نواز شریف اچھے موڈ میں

احتساب عدالت نے نیب ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کو استثنی دیا تھا لیکن اس کے باوجود آج عدالت پیش ہوئے _

آف وائٹ شلوار قمیض پر گرے رنگ کی واسکٹ زیب تن تھی سردی کی وجہ سے ایک گرے مفرل بھی لے رکھا تھا، بڑی ٹھاٹھ کے ساتھ حسب معمول جج صاحب کے سامنے والے بنچ کی پہلی نشست پر اپنی بیٹی مریم کے ہمراہ بیٹھے، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر معمول کے مطابق باپ بیٹی کے بعد اکیلے ہی عدالت پہنچے اور ہمیشہ کی طرح آگے نشست نہ ملنے پر بیک بنچرز بن کر سب سے الگ تھلگ ہی بیٹھے _
ٹانگ پر ٹانگ رکھے نواز شریف نے دیگر ن لیگی رہنماؤں اور صحافیوں سے خوشگوار انداز میں سلام دعا کی، صحافیوں سے رسمی گفتگو کا آغاز کیا،  ہنستے ہوئے پوچھا آج کی تازہ خبر کیا ہے؟ میں نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا، سر آپ استثنی کے باوجود آج عدالت پیش ہوگئے ابھی تک کی تازہ خبر تو یہ ہی ہے، نواز شریف بولے کہ دیکھیں جی، کیسے کیسے دور سے گزرنا پڑ رہا ہے، عدالت کے اندر تو عدالت والوں کی عدالت لگائی،  کہنے لگے کہ ہمارے فیصلے تو جلدی آجاتے ہیں، دوسروں کے فیصلے نہ جانے کیوں تاخیر سے بھی نہیں آتے، یہ تو فیصلے دینے والے ہی جانتے ہیں، عدلیہ پر کھلی تنقید کی، کہا پاکستان میں عدلیہ کا دوہرا معیار  ہے، انصاف کے اصول یکساں نہیں، انہیں متوازن ہونا چاہیے، ہمارے لیے انصاف کچھ اور دوسروں کیلئے کچھ ہے، کہا کہ جج صاحبان کو "گاڈ فادر” اور "سسیلین مافیا” جیسے الفاظ زیب نہیں دیتے، پانامہ کی بجائے اقامہ پر فیصلے کے گلے کو بھی دہرایا،، عدالت کے اندر عدالتی نظام پر بولے تو عدالت سے باہر آمروں کا ساتھ دینے والی جماعتوں پر برسے، عدالت میں کارروائی کے دوران خوش گپیوں میں مصروف نظر آئے، خواتین کارکنان کے عدالت میں کھڑے ہونے پر سیٹ دینے کی درخواست بھی کی جبکہ تہمینہ دولتانہ کو بھی سیٹ کی وجہ سے چٹکلہ سناتے ہوئے بولے کہ میں عمر میں آپ سے چھوٹا ہوں، خوشگوار موڈ میں پاس کھڑے نجی چینل کے کورٹ رپورٹر شاہ خالد کی جینز کی جیب سے نمایاں ہونے والے پرس پر بھی کمنٹ کردیا، مسکراتے ہوئے بولے آپ اپنا پرس سنبھال کر رکھیں، گم ہوگیا تو اسکا الزام بھی ہم پر ہی لگ جائے گا_ مجموعی طور پر سماعت کے دوران نواز شریف کافی مطمئن تھے، ایسا لگا کہ مشکل میں دیا گیا بیٹی کا دلاسا کام آگیا، نواز شریف کی خوشی اور پر اعتمادی سے برا وقت گزرتا ہوا نظر آرہا ہے یا شاید گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی ناکامی اور اپنی جماعت کی کامیابی کی وجہ سے موڈ خوشگوار تھا _

متعلقہ مضامین