ہیرا اور شیشہ

کہتے ہیں ایک شخص کے پاس ایک قیمتی ہیرا اور ایک شیشہ تھا دونوں کی بناوٹ اس طرح کی تھی کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں بتا سکتا تھا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اپنے بیٹے کو بلا کر ہیرا اور شیشہ دونوں حوالے کیے اور ساری حقیقت بھی بیٹے کے گوش گزار کی، باپ کے مرنے کے بعد بیٹا ہیرے اور شیشے کو ایک ساتھ لے کر مختلف ریاستوں کے سفر پر نکلا، ہر ریاست کے حاکم کو چیلنج کرتا کہ دونوں میں سے ہیرا کون سا ہے وہ بتا دے تو ہیرا خزانے میں جمع کرا دے گا اگر ایسا نہ کر سکا تو حاکم اسے ہیرے کی قیمت کے برابر قیمت ادا کرے گا، کئی ریاستوں کے حاکم کوشش کے باوجود بھی اپنے جوہریوں سمیت ناکام ہوئے اور ہیرے کے برابر قیمت ادا کرتے گئے، وہ لڑکا جو ایک ہیرا اور شیشہ لے کر گھر سے نکلا تھا مالدار ہوتا گیا۔ جوں جوں مالدار ہوتا گیا اس کی ہوس میں بھی اضافہ ہوتا گیا، ایک چھوٹی سی ریاست سے اس کا گزر ہوا جہاں کا حاکم کھلے آسمان کے تلے دربار لگا کر بیٹھا تھا، لڑکے نے یہی چیلنج اس کے سامنے رکھا، حاکم تو ناکام ہو گیا لیکن اس تیز دھوپ میں لگے دربار میں ایک نابینا شخص نے کہا کہ اسے ایک موقع دیا جائے کہ وہ ہیرے اور شیشے میں سے ہیرے کا بتا سکے، سارے حیران ہوئے لیکن ریاست کے حاکم نے اس کو موقع دیا۔ اس نابینا شخص کو اٹھا کر اس باکس کے قریب لایا گیا جس میں ہیرا اور شیشہ ایک ہی جیسی بناوٹ میں موجود تھے ۔اس نے دونوں کو چھوا اور ناقابل یقین طور پر ہیرے کی شناخت کر لی، پورے دربار پر ایک لمحے کےلئے خاموشی چھا گئی، ہیرے کے مالک لڑکے نے اس سے پوچھا کہ شناخت کیسے کی تو وہ بولا کہ جہاں دربار لگا ہے وہ کھلا آسمان ہے اور تیز دھوپ ہے، تیز دھوپ میں بھی ہیرا ٹھنڈا اور سکون دینے والا ہوتا ہے جبکہ شیشہ تیز دھوپ میں گرم ہو جاتا ہے، اسی وجہ سے ہیرے کی پہچان کی گئی اس لڑکے نے صحیح شناخت کرنے کے بعد ہیرے کو ریاست کے خزانے میں جمع کرا دیا جبکہ ریاست کے حاکم نے نابینا شخص کو انعام و کرام سے نوازا، اگر دیکھا جائے تو کچھ ایسی ہی صورتحال عام زندگی میں بھی ہے ۔ قیمتی،کامیاب اور اچھا انسان ہر طرح کے حالات کا مقابل پر سکون طریقے سے کرتا ہے وہ کبھی شکایت یا ایسی زبان جس سے کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو استعمال نہیں کرتا لیکن جو انسان شیشے کی مانند ہوتے ہیں وہ حالات کی حدت کو برداشت نہیں کر سکتے یا تو ٹوٹ جاتے ہیں یا پھر توڑ دیئے جاتے ہیں، ہمارے اردگرد بھی ایسے ہی حالات چل رہے ہیں، لیکن ہمیں دیکھنا ہے کہ ان سارے حالات میں کون ایسے ہیں جو ہیرے کی طرح پرسکون اور صبر سے ہر طرح کے حالات میں مقابلہ کرتے رہے اور کون سے ایسے تھے جنھوں نے شیشے کی طرح تھوڑی سی حدت بھی برداشت نہیں کی، فیصلہ ہم نے کرنا ہے اور اس فیصلے میں ہمیں احتیاط بھی کرنی ہے کیونکہ ہمارا حال اور مستقبل اسی فیصلے سے جڑا ہے۔ اگر ہم نے صحیح سمت کا انتخاب کر لیا تو کامیابی ہماری ہو گی اور اگر تھوڑی سی حدت میں ہی راستہ چھوڑ دیا تو منزل کھو دیں گے، ماضی میں جو غلطیاں ہم کر چکے ہیں انھیں سدھارنے کےلئے درست اور صحیح فیصلے وقت کی ضرورت ہیں اور یہ فیصلے ہم نے بڑی سوچ بچار کے بعد کرنے ہیں تاکہ ماضی کی طرح کوئی مزید غلطی نہ کریں ۔

متعلقہ مضامین