فاروق ستار ہاری بازی کیسے جیتے

یہ بات تو 3 مارچ 2016 سے جب سید مصطفیٰ کمال نے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف علم کہی جارہی تھی کہ کسی ایک مرحلے پر ایم کیوایم اور سید مصطفیٰ کمال کے مابین بات چیت کے ذریعے معاملات طے ہونگے ۔ 22اگست 2016 کے بعد جب ایم کیو ایم دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوئی تو اس کے بعد یہ امکان اور بڑھ گیا، کیونکہ مائنس الطاف کا فارمولہ کسی اور کی بجائے الطاف حسین نے 22اگست 2016 کو خود اپنی جماعت پرلاگو کیا تھا۔ کوئی محب وطن پاکستانی پاکستان کے خلاف کوئی نعرہ برداشت نہیں کرسکتاہے اور گزشتہ سوا سال میں الطاف حسین کے نفرت انگیز اور پاکستان دشمنی پر مبنی بیانات اور اقدامات نے جہاں ایم کیوایم لندن کے لئے پاکستانی سیاست کے دروازے بند کردئے تھے وہیں ایم کیوایم پاکستان ، پاک سرزمین پارٹی اور مہاجر قومی موومنٹ کو مجبور کردیاکہ وہ متحد نہ ہوئے تونہ صرف 2018 کے عام انتخابات میں ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا بلکہ آئندہ سندھ کی شہری سیاست مکمل طور پر ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ یہی وہ خوف تھا جس نے ماضی میں ایم کیوایم حصہ رہنے والوں کو مفاہمت کے لئے مبجور کیا۔
دوسری جانب کچھ قوتوں کو ایم کیوایم نام اور نشان کسی صورت قبول نہیں تھا غالباً اس کا ادراک ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو بھی تھاکہ ماضی کے بد نما داغوں کے ساتھ ہمارے لئے مزید آگے ناممکن ہوگا، اس 9اردو لئے ان میں سے بیشتر ذہنی طور پر ایم کیوایم پر پابندی یا دوسرے نام سے سیاست سمیت ہر فیصلے کو قبول کرنے کے لئے اپنے آپ تیار تھا۔غالباً یہی وجہ ہے کہ پی ایس پی اور مہاجر قومی موومنٹ کے ساتھ باہمی تعلقا ت کو بہتر کرنے کی مہم کا آغاز ایم کیوایم پاکستان نے کیا۔ایم کیوایم پاکستان کے لئے یہ مشکل ضرور تھی کہ وہ یکمشت کیسے دستبردار ہو۔
صورتحال کو دیکھتے ہوئے بیک ڈور رابطوں کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ’’مہاجرسیاست‘‘ سے جڑی تمام قوتوں کو متحد کیا جائے ، پہلے مرحلے میں ایم کیوایم پاکستان اور پی ایس پی کو متحد کیاجائے کیونکہ یہی دو گروپ بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں،ایم کیوایم پاکستان کی قیادت یہ سفر آہستہ آہستہ طے کرنا چاہتی تھی شاید اس کی وجہ شدید عوامی ردعمل کا خدشہ تھا مگر کچھ لوگوں کو زیادہ جلدی تھی۔
اطلاعات کے مطابق مبینہ طور پر تحریک انصاف کے ایک رہنما نے اپنی پارٹی قیادت کی مشاورت سے سہولت کاری کی اور موصوف اور ان کے ساتھی اتنے جلدی میں تھے کہ ایک رات میں ’’ایم کیوایم کانام ، منشور اور نشان‘‘ دفن کرنے کا فیصلہ کیاگیا،مگر ایم کیوایم پاکستان قیادت جلد بازی پر راضی نہ تھی،تاہم فی الحال انتخابی اتحاد پر پر راضی ہوئی اوراس کے لئے 8 نومبر 2017 کی تاریخ مقرر کی گئی ۔
کراچی پریس کلب میں ہونے والے اس پریس کانفرنس میں ہم بھی موجود تھے اورہم نے ایم کیوایم پاکستان کا کوئی ایسا رہنما نہیںجنہی دیکھا جو ممکنہ اعلان یا فیصلے پر دلی طور پر خوش ہو ، لگ ایسا رہاتھاکہ فیصلہ تھوپ دیا گیاہے۔کراچی کلب میں ڈاکٹر فاروق ستاراوران کے ساتھی مایوس چہروں کے ساتھ تقریباً پونے گھنٹے تک پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کا انتظار اس طرح کرتے رہے جیسے کوئی ’’مفتوح‘‘ اپنے ’’فاتح ‘‘ کا انتظار کرتاہے۔
کراچی پریس کلب میں سید مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں کی آمد بھی فاتحانہ تھی اور یہ ان کا حق بھی تھا کیونکہ یہ دن واقع ان کی ’’فتح‘‘ کا دن تھا ۔ پریس کانفرنس میں پی ایس پی کے لوگ ’’شاداں‘‘ اور ایم کیوایم کے لوگ ’’پریشاں‘‘ تھے۔پریس کانفرس میں ڈاکٹر فاروق ستار کی گفتگو کا خلاصہ یہی تھاکہ ’’ایم کیوایم کے نام ،منشور اور نشان‘‘ وہ دستبردار ہورہے ہیں مگر آہستہ آہستہ اور ان کی گفتگو کافی متوازن اور مفاہمانہ مگر’’ایک مفتوح‘‘ کمانڈر کی طرح کی تھی۔
جب پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال کو مائک ملا تو ان کی ابتدائی گفتگو بھی مفاہمانہ تھی تاہم اندازہ ’’فاتحانہ‘‘تھا مگر جوں جوں گفتگو بڑھی پھر گفتگو بھی ’’فاتحانہ‘‘ رنگ اختیارکرتی گئی ، شاید جذبات اور فتح کی خوشی میں سید مصطفی کمال یہ بھول گئے تھے کہ وہ مشترکہ پریس کانفرنس میں نہیں بلکہ پاک سرزمین پارٹی کی پریس کانفرنس میں۔ جب سید مصطفی کمال نے ایم کیوایم کو الطاف حسین کی ’’ملکیت‘‘ اور ’’دفن‘‘ کرنے کی بات کی تو اسی وقت اندازہ ہوا کہ یہ جبر کی شادی زیادہ دیر نہیں چلے گی کیونکہ وہیں سے لوگوں نے کھسکنا شروع کردیاتھا۔ اس گفتگو کے دوران ڈاکٹر فاروق ستاراور پی ایس پی کے ایک اہم رہنما انتہائی مایوس اور کسی اور سوچ میں چلے گئے۔راقم کے ایک سوال سمیت تین سوالوں کے بعد پریس کانفرنس ختم ہوئی اور سید مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھی فاتحانہ نعرے بازی کرتے ہوئے چلے گئے۔دوسری جانب ڈاکٹر فاروق ستار نے آخر میں یہ اعلان بھی کیا کہ پارٹی ، نشان اور منشور ختم نہیں ہوگا مگر اس وقت تک کام ہوچکا تھا۔
یہ میراذاتی تجزیہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کلی طور پر بند گلی میں کھڑے ہونے ،سید مصطفیٰ کمال کے ضرورت سے زیادہ سخت لب و لہجے اور اپنوں کی سخت تنقید و الزامات کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ جب ’’دفن ہی ہونا ہے تو پھر تنہا نہیں دوسروں کو بھی ساتھ لیکر دفن ہوناہے‘‘ ان کے اسی فیصلے نے ان کو ہاری ہوئی بازی نہ صرف جیتوادیا بلکہ الطاف حسین کا متبادل بھی بنادیا۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک پریس کانفرنس میں وہ کچھ کیا اورکہا جو وہ شاید 35سال میں بھی نہ کرسکے اور کہ پائے تھے۔ اب کوئی اتحاد ہو یا انضمام وہ ڈاکٹر فاروق ستار کی شرائط پر ہوگا۔ اس سیاسی کھیل میں سید مصطفیٰ کمال اپنی جذباتیت اور شاید سیاسی ناتجربہ کاری کے باعث جیتی ہوئی بازی ہار گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سید مصطفیٰ کمال 11نمبر2017کو کیا جواب دیتے ہیں۔ امکان تو یہی ہے کہ اب وہ غلطی نہیں کریں گے جو کراچی پریس کلب میں ہوئی ہے۔

متعلقہ مضامین