسے یتیم اور قادری جیسے مسکینوں کی بات اہم نہیں، تحریک انصاف پاکستان کی اہم اپوزیشن پارٹی، کردار انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ جھوٹ، فریب، دغا میں چیمپئن بن چکے۔سوشل میڈیا دو ہاتھ آگے، ہر اصول ،ہر ضابطہ، ہر اخلاقی پیمانہ پامال ہو رہا ہے۔ توڑ موڑ مسخ شدہ حقائق کی تان سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ کی اعلانیہ حمایت اور مخالفت پر ختم ہورہی ہے۔ عمران خان اور ہمنوائوں کا برملا اظہار کہ ’’ہم فوج اور عدلیہ کی پشت پر کھڑے ہیں‘‘۔MQM کے کامیاب انہدام نے عمران خان اور ہمنوائوں کی غلط فہمیوں اور حوصلوں کو ساتویں آسمان پر پہنچا رکھا ہے۔ دوسری طرف کئی سادہ لوح صدق دل سے نواز شریف کو پردہ سیمیں کے پیچھے، ریٹائرمنٹ یا جیل میں دیکھنے پر بضد ہیں۔
مقتدر جماعت اور زیر عتاب شریف خاندان موقف کے مخالف میڈیا، تنگ آمد بجنگ آمد،صحیح یا غلط تقسیم کومستحکم کر رہے ہیں۔ سیاسی زمین پر موجود مسلم لیگ کا ووٹر سپورٹر، اداروں بارے وہی سوچ اپنانے کے قریب جو اس سے پہلے 80,70,60 کی دہائیوں کے سیاستدانوں اور پارٹیوں کا وطیرہ، پروگرام رہا ہے۔ 60 کی دہائی میں نہ سمجھا، 80 کی دہائی میںنہ سمجھا، اب کیوں سمجھا جائے گا۔ کامیابی کا اپنا نشہ، جسٹس منیر، جنرل ایوب، جنرل ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف کا ٹوٹتے ٹوٹتے، دہائی کم پڑ گئی۔کیا نشہ چڑھ کے رہے گا؟
جو مرضی ہو، صدر ٹرمپ جنگ کی دھمکی دیں، جیمز میٹس اور میک ماسٹر کتنی بھیانک تڑیاں لگائیں، ریکس ٹلرسن نرم و سخت وارننگ دے ڈالیں، پاکستانی پرنالہ وہیں کا وہیں رہنا ہے۔ ہوس اقتدار اور اختیارات کی جنگ جاری ہے۔ ریاست ڈگمگا رہی ہے۔ اقتصادیات کپکپاہٹ کا شکارہے۔ معیشت پرخود کش حملہ کر چکے ہیں، اسٹاک مارکیٹ چالیس ہزار سے بھی نیچے ،کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟ کیاوطن عزیز کی فکر وہ بھی کریں گے، جن کا فرض منصبی ہے ہی یہی۔ اداروں نے آئین و قانون کی حفاظت ایسے کرنی تھی کہ قوم متحد و متفق ہو کر تائید میں یک زبان رہتی نا کہ منقسم۔ کیا اداروں کیلئے عمران خان اور شیخ رشید گروپ کی پشت پناہی کافی ہے؟
بیرونی جارحیت اور اندرونی سیکورٹی یقینی بنتی تو پوری قوم متحد و یکسو دست و بازو بنتی،1965 میں مظاہرہ دیکھ چکے ہیں۔سب کچھ تتر بتر کیوں نظر آ رہا ہے۔ احمد نورانی کو نامعلوم افراد نے دارالحکومت، آبپارہ جیسے ناقابل تسخیرعلاقے سے چند سو گزدور جس طرح بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، زندگی کی بازی ہارتے ہارتے بچا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں حامد میر کی جان بچنا معجزہ ہی تھا۔ عمر چیمہ ،مطیع اللہ جان اور نجانے کتنے تشدد کا شکار رہے۔ سب میں ایک بات مشترک، ایسوں کی سوچ، اس فکر کے لوگوں سے مختلف جو اپنے آپ کو اداروں کا لاڈلا بتاتے تھکتے نہیں۔مخالف فکر کے صحافی، دانشوروں کے پروگرام بند کروا نے کے لئے کوششیں آج بھی جاری۔ مجیب الرحمن شامی جیسے سکہ بند جید دانشور کا ٹی وی پروگرام بند رہا۔ معاملات اسطرح مزید الجھیں گے۔ دیانتدارانہ رائے ہے کہ سلجھانے کی سبیل نکالیں۔
کالم لکھتے ابھی ابھی عمران خان کا نیا شگوفہ ’’نواز شریفNRO کے لئے اداروں پر دبائو ڈال رہے ہیں۔‘، عمران خان کا فکر و فاقہ کہ اداروں کو نواز شریف کے دبائو سے کیسے نکالاجائے۔ میرا رونا کہ نامعلوم افراد اور نادیدہ قوتوں کا کھیل کیسے بند ہو گا؟ ختم ہو پائے گا یا سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ 70سال سے جاری نادیدہ قوتیں اور نامعلوم افرادکا بلی چوہے کا کھیل جاری ہے، دیکھتے دیکھتے، آنکھیں پھٹ چکیں، قضیہ ہے کہ سلجھ نہیں پا رہا۔ سلجھ بھی پائے گا؟ امتحان کڑا؟

بشکریہ روزنامہ جنگ

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے