کمرہ عدالت میں کیا ہوا

احتساب عدالت میں آج نواز شریف سیاسی امور پر غور کرتے رہے، نواز شریف کے دل میں کون سی باتیں ہیں ؟ پارٹی ورکنگ کمیٹی بھی فائنلائز کی.مریم نواز کو میاں صاحب سے ڈانٹ بھی پڑ سکتی ہے

احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت آج مقررہ وقت سے 10منٹ پہلے 8:50 پر شروع ہوگئی، نوازشریف، مریم نواز معمول کے مطابق اکٹھے آئے اور کیپٹن صفدر ہمیشہ کی طرح الگ تھلگ لیکن آج آخری کی بجائے دوسری نشست پر بیٹھے، موڈ تو سب کا خوشگوار تھا لیکن نواز شریف نے عدالت میں بات کرنے سے گریز کیا، بولے ہر چیز کا مقررہ وقت ہوتا ہے، ابھی کمرہ عدالت میں ہوں بعد میں بات کروں گا، مریم نواز سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دھرنا کیس سے متعلق گزشتہ روز کے فیصلے پر پوچھا تو بولیں میاں صاحب کے ہوتے ہوئے بولی تو ڈانٹ پر سکتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے میں کیسے بول سکتی ہوں،ساتھ کھڑی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی مریم نواز کو نہ ہی بولنے کا مشورہ دیا، کہا جی، آپ نہ ہی بولیں تو بہتر ہے، سماعت کے دوران نواز شریف مسلسل پارٹی امور پر تبادلہ خیال کرتے نظر آئے، بظاہر بہت سے دستاویزات انکے ہاتھ میں تھے لیکن آصف کرمانی کی جانب سے دی جانے والی چند صفحات ہر مشتمل ایک لسٹ تھی جس میں تقریباً تمام ہی پارٹی ممبران کے نام شامل تھے یہ لسٹ پارٹی ووکنگ کمیٹی کی تھی میاں صاحب حتمی ناموں پر ٹک مارک کرتے جا رہے تھے ایک جانب عدالتی کارروائی شروع ہو چکی تھی دوسری جانب نواز شریف پارٹی امور سر انجام دے رہے تھے دیکھتے ہی دیکھتے حتمی ناموں کی لسٹ بھی فائنلائز ہوگئ، اور دیگر امور بھی آصف کرمانی کیساتھ زیر غور رہے،نواز شریف کے معاون وکیل نے عدالتی کارروائی روکنے کی استدعا کی، کہا جب تک نیب ریفرنسز یکجا کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نہیں آجاتا کارروائی روکی جائے، نیب پراسکیوٹر نے سخت مخالفت کی، کہا کہ ایسے کوئی حقائق نہیں کہ کارروائی روکی جائے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے میں دو ماہ بھی لگ سکتے، کیسے کارروائی روک سکتے، عدالت نے نواز شریف نے معاون وکیل سے استفسار کیا کہ خواجہ حارث کہاں ہیں، بتایا گیا کہ وہ سپریم کورٹ میں ہیں،فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ اصل وجہ تو یہ ہے،، عدالت نے استفسار کیا کہ گواہوں کو کیا کریں، گواہ عدالت میں پیش ہیں، مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ آپ تاریخ دیں، کچھ نہیں ہوگا، نیب پراسکیوٹر نے کہا ریفرنس 19 کاچیف جاری ہے، گواہ موجود ہے وہ تو چلے گا، امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی ہم نے مزید شہادتوں سے انکار نہیں کیا، اس انڈر ٹیکنگ کیساتھ کہ عدالتی کارروائی میں تاخیر نہیں ہوگی، ہم تعاون کریں گے، عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت بنا کسی کارروائی کے پیر 4 دسمبر تک ملتوی کردی، حاضری سے استثنی کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاہم عدالت سے روانگی کے موقع پر نواز شریف نے یہ ضرور کہا کہ دل میں بہت سی باتیں ہیں جو ایک دو دن میں کرونگا، وہ کیا باتیں ہیں اسکا ہمیں بھی انتظار ہے..

متعلقہ مضامین