مظلوم پتر پنجاب دے

محمد شعیب

ہم تھکن سے چُور تھے، مسافت سے پاؤں شل، جسم ٹوٹے ہوئے مگر ذہن بے فکر اور آنکھیں پُراُمید ۔ گھر سے نکلے کئی روز ہوئے لیکن یورپ کا سفر ابھی شروع ہی کہاں ہوا تھا ۔ ہم ابھی اپنے ہی وطن میں تھے۔ “سرحد پار کرتے جان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے” ایجنٹ نے ہمیں بتایا تھا لیکن ابھی سرحد دور تھی ، ہم اپنے ہی وطن میں تھے ۔ چلتے چلتے ہمت جواب دیتی تو کہیں بھی بیٹھ جاتے ۔ دل بہلانے کے واسطے گپ شپ چلتی ، پنجابی جگت بازی کا سلسلہ اور پیچھے رہ جانے والوں پر طنز ۔ پنجابی جو ٹھہرے۔ بھنگڑہ، لُڈی، جگت بازی اور زندہ دلی اپنی میراث ۔ گالی دینے والے کو اس سے بڑی گالی دے اس انداز میں گلے لگاتے ہیں کہ وہ سارے دُکھ بھول کر مسکرانے لگے ۔ دل کھلے ، تعصب کے معانی سے ناواقف، ہنس مکھ اور خالص ۔۔ خیر یہی جگت باز روایت اس سفر میں بھی نبھائی جا رہی تھی ۔ ایک ایسا ہی پڑاؤ تربت میں بھی ڈالا تھا ۔ پہاڑوں کے دامن میں ۔۔ہم سستانے بیٹھے تھے۔ ہم یہاں پہلی بار آئے تھے ، گائیڈ بتا رہا تھا یہ اپنا ہی وطن ہے۔ ہم بے فکر بیٹھے تھے جب کچھ بلوچ بھائی آ پہنچے ۔ “پنجابی ہو؟” پوچھنے والے کے لہجے میں وہ غصہ تھا کہ ہمارے جسم ٹھنڈے پڑ گئے ۔ جواب دینے اے پہلے ہی گولیاں چلیں ۔ ہمارے جسم چھلنی ہوئے ۔ ہم واسطہ دے کر ، منت سے جان بچاتے ، قاتل کو بتاتے ہمارے گھر فاقے ہیں ۔ ہم غریب ہیں ۔ لیکن ہماری آواز گولیوں کی تڑٹڑاہٹ میں ڈوبتی چلی گئی ۔ روح نے جسم کا ساتھ چھوڑا ۔ ہمارے لاشے ہمارے سامنے پڑے تھے قاتل جن پر جشن مناتا تھا

ہماری لاشیں گھروں کو پنچیں، ماتم ہوا اور ہم دفنا دیئے گئے لیکن ہمیں کس جرم میں سزائے موت دی گئی ؟ ہم نہ کبھی کسی ایوان میں بیٹھے، اور نہ کبھی پالیسی ساز رہے۔ کسی کا حق کھانا تو دور اپنے پاس ہی کچھ کھانے کو ہوتا تو یوں خونی سفر کو جاتے ؟ میں تو غریب تھا، بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننا چاہتا تھا، دن میں سہانے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجاتا ۔ جوان بہن کا جہیز خریدنا چاہتا تھا، سراٹھا کر جینا چاہتا تھا، روٹی تو کھا رہا تھا، چھت تو میسر تھی،کپڑا بھی پہنتا تھا، بس چاہتا تھا خاندان کو اچھی زندگی دے سکوں۔ رشتہ داروں کا آسرا بنوں لیکن یہ کوئی واجب القتل جرم تو نہ تھا ۔ تو پھر گناہ کیا تھا ؟ آپ کی نظر میں ایجنٹ مافیا میرا قاتل ہے لیکن صاحب مجھے کوئی سرحد پھلانگتے نہیں مارا گیا ۔ ہم صرف پنجابی ہونے کی پاداش میں مرے۔ دنیا جاتے واحد تسلی یہ رہی کہ گھر والوں کو کچھ سرکاری امداد مل جائے گی ، چار دن شاید ان کے اچھے گزر جائیں لیکن میری ماں کا نوحہ کون سنے
سن راہیا کرماں آلیا
میں بے کرمی دی بات
میرا چڑھدا سورج ڈوبیا
میرے دن نوں کھاگئی رات
سناہے ہمارے بعد اور پانچ پنجابی ماوں کا آنگن سونا ہوا۔اس پنجاب سے پانچ اور لاشے اٹھے جو این ایف سی ایوارڈ میں اپنا نوالہ چھوٹے بھائیوں کو کھلاتا رہا ۔مردم شماری کے بعد 9 نشستیں اپنی چھوڑ دیتا ہے، وہ پنجاب جو گندم سب کو کھلاتا ہے، آفت آجائے تو سب کو سبنھالا دیتا ہے، وہ جو سب کو بانہیں پھیلا کر خوش آمدید کہتا ہے، اگر ماضی کا غصہ ہے تو اس میں غریب مزدور کا کیا قصور، اس میں لاچار ہاری کا کیا قصور۔ہمارا قاتل شاید کبھی پنجاب آتا تو دیکھتا ۔ ویسی غربت یہاں بستی ہے، ویسے ہی غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے سردار کے ہاتھوں مزارعے کا بلوچستان میں استحصال ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح امیر کے ہاتھوں غریب کا استحصال پنجاب میں ہوتا ہے، وہاں غریب کا بچہ اسکول نہیں جاتا تو پنجاب میں بھی غریب کا بچہ ورکشاپ پرملتا ہے، بلوچستان میں غریب پستا ہے تو پنجاب میں بھی وڈیرے جوتے مارتے ہیں، ہاں جو امیر بہت امیر ہے، بلوچستان میں بھی سردار بستے ہیں، ان کا معیار زندگی پنجاب کے وڈیرے سے کسی صورت کم نہیں، عوام کے مسائل مشترک ہیں، بلوچ سرداروں اور پنجاب کے امیروں کے مفادات مشترک ہیں تو پھر
“مارے جاتے ہیں کس خوشی میں ہم”

متعلقہ مضامین