اور پھر ردعمل پر ردعمل

توقع تھی کہ پانامہ فیصلے پر تنقید اور مجھے کیوں نکالا، کا جواب نظرثانی درخواستوں کے تفصیلی فیصلہ میں دیا جائے گا، نظرثانی فیصلے میں مجھے کیوں نکالا کا جواب دے کر رہبری پر سوال داغ دیا گیا، تفصیلی فیصلے کے جاری ہونے کے دوسرے دن ن لیگ نے اعلامیہ کے ذریعے رہبری کے سوال کو غیر متعلقہ قرار دیکر کہا حضور اصل سوال رہبری کا نہیں ،منصفی،کا ہے، سپریم کورٹ میں بروز جمعرات اس امید سے پانامہ بینچ کے ججز کی عدالتوں کے چکر لگائے، شائد کوئی جواب یا نیا سوال نہ اٹھا دیا جائے، کیونکہ بظاہر لگ رہا کہ ہر عمل کا ردعمل اور پھر ردعمل پر ردعمل سامنے آ رہا ہے جیسے ڈبلیو ڈبلیو ای کی ریسلنگ چل رہی ہو، خیر ہماری امید بر نہ آئی تو گھڑی کے ساڑھے گیارہ بجانے سے پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں اپنی نشتیوں پر براجمان ہو چکے تھے، ساڑھے گیارہ بجے عمران خان اور جہانگیر ترین نا اہلی کی سماعت ڈیڈھ بجے تک چلتی رہی ،پہلے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے بورنگ اور قانونی دلائل کو سنا،پھر باری باری وکیل جہانگیر ترین، وکیل عمران خان اور وکیل حنیف عباسی نے دلائل دیے، عدالتی کاروائی چودہ نومبر تک ملتوی کر دی گئی تو دونوں جانب کے وکلاء نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ مقدمہ کا فیصلہ لکھتے وقت ان کے معاونین کا نام بھی فیصلے میں شامل کر لیا جائے،لائیٹ موڈ میں ججز اور وکلاء میں بات چل رہی تھی تو چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے باہر جو کچھ ہوتا ہے کیا وہ قابل ستائش ہے، ہمارے تحمل اور برداشت پر داد دیجئیے، کسی کے کہنے سے ہماری شان، انصاف میں کمی نہیں آئے گی،چیف جسٹس کے ان ریمارکس کا پس منظر بڑا ہی دلچسپ ہے جس پر آگے چل بات ہو گی۔
چیف جسٹس کی سر براہی میں تین رکنی بینچ نے جہانگیر ترین نااہلی مقدمہ پر اٹارنی جنرل کو دلائل دینے کی اجازت دی، اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کے سیکشنز پندرہ اے اور پندرہ بی کی ائینی و قانونی حیثیت پر عدالت نے معاونت طلب کی تھی، معاونت کا پس منظر وکیل جہانگیر ترین کی جانب سے ان دونوں سیکشنز کو چیلنج کرنا ہے، اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا جہانگیر ترین نے فرنٹ مینوں کے ذریعے دوسری کمپنی کے حصص خریدے،جنہیں بعد ازاں فروخت کرکے سات کروڑ کمائے گئے، حصص کی خریداری میں سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی، کمیشن نے معاملہ پر شوکاز نوٹس لیا تو ترین نے اعتراف جرم کر کے تمام رقم جرمانے کیساتھ ادا کر دی،سیکورٹی ایکسچینج کمیشن کی کاروائی کو جہانگیر ترین نے کسی فورم چیلنج کیا،نہ کمیشن کے قانون کو کسی جگہ چیلنج کیا گیا ،چیف جسٹس نے کہا عدالت کو پارلیمنٹ کی قانون سازی پر جوڈیشل نظر ثانی کا اختیار ہے،کسی قانونی یا آئینی نقطہ کو کسی وقت اٹھایا جا سکتا ہے،وکیل جہانگیر ترین دلائل دینے کے لیے روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے کہا آپ اپنی گزارشات تحریری صورت میں جمع کرا دی، وکیل نعیم بخاری نے عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت میں دلائل میں کہا کہ دو ہزار کے انتخابات میں عمران خان نے کوئی اثاثہ چھپایا تھا تو ریٹننگ افسر ان کے کاغذات مسترد کرنے کا مجاز تھا، ان کے موکل کے کاغذات پر اس وقت کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا،عمرا خان کے کاغذات نامزدگی کا معاملہ صرف دو ہزار دو اور دو ہزار تیرہ کے الیکشن کی حد تک ہے، اس موقع پر حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ روسٹرم پر آگئے ،انہوں نے کہا عمران خان نے انیس سو ستانوے کے کاغذات میں لندن فلیٹ اور آف شور کمپنی کو ظاہر نہیں کیا ،جس پر چیف جسٹس نے کہا عمران خان انیس سو ستانوے کے کاغذات کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں،اگر وہ دستاویز منگوابھی لیں تو کیا فرق پڑے گا ،اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کیا آپ نے کبھی الیکشن لڑا ہے اور اس کے کاغذات سنبھال کے رکھے ہیں، جس پر اکرم شیخ نے کہا انیس سو ستتر کی تحریک میں انہیں گرفتار کیا گیا تو جیل میں فیصلہ کیا تھا کہ سیاست سے دور رہنا ہے، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ایک سو چوراسی تین کے مقدمہ میں غیر متنازع دستاویز فراہم کرنا درخواست گزار کا کام ہے، مخالف فریق سے عدالت الزامات پر سوال کر سکتی ہے ،اصل سوال یہ ہے کہ آف شور کمپنی کا یورو اکاونٹ کہاں سے نکل آیا، وکیل اکرم شیخ نے کہا عمران خان نے انیس سو ستانوے میں الیکشن لڑنا اور آف شور کمپنی کو تسلیم کر لیا ہے ،اس لیے اب مصدقہ دستاوید پیش کرنے کا ذمہ عمران خان کے کندھے پر ہے ،چیف جسٹس نے کہا عمران خان انیس سو ستانوے کا الیکشن ہار گئے تھے تو اکر شیخ بولے وہ دو ہزار دو کے الیکشن میں وزارت عظمی کے امیدوار تھے،جس پر چیف جسٹس نے کہا چھوڑیں یہ بات باہر جا کر کریں،جسٹس عمر عطاء بندیال نے بات کو آگے بڑھایا اور کہا یہ بات کیمرے کے سامنے جا کر لیں،اکرم شیخ نے کہا پہلے نعیم بخاری دلائل مکمل کر لیں وہ اپنی باری پر بات کریں گے ،نعیم بخاری نے کہا انہیں موقف پیش کرنے کے لے پیر تیرہ نومبر تک کا وقت دیا جائے،عدالت نے عمران خان نے انیس سو ستانوے کے کاغذات طلب کرنے کی استدعا مسترد کرکے سماعت چودہ نومبر تک ملتوی کردی،مقدمہ کی سماعت کا اختتام ہوا تو حنیف عباسی،عمران خان،جہانگیر ترین کے وکلاء نے چیف جسٹس سے استدعا کی جب دونوں مقدمات کا فیصلہ لکھا جائے تو ان کے معاون وکلاء کے نام فیصلے میں شامل کیے جائیں، اس موقع پر ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر انہوں نے ٹی وی پر کمنڑی نہ کرنی ہو تو ان کا نام بھی فیصلے میں شامل کرلیں، جس پر نعیم بخاری بولے کہ عدالت میں زیر سماعت مقدمہ پر رائے زنی نہیں ہونی چاہیے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا وہ عام طور پر ریمارکس دینے سے گریز کرتے ہیں، کیا عدالت کے باہر جو کچھ ہو تا وہ کسی طرح قابل ستائش ہے، آئین سے محبت رکھنے والا کبھی اس امر کی ستائش نہیں کریگا ، دالت کے باہرجوکچھ ہوتاہے کیاوہ قابل ستائش ہے،ہمارے تحمل اور برداشت پر داد دیجیے ،کسی کے کہنے سے ہماری شان یا انصاف میں کمی نہیں آئے گی،جو عزت یا جومرتبہ ہمیں ملاہے اس سے زیادہ اس دنیامیں کہاں سکتاہے؟ یہاں صلہ نہ ملے، آخرت میں میں بخشش ہو جائے گی، کسی کے لیے اپنے کام میں ڈنڈی نہیں ماریں گے، کبھی ایسے ریمارکس نہیں دیے جس سے کسی فریق کا مقدمہ متاثر ہوا ہو، وکیل اکرم شیخ نے چیف جسٹس کے لیے دنیا و اخرت میں کامیابی کی دعا کی تو وکیل نعیم بخاری بولے چشم بدور ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button