’’استاد مولا بخش‘‘

آپ مولابخش کو تو جانتے ہوں گے۔ نہیں ! پیپلز پارٹی والے مولابخش چانڈیو نہیں بلکہ وہ لیجنڈری مولابخش جس سے پہلا باضابطہ تعارف تعلیمی کیریئر کے آغاز پر درسگاہ میں قدم رکھتے ہی آپ کو ہو گیا تھا۔ کیا مدرسہ اور کیا سکول مولابخش تعلیم و تربیت کے ہر ادارے میں حاضر ناظر۔ کبھی غور کیا یہ صرف ان ممالک میں ہی کیوں نظر آتا ہے جہاں حاکم و محکوم کی کشمکش کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے ؟ اور کبھی غور کیا کہ حاکم و محکوم کی کشمکش صرف ان خطوں میں ہی نمایاں ہوتی ہے جہاں ماضی قریب میں غلامی کا دور گزرا ہو؟ غلام فرد کو بنایا جائے خواہ قوم کو یہ مولابخش کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ آقا کے ہاتھ میں مولا بخش غلام کو غلام رکھنے کے کام آتا ہے۔ غلام کو تا حیات غلام رکھنے کے لئے لازم ہے کہ اس کے دل و دماغ سے ہر طرح کے جذبات، احساسات اور خیالات نکال کر انہیں خوف کی آماجگاہ بنا دیا جائے سو ہر آقا مولا بخش کے ہردم استعمال کے لئے بہانوں کی کی تلاش میں رہتا ہے۔ خوف وہ وائرس ہے جو عزم اور حوصلے کے پورے سسٹم کو کرپٹ کردیتا ہے جس سے غلامی کو دوام میسر آجاتا ہے۔ مولا بخش کے زور پر چلتے غلامی کے اس نظام کی سنگینی یہ ہے کہ یہ نظام اگر تین سے زائد نسلوں تک چل جائے تو اس سے غلام قوم کی پوری نفسیات بدل جاتی ہے۔ اس کا انداز غور و فکر ہی غلامانہ ہوجاتا ہے۔ آزادی میسر آنے پر بھی سوچتا غلاموں کی طرح ہے۔ مولا بخش پر اس کا ایمان و یقین اس کی فطرت کا اس حد تک حصہ بن جاتا ہے کہ آزادی اور اختیار میسر آنے پر وہ خود بھی مولا بخش کی خدمات ترجیحی بنیاد پر حاصل کرنے لگتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اسی کے زور پر اپنے اختیار کو دوام دے۔ ایسی قوموں کی بدنصیبی یہ ہوتی ہے کہ ان کے محکوم ہی نہیں حاکم بھی ذہنیت غلامانہ رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ہی خوف کے زیر اثر ہوتے ہیں سو دونوں نفسیاتی طور پر ہمہ وقت خود کو بے خوف ثابت کرنے کی جد و جہد کرتے نظر آتے ہیں جس کا سب سے بڑا اظہار ’’بڑبولے پن‘‘ کی صورت ہوتا ہے۔ اکڑ اور بڑے بڑے ڈائیلاگ ان کی روز مرہ زندگی کا معمول بن جاتے ہیں۔

چلئے لوٹ کر اس درسگاہ میں جاتے ہیں جہاں ایک بچے کا مولابخش سے پہلا باضابطہ تعارف ہوتا ہے۔ درسگاہ دو ہستیوں کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے۔ ایک وہ جس نے تعلیم و تربیت فراہم کرنی ہے اور دوسری وہ جس نے تعلیم و تربیت پانی ہے۔ ہماری درسگاہ میں مولا بخش پہلی ہستی کا معاون ہے ۔ اس لحاظ سے وہاں اس کی حیثیت شاگرد نہیں استاد کی ہے ۔ استاد کا احترام لازم ہے سو حد ادب کا تقاضا ہے کہ مولا بخش نہیں ’’استاد مولا بخش‘‘ کہا جائے۔ یہ صدیوں کی غلامی کے نتیجے میں بننے والی ہماری غلامانہ ذہنیت کا ہی شاخسانہ ہے کہ جوں ہی ایک بچہ ماں کی آغوش سے اتر کر تعلیم و تربیت کے لئے درسگاہ میں قدم رکھتا ہے ہم اس کے استقبال کے لئے استاد مولا بخش کو موجود رکھتے ہیں۔ ہم پہلے ہی دن سے بچے کو سکھانے لگتے ہیں کہ اس دنیا میں بود و باش کے لئے تمہارے پاس دو ہی امکانات ہیں۔ یا تو ڈرو اور اگر ڈرنا نہیں چاہتے تو پھر ڈراؤ۔ جب بات ڈرنے ڈرانے کی ہو تو اس کام کے لئے استاد مولا بخش کی حیثیت لیجنڈ کی ہے۔ دس بارہ برس پر محیط ابتدائی تعلیم و تربیت کے اس پورے مرحلے پر ٹیچر اور استاد مولا بخش اس بچے کو خوفزدہ ہونے اور خوفزدہ کرنے کی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے ہر طرح کے نظام تعلیم میں بچے کی نفسیات تباہ و برباد کرنے کا یہ عمل لازمی حصے کے طور پر موجود ہے۔ اگر نہیں ہے تو صرف ان تعلیمی اداروں میں نہیں ہے جہاں پڑھنے والے بچے محکوم نہیں حاکم طبقے کی اولاد ہیں۔ نفسیات صرف پٹتے بچے کی تباہ نہیں ہوتی بلکہ پوری کلاس پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ تباہ کن اثرات جو آگے چل کر ان بچوں کی عملی زندگی کا تصور ہی مثبت کے بجائے منفی انداز فکر پر استوار کر دیتے ہیں۔ ڈرے ہوئے دل و دماغ میں مثبت خیالات کا کیا کام ؟

