سرکاری نوکری نہ کریں، جسٹس باقر

سپریم کورٹ میں محکمہ پولیس سندھ میں 50 لاکھ کے آئل کی خرد برد میں ملوث ملزم فدا کی درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔ درخواست گزار کے وکیل کا موقف تھا کہ فدا حسین آئی جی سندھ کا سٹاف افسرتھا اس کا معاملے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، نیب کے وکیل عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جعلی بینک اکاونٹ کھولا ۔ جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب پراسیکیوشن میں غیرذمہ داری کامظاہرہ کرتا ہے ۔ کئی لوگوں کو چھوٹ دی ہے جس سے ملک کا بیڑا غرق ہو رہا ہے نیب نے جس کو فری ہینڈ دینا ہوتا ہے ان کو پوچھتا بھی نہیں نیب اس کیس میں ظلم کر رہا ہے ۔ جسٹس مقبول باقرنے کہا کہ لوگوں نے سرکاری نوکریاں کرناچھوڑ دی ہیں میں نے اپنے گھر میں کہنا شروع کر دیا ہے سرکاری نوکری نہ کریں۔ ملزم نے محمد رفیق اسپیشل برانچ سکھر کے ساتھ مل کر جعلی بینک اکاونٹ کھولا تھا ۔ عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے