سرخ و سبز بتیاں

کس نے آگے بڑھنا ہے اور کس نے رکنا ہے یہ دو رنگ طے کرتے ہیں۔ یہ رنگ کہیں سرخ و سبز جھنڈیوں کی صورت اپنی طاقت کا اظہار کرتے ہیں تو کہیں یہ بتیوں کو اپنی جلوہ گاہ بناتے ہیں۔ ایک رنگ اور بھی ہے مگر وہ تب اپنا جلوہ دکھاتا ہے جب دو انسانی گروہ بہت زیادہ خون بہالیں اور ان میں سے ایک کی ہمت جواب دے جائے۔ کہنے کو یہ رنگ امن کا نمائندہ ہے لیکن فی الحقیقت یہ اعتراف شکست کے کام آتا ہے۔ کسی چوراہے پر روز سرخ و سبز بتیوں کے منتظر انسان نے شاید ہی کبھی غور کیا ہو کہ آج کی پوری متمدن بنی نوع انساں ان رنگوں کی اسیر ہے۔ اس اسارت کی وسعت دیکھئے کہ جہاں یہ رنگ وجودی طور پر اپنی قوت کے اظہار سے قاصر ہوں وہاں یہ استعاری شکل میں اپنے اثرات مرتب کر دیتے ہیں۔ محبوبہ کی ’’ہاں‘‘ سبز رنگ ہے تو اس کے باپ کی ’’ناں‘‘ سرخ رنگ۔ سوال یہ ہے کہ یہ رنگ اتنی قوت کہاں سے چرا لاتے ہیں ؟ آج کا متمدن انسان عالمگیر عمرانی معاہدوں کا تابع ہے۔ یہ معاہدے نظام کے تابع ہوتے ہیں اور نظام نظریات سے جنم لیتے ہیں۔ ابھی چند ہی سال ہوئے جب دنیا مختلف نظریات کی مملکتی کشمکش کا میدان تھی۔ یہ کشمکش علمی سطح پر بھی رہی اور اس نے سرد و گرم جنگوں کی شکل بھی اختیار کی۔ یہ مختلف نظریات سرخ و سبز رنگوں کے مختلف توازن ہیں۔ انسان جب سے عالم بنا ہے اس کی بس یہی کوشش ہے کہ کسی طرح ان رنگوں کا بہتر توازن تخلیق کرلیا جائے۔ اپنی اس کوشش کے دوران اس نے جتنے بھی توازن ترتیب دیئے سب کے سب تجربے کے مرحلے میں پہنچتے ہی ناکام ثابت ہوئے۔ یہ ناکامیاں ان نظاموں کے حصے میں بھی آئیں جو پورے صدق دل سے تخلیق کئے گئے اور ان نظاموں کا بھی مقدر ٹھریں جو ترتیب ہی بدنیتی کی بنیاد پر دئے گئے۔

آپ آج کے رو بعمل توازن کو ہی لے لیجئے جو کیپٹلزم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے گلوبل ویلتھ رپورٹ جاری ہوئی ہے جس میں ایک خوشخبری سنائی گئی ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران دنیا کی دولت میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ اس معنی میں تو خوشخبری ہی ہے کہ وسائل رزق میں اضافے کی نوید ہے لیکن یہ رپورٹ کچھ اور بھی کہتی ہے اور وہ کچھ اور یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ کیپٹلزم میں سرخ و سبز رنگوں کا توازن کس بے رحمی سے قائم کیا گیا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کی کل دلت کا 46 فیصد صرف اعشاریہ سات فیصد امیر ترین لوگوں کے پاس ہے۔ یہ چھیالیس فیصد 280 ٹریلین ڈالرز ہیں جو ایک فیصد سے بھی کم لوگوں کے اکاؤنٹس میں پڑے ہیں۔ جبر کی ایک اور علامت دیکھئے کہ کام کرنے والے افراد میں سے 70 فیصد انسانوں کے پاس دنیا کی کل دولت کا صرف دو اعشاریہ سات فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار یہ واضح کر رہے ہیں کہ دنیا میں گردش کرتا سرمایہ جن سرخ و سبز بتیوں کے اشاروں پر سفر کرتا ہے ان کی کنفگریشن اس طرح کی گئی ہے کہ عام آدمی کی گلیوں کی جانب سرمائے کی اس ٹریفک کا صرف دو اعشاریہ سات فیصد ہی جا پاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ غریب کی جانب جاتی سڑک پر سرخ بتی کا استعمال پوری بے رحمی سے جاری ہے جبکہ یہی سرمایہ جب امیر کی شاہراہ کا رخ کرتا ہے تو اس شاہراہ پر سرخ بتی کی نوبت ہی نہیں آتی۔ یہ سگنل فری کوریڈور ہے جس پر سرمایہ بغیر کسی رکاوٹ کے امیروں تک پہنچتا ہے۔ مگر آپ اس نظام کا مکر دیکھئے کہ ان ایک فیصد امیروں میں سے جو ٹاپ 10 ہیں ان میں سے بعض کے حوالے وقتا فوقتا اس نوع کی خبریں جاری کی جاتی ہیں کہ فلاں امیر ترین نے اپنی دولت کا اتنا حصہ غریبوں کی فلاح بہبود کے لئے وقف کردیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ جب یہ خبر عام آدمی تک پہنچتی ہے تو فرط عقیدت سے اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے ہیں کیونکہ وہ کمبخت یہ جانتا ہی نہیں کہ یہ تو اس کی لوٹی ہوئی کل دولت کی محض ایک چٹکی ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ عام انسان یہ نہیں جانتا کہ دنیا کی سب سے بڑی ڈکیتیاں وہ ہیں جن کے لئے قوانین وضع کئے گئے ہیں۔ یہ قانونی دفعات کا اسیر انسان ہے اور اسے سکھا گیا ہے کہ جو قانون کی کتاب کے مطابق ہو وہ جائز ہی نہیں عین انصاف بھی ہے۔ وہ بس یہ دیکھتا ہے کہ اٹھایا گیا قدم قانونی دفعات کے مطابق ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی ثابت کردے کہ کوئی قانون شکنی نہیں ہوئی تو پھر سب جائز ہوجاتا ہے۔ اسے خبر ہی نہیں کہ قانون کے یہ تمام بکھیڑے کیپٹلزم کے فریم ورک میں ترتیب دیئے گئے ہیں اور یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ امیر امیر تر اور غریب غریب تر رہتا ہے۔ اگر دنیا کے یہ ایک فیصد لوگ کسی عدالت کے حضور منی ٹریل ثابت کردیں تو کیا اس سے دولت کی یہ تقسیم ’’منصفانہ‘‘ ہوجائے گی ؟ جب کسی شاہراہ پر روٹ لگا ہوتا ہے تو وہ بھی کسی قانون کے تحت ہی ہوتا ہے لیکن وہ روٹ ثابت کیا کرتا ہے ؟ یہی کہ جب خاص آدمی کا گزر ہو گا تو سبز بتی پر صرف اسی کا حق ہوگا، اس کی راہ میں کوئی سرخ بتی نہیں آئے گی اور جب تک وہ گزر نہ جائے عام آدمی چپ چاپ سرخ بتی کے درشن کرتا رہے گا۔ صرف ایک شاہراہ اور اس پر نصب سرخ و سبز بتیوں کا یہ توازن ہی پورے کیپٹلزم کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کیونکہ سرخ و سبز رنگوں کا یہ غیر متوازن جال محض شاہراہ تک محدود نہیں۔ یہ میٹرینٹی ہوم سے لے کر قبرستان تک ہر طرف پھیلا ہوا ہے جو قدم قدم پر ہماری راہ روکنے اور امیر کو راہ دینے کے کام آتا ہے مگر کوئی اس پر غور ہی نہ کرے تو کیا کیا جا سکتا ہے ؟ وہ شعوری ترقی لعنت کی مستحق ہے جسے یہی فہم میسر نہیں کہ اس کے ساتھ ہونے والے سب سے سنگین مظالم وہ ہیں جو قانون کی سرخ و سبز بتیوں کی مدد سے ہوتے ہیں۔ دنیا کی کل دولت کا نصف حصہ قانون کی سبز بتیوں نے ہی ایک فیصد امیر ترین لوگوں تک پہنچایا ہے اور یہ جو ستر فیصد لوگوں کے پاس صرف دو اعشاریہ سات فیصد دولت ہی ہے یہ بھی قانون کی ہی سرخ بتی کی واردات ہے۔ آج کے انسان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ضروری نہیں کہ جو قانونی ہو وہ منصفانہ بھی ہو۔ اگر وہ یہ نہیں سمجھے گا تو قانون کی سرخ و سبز بتیاں اس پر قہر توڑتی رہیں گی !

بشکریہ روزنامہ ۹۲ نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button