”تختہ بند“

فارسی زبان وادب سے شناسائی کے بغیر اُردو زبان میں لکھنا ان شیشوں کے بغیر گاڑی چلانا ہے جن کے ذریعے پیچھے آنے والی ٹریفک پر نگاہ رکھی جاتی ہے۔ ہوں مگر ایک ڈھیٹ آدمی۔ اس ضمن میں کوئی شرمندگی محسوس کئے بغیر اُردو میں یہ کالم تقریباََ روزانہ کی بنیاد پر لکھے چلے جارہا ہوں۔ آج مگر کم مائیگی کا احساس کچھ زیادہ ہورہا ہے۔

شیخ سعدی کا ایک شعر ہے۔ اس میں ”تختہ بندم“استعمال ہوا ہے۔ تختے سے بندھے ایک آدمی کو تیزی سے بہتے دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔دریا میں پھینکے شخص کے لئے مگر حکم ہے کہ وہ اپنے کپڑوں کو گیلا کئے بغیر تخت پر بندھا ہوا پار اُتر جائے۔
میرے مشن ہائی سکول رنگ محل لاہور میں فارسی اور اُردو زبان کے ایک استاد، ماسٹر نصیر ہوا کرتے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد غالباََ مراد آباد سے ہجرت کرکے ہمارے شہر آئے تھے۔ بہت ہی خلیق اور نفیس انسان تھے مگر انتہائی کم گو۔ کلاسوں کے درمیانی وقفوں میں وہ ساتھی اساتذہ کے ساتھ سٹاف روم میں گپ شپ لگانے کی بجائے ہمارے سکول کے صحن کے ایک کونے میں بیٹھ جاتے۔ کئی بار غالباََ خود کلامی کرتے ہوئے ان کی آواز چیخ کی مانند بلند ہوتی اور وہ شیخ سعدی کا ”تختہ بندم“ والا شعر پڑھتے ربّ کریم سے فریاد یا شکوہ کرتے سنائی دیتے۔
مڈل پاس کرلینے کے بعد میں نے اپنے ایک بزرگ سے ”تختہ بندم“ والا شعر سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ اس میں تختے سے بندھے اور دریا میں ڈبکیاں لگاتے شخص کا Image مجھے بہت طاقت ور لگا۔ ساری عمر کے لئے میرے ذہن میں محفوظ ہوگیا۔ وہ شعر البتہ بذاتہی یاد نہیں رہا جس کی ”تشریح“ فرماتے ہوئے میرے بزرگ نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کا اصل مقصد انسان کا ربّ سے شکوہ ہے۔ اقبال کا ”باغ بہشت سے مجھے اذن….(غالباََ اس کے بعد سفر ہے)دیا تھا کیوں“ والی بات ہے۔اقبال نے اس کے بعد قلندرانہ انداز میں ”کار جہاں دراز ہے“ میں مصروف ہوجانے کی بات کہی تھی۔
شیخ سعدی نے مگر عاجزی سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ کارِ دُنیا میں گناہ کی طرف مائل کرنے کے لئے سولشکارے اور اشارے موجود ہیں۔ انسان کو دنیا میں بھیج کر ربّ کریم نے مگر اس سے توقع یہ رکھی کہ وہ خود کو ترغیب گناہ کے دریا میں بہتے ہوئے بھی اپنے لباس کو ترکئے بغیر پار اتر جائے۔ اس کے حضور”خشک“ حالت میں پیش ہو۔
تختے سے باندھ کر دریا کی روانی میں پھینکے شخص کی بے بسی مجھے ان 23صفحات پر مشتمل فیصلے کو بغور پڑھتے بارہا یاد آئی جو سپریم کورٹ نے منگل کی شام جاری کیا ہے۔اس فیصلے میں ان وجوہات کو تفصیلی طورپر بیان کیا گیا ہے۔جن کی بنیاد پر نواز شریف کی نااہلی والے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کو رد کیا گیا تھا۔
ایک سیاسی رپورٹر ہوتے ہوئے قانون کی ضرورتوں اور باریکیوں سے قطعاََ بے خبر میرے ذہن میں اکثر یہ سوال اٹھا کہ نواز شریف کے وکلاءنے نظرثانی کی درخواست کیوں دائر کی تھی۔ پانامہ دستاویزات کے حوالے سے نواز شریف اور ان کے بچوں کے معاملات کے بارے میں حقائق جاننے کے لئے سپریم کورٹ نے روز اوّل ہی سے ایک بے رحم محتسب والا رویہ اختیار کرلیا تھا۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ یہ رویہ مناسب تھا یا نہیں،حقیقت یہ بھی رہی کہ نواز شریف کے وکلاءاپنے مو¿کلین کا مناسب دفاع کم از کم خلقِ خدا کی نظر میں ایک بھرپور انداز میں نہ کر پائے۔