استاد مولا بخش کی مچائی تباہی کو سمجھنا ہو تو بیشک کسی ایسے بچے کا نفسیاتی تجزیہ کروا کر دیکھ لیجئے جو میٹرک میں ٹاپ کرکے کالج پہنچا ہو۔ اس کا ٹاپر ہونا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ اس نے کورس بہت اچھی طرح پڑھ رکھا ہے۔ جہاں تک اس کی نفسیات اور انداز فکر کا تعلق ہے وہ آپ کو برباد ہی ملے گی۔ آپ کو خوف اس کی نفسیات کے سب سے اہم اور غالب عنصر کے طور پر نظر آئے گا۔ اس کا پورا انداز فکر اسی خوف کے زیر اثر ملے گا اور اس کی ترجیحات بھی آپ کو خوف ہی کے تابع نظر آئیں گی۔ استاد مولا بخش کی اصل بے رحمی سے تو تب واسطہ پڑتا ہے جب عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ زندگی کا وہ تلخ مرحلہ جب ایک طرف جینے اور کار آمد ثابت ہونے کے چیلنجز درپیش ہوتے ہیں تو دوسری جانب استاد مولا بخش ان چیلنجز کو مشکل تر بنانے کے لئے مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ وہ ان چیلنجز کو ہی مشکل تر نہیں بناتے بلکہ آپ کو قدم قدم پر یہ بھی باور کراتے ہیں کہ آپ کی آزادی محدود ہے۔ جب آپ ’’آزادی اظہار‘‘ کے خوشنما فریب کا شکار ہوکر ایک خاص حد سے آگے کی آزادی کی محض بات کرنے لگتے ہیں تو نظروں میں آجاتے ہیں۔ تب آپ کو اس فریب سے نجات دلانے کے لئے استاد مولا بخش ہی حرکت میں آتے ہیں۔ آپ بات سے آگے کا مرحلہ سر کرتے ہوئے حقوق کے حصول کے لئے تحریکی قدم اٹھاتے ہیں تو استاد مولا بخش کو اس میدان میں بھی اپنا منظر پاتے ہیں۔ آپ کسی ظلم پر احتجاج کرتے ہیں تو استاد مولا بخش آپ کو اس کے سنگین نتائج سے آشنا ئی بخشنے کے لئے بھی حاضر ناظر ملتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اگر آپ ان سب میں سے کچھ بھی نہیں کرتے بلکہ رات گئے نوکری سے گھر لوٹتے ہوئے کسی ناکے پر روک لئے جاتے ہیں اور آپ مٹھی گرم کرنے کا ہنر نہیں جانتے تو ایسی صورت میں بھی استاد مولا بخش آپ کو بخشش کے آداب سکھانے کو چوکس ملتے ہیں۔ غرضیکہ زندگی کے ہر قدم پر آپ کا استاد مولا بخش سے واسطہ پڑتا ہے اور وہ ہر قدم پر آپ کو یہی باور کراتے ہیں کہ آپ محکوم ہیں اور محکوم کو سر اٹھا کر چلنے کا حق نہیں۔ اگر آپ باز نہیں آتے، آپ کی آواز مزید بلند ہونے لگتی ہے اور آپ اپنی آزادی اور حقوق کے ہر غاصب کے خلاف آواز بلند کرنے لگتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ آپ کی شامت آپ کو بہت جلد ’’استاد بڑے مولا بخش خاں صاحب‘‘ کے رو برو کرنے لگی ہے۔ زندگی کی اولین درسگاہ سے لے کر وزارت داخلہ تک آپ نے اپنی حیات میں جتنے بھی استاد مولابخش دیکھ رکھے ہیں وہ سب کے سب استاد بڑے مولا بخش خاں صاحب کے مقدس دربار میں تھر تھر کانپتے نظر آتے ہیں تو آپ کیا چیز ہیں ؟ ایسی صورت میں آپ کو دعاؤں کی اشد ضرورت ہے سو خدا آپ کا حامی و ناصر ہو !

متعلقہ مضامین