عدالت میں نواز شریف کی پریشانی

نواز شریف کیلئے کچھ بھی ٹھیک نہیں مگر بیٹی نے برا وقت گزر جانے کی تسلی کے اشارے دیے، احتساب عدالت میں باپ بیٹی نے ہاتھوں کی زبان میں بات کی _

کہتے ہیں مشکلات انسان کو آدھا کر دیتی ہیں لیکن جب ایک کے بعد ایک مشکل آن پڑے تو کمزوری بھلے اعمال سے ظاہر نہ ہو مگر پریشانی نفسیات پر سوار رہتی ہے _
احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز یکجا کرنے کی سماعت کے دوران نواز شریف کے طبیعت کچھ بہتر نہیں تھی، ہلکے نیلے رنگ کی شلوار قمیض پر گرے رنگ کی ویس کوٹ پہنے شان سے کمرہ عدالت تو پہنچے لیکن موڈ کچھ ٹھیک نہ تھا، ماتھے کے تیور طبیعت کی بے چینی کا پتہ دے رہے تھے، عدالتی پیشیاں بار بار بھگتنے کی بیزاری بھی نمایاں، آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں، آواز گلے کی خراش کا پتہ دے رہی تھی، پانی کی بجائے الائچی کے خوشبو دار دانوں سے گلے کو بہلاتے ریے،  سماعت کے دوران کئی بار آصف کرمانی کے کانوں میں بھی کھسر پھسر کی جبکہ پریشانی ظاہر ہونے پر مریم نواز بھی باپ کا بازو تھامے انہیں سب بہتر ہونے کا دلاسا دیتی نظر آئیں، دو گھنٹے سے زاید وقت عدالت میں رہتے ہوئے نواز شریف نے آدھا وقت سستاتے ہوئے گزارا جبکہ بارہا ان کا ہاتھ ماتھے پر گیا، سر میں درد ضرور تھا جو ہاتھوں سے پیشانی دباتے رہے تو کبھی بھونیں بھی انگلیوں کے نیچے دبتی رہیں، پہلے پانامہ کیس اور اس میں اقامے پر نااہلی، وزارت عظمی کا چھن جانا کیا کم دکھ تھا جو نیب ریفرنسز میں بار بار عدالتی پیشیاں بھگتنی پڑتی ہیں اور اہلیہ کا علیل ہونا بھی بڑی پریشانی ہے، اور رہی سہی کسر بچوں کا اشتہاری قرار ہونا اور ان کی بھی عدالت طلبی نے پوری کر دی، تمام مسائل سے دوچار سابق وزیراعظم یقیناً نفسیاتی طور پر بھی دباؤ میں ہیں، تمام پریشانیاں اعصاب پر سوار ہو گئیں تو خدانخواستہ جسمانی بیماری بھی حملہ آور ہوسکتی ہے، مریم نواز کی طرح ہم بھی یہی کہہ سکتے ہیں کہ وقت برا ہے پر گزر جائے گا _

متعلقہ مضامین