پاکستان کے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے باوجود نواز شریف کی گریڈ18سے 21تک کے افسران پر مشتمل JITکے روبرو اپنے منصب سے الگ ہوئے بغیر پیشی،آئینی طورپر ”چیف ایگزیکٹو“ کہلاتے شخص کی مکمل تذلیل تھی۔ اس ذلت کا ذمہ مگر صرف اور صرف نواز شریف کے سر ہے جو اپنے عہدے سے استعفیٰ دئیے بغیر JITکے روبرو پیش ہوگئے۔
28جولائی 2017کو جب حتمی فیصلہ آگیا تو نواز شریف کے سامنے دو ہی راستے تھے انکار یا سرجھکا کر ان مقدمات کا بھرپور قانونی تیاری کے ساتھ سامنا جو احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ان کے خلاف تیار کرنا تھے۔ نواز شریف،میری ناقص رائے میں Either/Orوالے اس تاریخی مرحلے میں کوئی دوٹوک فیصلہ نہ کر پائے۔نظرثانی کی درخواست بھی ان کے ذہن میں موجود کنفیوژن کی ایک عملی مثال تھی۔ اس درخواست کو رد کرنے کے لئے منگل کی شب جو تفصیلی فیصلہ جاری ہوا ہے، میری نظر میں وہ نواز شریف کے لئےMoreover ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے دو ٹوک الفاظ میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ پانامہ دستاویزات کے حوالے سے اُٹھے سوالات کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف اور ان کے بچوں نے مسلسل غلط بیانی سے کام لیا۔ سپریم کورٹ نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے فارغ کر دینے کے بعد احتساب بیورو کی جانب سے بنائے مقدمات کی اپنے ایک جج کے ذریعے نگرانی پر مجبور ہوا کیونکہ سابق وزیراعظم نے ایف ا ٓئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، نیشنل بینک اور انٹیلی جنس بیورو پر اپنے ”کمی“ (Cronies)مسلط کر رکھے تھے۔ ان اداروں سے نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف ٹھوس ثبو ت اور شہادتیں حاصل کرنے کے لئے ضروری تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج Prosecution کے عمل کی براہِ راست نگرانی کریں۔
میری ناقص رائے میں منگل کی شب جاری ہوا تفصیلی فیصلہ نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ایک بہت ہی سنگین فردِ جرم ہے۔ اس فیصلے کے بغور مطالعے کے بعد مجھے نواز شریف اور ان کے بچوں کے لئے آنے والے دنوں میں کسی قانونی ریلیف کی گنجائش دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔
کسی ممکنہ ریلیف کے امکانات کی معدومیت مجھے اس تناظر میں بہت عجیب لگی جہاں نواز شریف کے لئے ایک نیا NRO تیار ہونے کے دعوے کئے جا رہے تھے۔ عمران خان صاحب نے اس ممکنہ NRO کا راستہ روکنے کے لئے شہر شہر جلسے شروع کر دئیے۔ لوگوں کو گماں ہوا کہ وہ ان جلسوں کے ذریعے قبل از وقت انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں ۔ منگل کی شب کم از کم مجھے سمجھ آ گئی کہ ان کے طوفانی جلسوں کا اصل مقصد کیا تھا اور سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے ذریعے غالباََ وہ مقصد حاصل ہوگیا ہے۔ خان صاحب اب نہایت اطمینان سے آئندہ انتخابات کا انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے ہاتھوں ”گاڈ فادر“ ٹھہرائے ان کے سیاسی دشمن یعنی نواز شریف کو منگل کی شب جاری ہوئے 23صفحات نے نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی حوالوں سے داغدار بنا ڈالا ہے۔
نواز شریف کے پاس اپنی ذات پر لگے داغوں کو دھونے کا فی الحال کوئی قانونی فورم موجود ہی نہیں۔ جلسے، جلوس ہیں جہاں اب ”مجھے کیوں نکالا“ والا سوال کسی کام نہیں آئے گا۔ سابق وزیراعظم کو اب صرف ”تختہ بند“ ہو کر ہی احتساب عدالتوں کے درمیان سے خود کو گیلا کئے بغیر پار اُترنا ہے اور ایسا ہونا تقریباََ ناممکن نظر آرہا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین