عدالتی شاعری

مجموعی عدالتی نظام چھوڑئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ حال ہے کہ جسے باعزت بری کردے اس کے بارے میں پتہ چلتا ہے سالوں قبل فوت ہو چکا، جس کی پھانسی کی سزا ختم کردے انکشاف ہوتا ہے کہ وہ غریب تو کب کا پھانسی پر لٹک بھی چکا۔ اسی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر خیبر پختون خوا کی ایک خاتون عدالت کو وہ کھری کھری سناتی ہے کہ جسٹس دوست محمد خان کا سر جھک جاتا ہے۔ ایسے میں اسی عدالت میں پناما کیس آتا ہے تو بے شمار تماشوں کے ساتھ تین ذوق بھی سامنے آتے ہیں۔ ایک یہ کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ ناولز کا ذوق رکھتے ہیں، دوسرا یہ کہ جسٹس عظمت سعید شاید پنجابی فلموں سے بہت متاثر ہیں اور تیسرا یہ کہ جسٹس اعجاز افضل خان بسوں اور ٹرکوں پر لکھی شاعری کا ذوق رکھتے ہیں۔ اس پوسٹ میں ہم جج صاحب کے ذوق کو بہتر کرنے کی نیت سے قدرے بہتر اشعار پیش کر رہے ہیں جن میں سے آخری شعر خاص طور پر جسٹس کھوسہ کے ذوق کی نذر۔

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی
یہ بھی توہین ہے عدالت کی

(سلیم کوثر)

محسوس یہ ہوتا ہے یہ دور تباہی ہے
شیشے کی عدالت ہے پتھر کی گواہی ہے

(حبیب ہاشمی)

ملے تھے پہلے سے لکھے ہوئے عدالت کو
وہ فیصلے جو ہمیں بعد میں سنائے گئے

(اظہر ادیب)

عدالت فرش مقتل دھو رہی ہے
اصولوں کی شہادت ہو گئی کیا

(فہمی بدایونی)

سچ جہاں پابستہ ملزم کے کٹہرے میں ملے
اس عدالت میں سنے گا عدل کی تفسیر کون

(پروین شاکر)

شراب شہر میں نیلام ہو گئی ہوگی
عدالت آج بھی ناکام ہو گئی ہوگی

(طالب حسین طالب)

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا
ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا

(مظفر وارثی)

حق بات بھی ارباب عدالت کو کھلی ہے
اظہار حقیقت کی سزا دیکھیے کیا ہو

(کوثر سیوانی)

میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا

(سعید دوشی)

سزا بغیر عدالت سے میں نہیں آیا
کہ باز جرم صداقت سے میں نہیں آیا

(سحر انصاری)

عدالت نے میری آزادی کے عوض
میرے خصیے مانگ لیے

(زاہد امروز)

متعلقہ مضامین