عدالت، لاپتہ افراد اور جج

سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے میں سماعت ہوئی۔ منتخب وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر گھر بھیجنے والے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں دو رکنی عدالتی بنچ نے مقدمہ سنا۔
لاپتہ افراد کی جانب سے لواحقین اور آمنہ مسعود جنجوعہ پیش ہوئیں۔ لاپتہ افراد کمیشن کے سیکرٹری، ڈپٹی اٹارنی جنرل، پنجاب اور خیبرپختون خوا حکومتوں کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بھی کمرہ عدالت میں حاضر ہوئے۔
سولہ درخواستیں عدالت کے سامنے تھیں۔ راول پنڈی کی رہائشی خاتون عابدہ ملک کی درخواست کا نمبر پکارا گیاتو وہ اور ان کے شوہر عدالت میں کھڑے ہوئے۔ لاپتہ تاسف ملک کے والد نے کہاکہ پندرہ جون دوہزار سولہ کو پانچ ججوں نے حکم دیا تھا کہ ہماری ملاقات بیٹے سے کرائی جائے، آج تک عمل نہیں ہو سکا۔ عدالت نے اپنے حکم پر عمل کا پوچھا تو پختون خوا حکومت کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ یہ ملاقات محکمہ داخلہ نے لکی مروت حراستی مرکز کی انتظامیہ سے مل کر طے کرنی ہے جہاں تاسف ملک قید ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ حراستی مراکز پختون خوا حکومت کے زیرانتظام علاقے میں ہیں، آپ کو دیکھنا چاہیے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ ان میں سے کچھ مراکز قبائلی علاقوں میں ہیں، تاسف ملک کے کیس میں محکمہ داخلہ نے لکھ کر دے دیا ہے، ملاقات کیلئے لکی مروت کے کمشنر کو درخواست دیں۔ اسی وقت لاپتہ تاسف ملک کے والد بول پڑے کہ میرے بیٹے کو نامعلوم افراد نے نہیں بلکہ فوج کے ایک میجر نے اٹھایا، ملٹری انٹیلی جنس کے افسر سے اس کا جھگڑا ہواتھا، پانچ سال میں نے دوڑ دھوپ کی ہے، اب مجھے معاشرے سے نکال دیا گیاہے، کیونکہ آرمی میجر نے میرے بیٹے کو اٹھایا ہے تو میرے خاندان کو کرائے پر مکان تک نہیں دیا جارہا، تین مکان بدل چکاہوں،اگر میرے بیٹے کا کوئی قصور ہے تو اسے سزا دی جائے تاکہ میں جس عذاب سے گزررہاہوں اس کا خاتمہ ہو، تئیس نومبر دوہزار بارہ کو حراست میں لیاگیا تھا۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کے پوچھنے پر بتایاکہ تمام متعلقہ افسران کو لکھا ہے کہ حراستی مراکز میں قید تمام افراد کی تفصیلات اور الزامات کے بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ حراست میں لیے گئے افراد نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو متعلقہ قوانین کے تحت ٹرائل کیاجائے، اگر کسی کے خلاف ثبوت ہے تو عدالت میں مقدمہ چلائیں اور اگر نہیں ہے تو چھوڑ دیں۔عدالت نے رپورٹ مانگی تھی کیا ہوا؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیاکہ ابھی تک کسی متعلقہ ادارے نے رپورٹ نہیں دی۔ جسٹس اعجازافضل نے پوچھا کہ کیوں؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہاکہ قبائلی علاقوں سے متعلق وزارت سے بھی رابطہ کیاہے ابھی تک جواب کا انتظار ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزرگیا، بندہ جیل میں ہے، اگر اس کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو مقدمہ چلائیں۔
لاپتہ تاسف ملک کے والد پھر بول پڑے کہ میرا تعلق جموں و کشمیر سے ہے، انیس سو پینسٹھ میں پاکستان کی فوج کے ساتھ یہاں آیا، میری چار بیٹیاں ہیں، ایک ہی بیٹاہے، اس کے بچے روز پوچھتے ہیں، جھوٹ بولتا ہوں کہ دبئی گئے ہوئے ہیں، میرے بھائی مقبوضہ کشمیر میں علی گیلانی کی حریت کانفرس کے جنرل سیکرٹری ہیں، ان سے بھی جھوٹ بولتاہوں تاکہ پاکستان کی بدنامی نہ ہو۔ مگر جو مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ساتھ ہو رہا ہے اگر یہاں بھی وہی ہورہاہے تو پھر فرق کیا ہوگا۔جسٹس اعجازافضل نے جذباتی ہوجانے والے تاسف ملک کے والد سے کہاکہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے رپورٹ مانگی تھی، رابطہ نہ ہوسکنے کی وجہ سے جمع نہ کرائی جاسکی، اب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مہلت طلب کی ہے تو انتظار کرلیتے ہیں۔ وکیل طارق اسد نے کہاکہ اس کیس میں عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی رکھی ہے اس کو بھی سن لیاجائے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں اور ایک ہی وقت میں خاتمے چاہتے ہیں اس لیے کہاہے کہ کسی پر الزام ہے تو ثبوت عدالت میں پیش کرکے مقدمہ چلائیں ، نہیں تو رہا کر دیں۔ عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوا، ہمیں وجہ کیلئے رپورٹ دیکھنے دیں، ایک ہفتے میں دوبارہ رپورٹ جمع کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔
وکیل طارق اسد نے کہاکہ ایک اور معاملہ بھی عدالت کی توجہ چاہتا ہے، راجن پور سے انسداد دہشت گردی محکمے نے سات افراد کو حراست میں لیاتھا، ان میں سے ایک کو اعلی حکام کے دباﺅ پر چھوڑ دیا گیا، اس نے بتایا کہ پولیس سیہون شریف درگاہ پر حملے کے معاملے میں پھنسانا چاہتی تھی مگر خفیہ اداروں نے اتفاق نہ کیا۔ طارق اسد نے کہاکہ دیگر چھ افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں، ان کو بھی خدشہ ہے کہ کسی حملے کے جھوٹے الزام میں مار نہ دیا جائے، یہ سارا منصوبہ ایس ایس پی دادو اور ایس ایس پی سکھر نے مل کر بنایاہے، سپریم کورٹ نوٹس لے۔ لاپتہ افراد کمیشن کے سیکرٹری فورا بولے کہ یہ معاملہ کمیشن کے پاس آ چکا ہے اور ہم اس کی رپورٹ طلب کرکے دیکھیں گے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایاکہ اس معاملے میں کمیشن نے ایس ایس پی کو اٹھارہ نومبر کو بلایاہے۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کام کرنے والی آمنہ مسعود جنجوعہ نے عدالت کو بتایاکہ چوآسیدن شاہ کوئلے کی کان میں کام کرنے والے دوبھائیوں عمر بخت اور عمر حیات کو پولیس اے ایس آئی نے حراست میں لے کر آئی ایس آئی کے اہلکاروں کے حوالے کیاتھا، دوہزار تیرہ سے آج تک یہ لاپتہ ہیں، کمیشن نے کہا ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ ہی کوئی حکم دے سکتی ہے۔ اسی دوران لاپتہ مزدوروں کے والد عمرزادہ نے عدالت میں پشتو زبان میں بولنا شروع کر دیا، کہا کہ مجھے اے ایس آئی شبیر نے بلایا اور ایک بیٹے کا شناختی کارڈ حوالے کیا، شبیر نے کہاکہ تمہارے بیٹوں کو سرکاری لوگ لے گئے ہیں، میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ظلم ہواہے، اگر میرے بیٹوں نے کچھ کیا ہے تو عدالت میں بتائیں اور میرے سامنے سر کاٹ دیں۔ میری بیٹیاں گھر بیٹھی ہیں، کمانے والا کوئی نہیں، سوات سے یہاں آنے کیلئے پانچ چھ ہزار روپے مانگ تانگ کر گزارہ کرتا ہوں، سفید داڑھی والے عمر زادہ کی آنکھوں میں آنسو آئے تو پشتو سمجھنے والے جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی رپورٹ میں لکھاہے کہ ان کو آئی ایس آئی اٹھا کر لے گئی تھی، پھر اس کے بعد کا کیا ہوا؟۔ آمنہ مسعود نے کہاکہ سوات میں امن کمیٹی کے ارکان اور سربراہ نے دونوں بھائیوں کے بارے میں تفتیش کی، کوئی الزام کہیں سے نہیں لگا، پورے صوبے میں دونوں بھائیوں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔ آمنہ مسعود نے پھر عدالت کو انگریزی میں مخاطب کرکے کہاکہ امن کمیٹی کے سربراہ کو ’نامعلوم افراد‘ نے رابطہ کرکے کہاکہ عمر زادہ کو قائل کریں مقدمہ واپس لے لے، پینتیس لاکھ روپے زرتلافی ادا کر دیں گے۔ آمنہ مسعود نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ اگر کوئی ناقابل تلافی نقصان دونوں بھائیوں کو پہنچ چکا ہے تو اس بے چارے بوڑے باپ کو اعتماد میں لے کر بتا دیا جائے۔ جسٹس اعجازافضل نے انگریزی میں ہی آمنہ مسعود کو جواب دیاکہ ہم ایسی بات بغیر کسی معلومات کے کیسے کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد ایک اور لاپتہ شخص کا مقدمے کا نمبر پکارا گیاتو آمنہ مسعود نے کہاکہ یہ پیش امام تھا، خاندان سمیت اٹھایا گیا، باقی لوگوں کو چھوڑ دیا گیا، یہ ابھی تک لاپتہ ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ مجھے یہ مقدمہ یاد ہے، اس میں ایس ایچ او راشد کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیاتھا اور اسے معطل کیا گیا تھا، اس کے بعد کیاہوا؟۔ عدالت نے پختون خوا کے سرکاری وکیل کو مخاطب کرکے کہاکہ کیا یہ کوئی ایسی پراسیس ہے جس کا کوئی اختتام نہیں؟۔ سرکاوی وکیل فقط اتنا کہہ پائے کہ دوہزار چودہ کا مقدمہ ہے۔ لاپتہ افراد کمیشن کے سیکرٹری بولے کہ یہ مقدمہ بھی ہمارے پاس بھیج دیاجائے، کمیشن ہی ان کا پتہ لگانے کیلئے بہتر فورم ہے، اگر کوئی لاپتہ ہے تو مقدمہ کمیشن میں ہی آنا چاہیے۔آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ سات سال میں کمیشن نے جو کام کیا سب کے سامنے ہے، جتنے بھی حکم کمیشن نے دیے ایک بھی بندہ پیش نہیں کیا جاسکا۔
لاپتہ فرد کا اگلا مقدمہ پکارا گیا تو آمنہ مسعود نے کہا کہ یہ میرے شوہر مسعود جنجوعہ کا کیس ہے، ابھی تک معلومات نہیں مل رہیں۔ لاپتہ افراد کمیشن کے سیکرٹری نے کہا کہ رپورٹ دے دیں گے سر۔ آمنہ مسعود نے کہا کہ وہی رپورٹ ہوگی، عدالت کا بھی وقت ضائع ہوگا اور ہمارا بھی۔
اس کے بعد لاپتہ نویدالرحمان اور نسیم اقبال کے کیس کا نمبر پکارا گیا، عدالت نے پندرہ یوم میں رپورٹ طلب کی۔ ایک اور لاپتہ فرد کے مقدمے کی باری آئی تو کمیشن کے سیکرٹری نے کہاکہ اس کا تعلق جماعت الدعوہ سے ہے، ایسے ہی کسی کو نہیں اٹھایا جاتا، کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ کمیشن کے پاس کسی بھی کیس پر کام کرنے کیلئے وقت کا تعین ہونا چاہیے، دوسال تک بھی کسی کیس میں پیش رفت نہیں ہوتی۔
اس کے بعد مزید لاپتہ افراد کے مقدمات کے نمبر پکارے جاتے رہے۔ عدالت سے باہر نکل آیا ۔ لاپتہ افراد کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اب قومی احتساب بیورو کے بھی چیئرمین ہیں۔ پانچ لاکھ کی پنشن سپریم کورٹ سے وصول کرتے ہیں۔ اتنے ہی تنخواہ کمیشن کے سربراہ کے طور پر لے رہے ہوں گے اور اس سے دوگنا سیلری نئی نوکری سے وصول پاتے ہوں گے۔
چیئرمین نیب نامزد ہونے کے بعد پارلیمان کی ایک کمیٹی میں پیشی کے بعد انہوں نے کہا تھاکہ لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی نہیں چھوڑیں گے۔ کمیشن کے سیکرٹری جو عدالت میں بہت اونچے اڑ رہے تھے، کچھ ہی ماہ قبل سپریم کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین