جب ملزم کہے گا تو

انسداد دہشت گردی عدالت سے/ اویس یوسف زئی

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے خلاف سرکاری ٹی وی، پارلے منٹ حملوں اور سابق ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد سمیت چار مقدمات میں دوسری مرتبہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند کے روبرو میں پیش ہو گئے اور دوران سماعت صرف ایک طنزیہ جملہ بولا” بہت بڑا دہشت گرد ہوں جی میں۔”
عدالت نے عمران خان کو ایک مرتبہ پھر شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اور مقدمے کے تفتیشی افسر کو بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ۔ بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان نے اپنا بیان تفتیشی افسر کو جمع کرایا ہے ۔ سرکاری وکیل راجا محمد شفقات نے کہا کہ ملزم نے کسی کے ہاتھ تفتیشی کے لیے ایک کاغذ بھجوایا، یہ شامل تفتیش ہونا نہیں۔ تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہونا ضروری تھا جہاں ان سے سوال و جواب ہونے تھے۔ بابر اعوان نے کہا عمران خان تھانے جا کر بھی بیان ریکارڈ کرا دیں گے۔ عدالتی استفسار پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ جب ملزم کہے گا،  اس کا بیان ریکارڈ کر لیں گے۔ اس پرجج شاہ رخ ارجمند مسکرائے اور کہا آپ تفتیشی افسر ہیں، آپ نے بتانا ہے کہ یہ کب پیش ہوں؟ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل ملزم کا بیان ریکارڈ کیا جائے ۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے طویل التوا کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سماعت چار دسمبر تک ملتوی کر رہے ہیں۔ بابر اعوان بولے اس روز تو خان صاحب کا جلسہ ہے، پیش نہیں ہو سکیں گے۔ کوئی اور تاریخ دے دیں ۔ عدالت نے عمران خان کے جلسے کے باعث تاریخ میں تبدیلی کرتے ہوئے سماعت 7 دسمبر تک ملتوی کر دی ۔ اس سے قبل جب سماعت شروع ہوئی تو بابر اعوا ن نے عمران خان کی حاضری سے استثنا کی درخواست دی جس کی سرکاری وکیل نے مخالفت کی تو بابر اعوان نے عمران خان کے پیش ہونے کی یقین دہانی کرادی اور آدھے گھنٹے بعد عمران خان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہو گئے ۔۔۔ فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر عدالت کی جانب بڑھے تو کورٹ رپورٹرزنے گھیر کر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ ایک صحافی نے پوچھا نواز شریف اسی جوڈیشل کمپلیکس میں قائم احتساب عدالت کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔آپ بھی پیش ہو رہے ہیں، سیاسی قیادت تو پیش ہوتی ہے ، پرویز مشرف عدالتوں کا سامنا کیوں نہیں کرتے ؟ جس پر عمران خان نے کہا پیشیاں ہو رہی ہیں مگر ان کا نواز شریف سے موازنہ کرنا ایسا ہی ہے کہ سلطانہ ڈاکو کے ساتھ موازنہ کیا جائے۔
عمران خان کے خلاف 2014 کے حکومت مخالف دھرنوں کے دوران تھانہ سیکرٹریٹ میں پی ٹی وی ، پارلے منٹ حملوں اور سابق ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد سمیت چار مقدمات درج ہیں ۔ عدالت نے ملزم کو اشتہاری ملزم قرار دے رکھا تھا مگر 14 نومبر کو اچانک عدالت پہنچے تو عدالت نے اشتہاری ملزم کی چاروں مقدمات میں ضمانت منظور کر لی تھی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button