سینٹ اجلاس میں دھرنا

فیض آباد دھرنا ختم کرنے کے لیے مذہبی جماعت کے ساتھ فوج کی ثالثی میں حکومت کا معاہدہ صبح کے وقت طے پایا مگر شام کو سینٹ میں یہ معاملہ گونجا تو بولنے والوں کے لہجے میں مایوسی صاف سنائی دی _

سینٹ میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ تمام دھرنوں کی جو ڈیشل انکوائری کرائی جائے ۔ کہا گیا کہ وزیراعظم کے لیے ملک کے اندرونی حالات زیادہ اہم ہیں یا سعودی عرب میں کانفرنس ۔۔۔چیئرمین سینیٹ سمیت سینٹرز غصے میں تھے۔۔

چیئرمین سینیٹ نے وزیر مملکت داخلہ سے کہا کہ اتنے بڑا واقعہ پیش آیا، وزیر داخلہ خود کہاں ہیں؟ اس معاملے پر تو وزیراعظم کو ایوان میں آنا چاہیے تھے۔ 22 دن دھرنا چلا ۔۔ اس کے بعد اتنا خطرناک رجحان بنایا جا رہا ہے ۔ ممبران پارلیمنٹ کو مارا جا رہا ہے ۔ ممبران پارلیمنٹ کے گھروں پر حملے ہو رہے ہیں ۔ ایک وزیر ایک سیاسی جماعت کے سیکٹر کمانڈر کو استعفی دے رہا ہے۔ ارمی کو 245 سیکشن کے تحت بلایا جارہا ہے۔ اور پھر آپ ان لوگوں سے معاہدے کر رہے ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والوں کو یرغمال بنا لیا گیا ۔ ارمی چیف کا بیان آیا ۔ لیکن اتنی اہم بات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
رضا ربانی نے کہا وزیر اعظم کہاں ہیں؟ وزیر اعظم کو ایوان میں آنا چاہے تھے ۔ سعودی عرب میں کانفرنس زیادہ ایم ہے یا ملک کے اندر کے حالات ۔ ملک کو ٹھیکے پر دے دیں ۔ سولین حکومت بیک فٹ پر ہے ، اس میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔
ایوان کو بتایا جائے کہ آرمی کو کیوں بلایا گیا ،کیا حالات تھے جس میں یہ معاہدہ کیا۔ پارلیمنٹ سے ہی طاقت ملتی ہے ۔ اگر حکومت اس میں دلچسپی نہیں لیتی تو ایوان اس پر کیا بات کرے۔ حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ کیا حکومت جانتی ہے کہ وہ کیا کر رہی ہے ؟
چئیرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا دھرنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے ۔ یہ قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے، دھرنے کے نئے رجحان پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ نہ صرف سیاست جمہوریت بلکہ ریاست پاکستان کے لیے تباہ کن ہیں ۔ اس خطرناک رجحان کو روکنے تمام سیاسی قوتوں ، دانشوروں ، پیشہ ور افراد کو بیٹھ کر ایک نیا بیانیہ بنانا ہو گا ۔ اس میں مرکزی کردار پارلیمنٹ کا ہو گا ۔ پارلیمان آئین پاکستان کا تحفظ اور دفاع کرے گے ۔ ملک میں جمہوری نظام پر پارلیمان آنچ نہیں آنے دے گی ۔ ملک میں مشرف فارمولا یا ٹیکنوکریٹ نہیں بلکہ وہی نظام رائج رہے گا جو 1973 کے آئین میں دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کا عزم ہے کہ ریاست کی جو رٹ متاثر ہوئی ہے ،، پارلیمان اسے بحال کرے گی۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ دھرنا مظاہرین کے مطالبے پر وزیر کو استعفی دینا پڑا ۔ معاہدے میں لکھا گیا ہے کہ دھرنے والوں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں گے ۔ لیکن جن مظاہرین نے تشدد کیا ، لوگوں کو مارا ان کا معاہدے میں ذکر نہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان معاہدے کو آرمی نے اپنی سرپرستی میں کروایا ۔ یہ وہی فوج جو رد الفساد میں قربانیاں دے رہی ہے۔ اور جن کا کام تھا کہ فسادیوں کو نکالیں۔ ان کی جانب سے یہ معاہدہ لکھوانا پریشان کن ہے ۔ مزید کہا کہا مجھے آرمی چیف کے وزیر اعظم کو فون کرنے پر افسوس ہوا۔ آرمی چیف کا یہ بیان بھی پریشان کن ہے کہ دونوں فریقین پرامن طریقے سے یہ معاملہ حل کریں ۔ رد الفساد پرامن نہیں ہوتے ۔ آرمی چیف نے حکومت اور دھرنے والوں کو ایک برابر کھڑا کر دیا ، اس سے کیا پیغام گیا ۔ اگر آرمی چیف نے مشورہ دینا تھا تو بے شک وزیر اعظم سے بات کر لیتے۔ لیکن بات کرنے کے بعد پریس ریلیز جاری نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ مجھے پریس ریلیز کے جاری ہونے پر دکھ ہوا ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں دھرنے حقیقت بن گئی ہے۔ پہلے 2013, پھر 2014,2016 اور اب 2017 میں دھرنا ہوا ۔ ہر دفعہ کا دھرنا پہلے سے زیادہ پرتشدد اور تباہ کن بن جاتا ہے۔ دھرنے کے پیچھے کون تھا ؟ تمام دھرنوں کی جوڈیشل انکوائیری ہونی چاہیے۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا آج کے واقع سے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتیں پیچھے چلی گئی ہیں ۔ اس سے جمہوریت بہت پیچھے چلی گئی ہے۔ تاثر یہ گیا کہ سولین حکومت ناکام ہیں اور ہر کام آرمی ٹھیک کرتی ہے۔ ہم نے اپنی مستقبل کی نسلوں کو بھی نقصان پہنچا دیا ہے ۔
جہانزیب جمال دینی نے کہا کہ افسوس ہوا کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈرز حکومت کو نقصان پہچانے ان جماعتوں کے دھرنے میں شریک ہوئے ۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اس دھرنے سے ریاست پاکستان کو نقصان ہوا ۔ ریاست کو دنیا کے سامنے برہنہ کر دیا گیا کہ دو ہزار افراد کچھ بھی کروا سکتے ہیں ۔ میں نے دھرنا سربراہ کی تقریر خود فیض آباد سے گزرے ہویے سنی ۔ اس نے کہا کہ سینیٹ نے ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کی ترمیم کی۔ ہر سینیٹر اب سلمان تاثیر ہو گا اور ہر کارکن ممتاز قادری ۔ ملک میں مذہب کے نام پر تباہ کن سیاست بار بار ہوتی ہے اور اب زیادہ ہو گی

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button