ڈی ایچ اے کے قبضے

قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس ہو، اور کوئی ایسی خبر نہ نکلے جو غیر معمولی نہ ہو، ایسا کیسے ممکن ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں کرپشن ہر شعبے سے وابستہ افراد کی رگوں اور ہرمحکمے کی جڑوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ رپورٹس وقتا فوقتا آتی رہتی ہیں مگر کچھ محکمے ایسے ہیں کہ ان کے بارے میں بات نہیں کی جاتی یا کم ازکم الیکٹرانک میڈیا کے لیے خبر نہیں بن پاتی ۔ آج کے اجلاس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
معمول کے ایجنڈے پر کارروائی کے دوران اس وقت غیرمعمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب ڈیفنس ہاﺅس اتھارٹی یعنی ڈی ایچ اے کا معاملہ سامنے آیا۔ متروکہ وقف املاک (ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی) اور ڈی ایچ اے کے مابین انیس سو چھیالیس کنال زمین کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق ڈی ایچ اے نے اس زمین کے بدلے متروکہ وقف املاک کو کل میں سے تینتیس فیصد تیارشدہ پلاٹس دینے تھے اور سو کمرشل پلاٹس بھی متروکہ وقف املاک کی ملکیت ہوتے مگر اس پر عمل نہ ہوسکا۔ املاک بورڈ نے ایک اجلاس میں پلاٹوں کی تعداد کم کرنے کی منظوری دی مگر جب سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا تو دوبارہ پہلا والا معاہدہ بحال کرنا پڑا۔لیکن آج تک ڈی ایچ اے نے متروکہ وقف املاک بورڈ کو ایک بھی پلاٹ نہ دیا۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں اس معاہدے سے متعلق سنگین بے ضابطگی کی شکایت کے بعد پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے ارکان کو آڈٹ حکام نے تفصیلات سے آگاہ کیا تو سوالات اٹھنے لگے جس پر متروکہ وقف املاک ٹرسٹ کے چیئرمین صدیق الفاروق نے کمیٹی کو بتایا کہ معاملے کے حل اور معاہدے پر عمل کیلئے ڈی ایچ اے کے اعلی حکام سے کئی ملاقاتیں کی ہیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا کیونکہ ڈی ایچ اے والے اصل معاہدے پر عمل نہیں کررہے اور مطلوبہ تعداد میں پلاٹ فراہم کرنے سے انکاری ہیں، ان کاکہناتھاکہ یہ معاہدہ سابق چیئرمین نے کیا تھا اور اب وہ ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ صدیق الفاروق نے کہاکہ اب ٹرسٹ اس کیس میں دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گا تاکہ اپنا حق حاصل کرسکے۔کمیٹی کے ارکان نے اس معاملے پر اپنے غصے کا اظہار کیا تو غصہ نکالنے کیلئے اعلی حکام میں سے کوئی دستیاب نہیں تھا، (معلوم نہیں اگر کوئی دستیاب ہوتا تو کیسی درخواست کرکے غصہ دکھاتے)۔
کمیٹی کے ارکان کو بتایا گیاکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمیٹی کے سامنے موجود ہیں تاہم ارکان نے کہاکہ کم از کم بیس گریڈ کا افسرحاضرہونا چاہیے۔ اس کے بعد کمیٹی نے فیصلہ کیاکہ آئندہ اجلاس میں ڈی ایچ اے کے حکام پیش ہو اور وضاحت کریں کہ متروکہ وقف املاک کی زمین کیوں بغیر قیمت ادا کیے قبضہ کررکھی ہے۔ کمیٹی کے ارکان کو جب بتایا گیاکہ معاہدہ سنہ دوہزار سات میںکیا گیا ،اور اس کے تحت صرف منافع کی مد میں ڈی ایچ اے نے ٹرسٹ کو لگ بھگ تین ارب روپے ادا کرنے ہیں، آڈٹ حکام کے مطابق اس معاہدے پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں چار ارب نوے کروڑ کا نقصان قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑاہے۔ لیکن یہ خبر بڑی نہیں ہے کیونکہ قومی مفاد سب کو مقدم ہے۔ آئیے کچھ اور بات کرتے ہیں۔

Twitter @SabihUlHussnain         Writer can be reached at

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے