پولیس افسر کس کا آدمی ہے؟

سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کے پیچھے پھرتے دکھائی دینے والے اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی ساجد کیانی کو دھرنا مظاہرین سے نمٹنے کیلئے بھاری نفری دی گئی تھی مگر انہوں نے اسٹیج کے قریب پہنچ جانے والے اہلکاروں کو واپس بلا کر آپریشن کو ناکام کر دیا، یہ انکشاف وزارت داخلہ کو سول خفیہ اداروں کی رپورٹ میں کیا گیا ہے _

فیض آباد آپریشن کی ناکامی کے بعد وزارت داخلہ نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے 4 افسران کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے_  وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے ایس ایس پی ساجد کیانی اور اے آئی جی کیپٹن الیاس کی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، راولپنڈی کے سی پی او اسرار عباسی اور آر پی او فخر سلطان راجہ کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے_  وزارت داخلہ کے پاس موجود رپورٹ کے مطابق 24 نومبر کو صبح 8 بجے کے قریب آپریشن شروع کیا گیا جو کامیابی سے جاری تھا، 10 بجے کے قریب پولیس اور ایف سی کے اہلکار دھرنے کی جگہ پر پہنچ چکے تھے، قائدین کے مرکزی کنٹینر سے معافی کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں، عین اس وقت اعلی پولیس افسر کی فون کال پر فورس کو واپسی کے احکامات جاری کیے گئے، ذرائع کے مطابق آپریشن کی کمان کرنے والے ایس پی نے فورس کو پیچھے ہٹنے اور شیلنگ کم کرنے کے احکامات دیے، ذرائع کا کہنا ہے کہ احکامات ملتے ہی پولیس فورس نے دوڑ لگا دی اور آپریشن ناکامی سے دوچار ہو گیا جبکہ راولپنڈی میں ہلاکتوں کی وجہ پولیس کی بروقت عدم تعیناتی تھی ،سی پی او اور آر پی او کو حالات کی نزاکت کا احساس اس وقت ہوا جب شہر میں آگ بھڑک چکی تھی_ ذرائع کے مطابق اس بات کی بھی تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے کہ ایس ایس پی نے کس کے کہنے پر پولیس کو واپس بلایا اور آپریشن کو ناکام بنایا _

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے