پاکستان کا مستقبل

امریکہ کی نائن الیون کے بعد کی حکمت عملی میں صرف افغان اور عراق جنگ ہی شامل نہ تھی بلکہ پاکستان کی نئی نظریاتی تشکیل بھی اس حکمت عملی کا حصہ تھی۔ اس نئی نظریاتی تشکیل میں سب سے بنیادی ہدف یہ رہا کہ ریاستی پالیسی میں جنرل ضیاء دور سے در آنے والے دیوبندی فیکٹر کو نکال باہر کیا جائے۔ اس دیوبندی فیکٹر کو اچھی طرح سمجھے بغیر بات پوری گہرائی اور گیرائی سے نہیں سمجھی جا سکتی۔ اگر پاکستان کے اس واحد غیر متنازع الیکشن کا جائزہ لیا جائے جو 1970ء کا الیکشن کہلاتا ہے تو اس میں تین مذہبی جماعتیں پارلیمنٹ تک رسائی حاصل کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک مولانا مفتی محمود کی جمعیت علماء اسلام، دوسری مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علماء پاکستان اور تیسری سید مودودی کی جماعت اسلامی۔ خیبر پختون خوا میں ایک تو بریلوی مکتب فکر آٹے میں نمک کے برابر ہے اور دوسرا یہ کہ عالم دین وہاں کی معاشرت میں آج بھی بہت ہی معتبر اور قابل احترام ہستی ہے، وہ جرگے کا لازمی حصہ ہے اور "خان” پر چیک رکھنے والا سب سے طاقتور عنصر ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس کی حیثیت پنجاب کے کمی کمین مولوی والی ہرگز نہیں۔ ظاہر ہے 1970ء کا پختون مولوی اور بھی زیادہ قابل احترام تھا سو مذکورہ تینوں مذہبی جماعتوں میں سے جے یو آئی صوبے میں مخلوط حکومت قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوئی۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازع 77 کے الیکشن میں بھی ان تینوں مذہبی جماعتوں کا وجود باقی رہا لیکن جب جنرل ضیاء آئے اور جہادی پالیسی بنی تو نظریاتی طور پر برٹش ہندوستان میں صرف دیوبندی مکتب فکر ہی جہادی رہا تھا۔ مزاحمت اور لڑنا مرنا اس کے خمیر میں ہی یوں شامل ہے کہ اس مسلک کی بنیاد ڈالی ہی مزاحمت کے لئے گئی تھی۔ یوں اپنی جہادی پالیسی کے لئے جنرل ضیاء کے پاس سب سے بہتر بلکہ واحد آپشن دیوبندی مکتب فکر ہی تھا۔

جنرل ضیاء نے دیوبندی مکتب فکر کے ممتاز بزرگ ڈاکٹر عبدالحی صاحب کی بیعت کرلی جس سے مفتی رفیع عثمانی اور مفتی تقی عثمانی ان کے پیر بھائی ہوگئے۔ جنرل ضیاء ان میں سے سب سے قابل یعنی مفتی تقی عثمانی صاحب کو عدلیہ میں لے آئے، وفاق المدارس کی ڈگری کو ایم اے کے مساوی کرکے اس کی بنیاد پر دیوبندی مولویوں کے لئے سرکاری نوکریوں کے دروازے کھول دئے۔ یہاں تک کہ فوج میں بھی خطیب دیوبندی بکثرت بھرتی کئے گئے۔ کہنے کو دیگر مکاتب فکر کی ڈگریاں بھی ایم اے کے مساوی کی گئی تھیں لیکن بھرتیاں ستر سے 80 فیصد دیوبندی مکتب فکر سے ہی کی گئیں۔ مولانا مودودی بھی جہادی فکر کے علمبردار رہے تھے سو دوسرے نمبر پر نوازشات ان کے پیر و کاروں پر ہویں۔ جنرل ضیاء کی ان پالیسیوں کا اثر دیکھئے کہ آگے چل کر جتنے بھی انتخابات ہوئے پارلیمنٹ میں تین جہادی مکتب فکر دیوبندی، مودودی اور اہل حدیث تو پہنچے لیکن کسی بریلوی جماعت کا کوئی نہ پہنچ سکا۔ بریلوی اگلی بار تب پارلیمنٹ میں پہنچے جب اگلے آمر کو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے تمام مسالک کی ضرورت پڑی۔ ایم ایم اے فارغ ہوئی تو بریلویوں کے لئے صورتحال ایک بار پھر مشرف دور سے قبل والی ہوگئی۔

امریکہ نے جب پاکستان کی نئی نظریاتی تشکیل کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کیا تو پڑھے لکھے لوگوں کے لئے متبادل کے طور پر جاوید غامدی صاحب کو آگے لایا گیا جبکہ روایتی گھسی پٹی سوچ والوں کے لئے "صوفی اسلام” کا شوشہ چھوڑا۔ صوفی اسلام سے کچھ اور نہیں بلکہ بریلوی مکتب فکر مراد تھا۔ پڑھے لکھے لوگوں کی مشرف کو پروا نہ تھی کیونکہ یہ ہیں تو بہر حال "اقلیت” پریشانی کا باعث اکثریت تھی سو مشرف نے امریکہ کے صوفی اسلام والے گیم کو خطرہ سمجھا اور اسے کامیاب نہ ہونے دیا جس کے لئے اس نے ایم ایم اے بنا کر تمام مکاتب فکر کو یکجا کردیا تاکہ تفرقے کی یہ سکیم کامیاب نہ ہو سکے۔ اس امریکی گیم کو ناکام کرنے کے لئے مشرف کا دوسرا اقدام سب سے دلچسپ رہا جو اس نے تب اٹھایا جب ایم ایم اے کے قیام کے باوجود امریکہ صوفی اسلام والے آئیڈیئے سے باز نہیں آیا۔ مشرف نے کیا یہ کہ عالمی صوفی کانفرنس کا انعقاد کرکے چوہدری شجاعت حسین کو پاکستان کے سب سے عظیم صوفی بزرگ کے طور پر پیش کردیا جو ہیں کٹر دیوبندی۔ اب امریکہ کے پاس واحد آپشن یہی تھی کہ وہ کھل کر کہدے "ہم بریلوی مسلک کا فروغ چاہتے ہیں” اور ظاہر ہے وہ یہ کہہ نہیں سکتا تھا۔ یوں امریکہ عارضی طور پر پسپا ہوگیا اور اگلی بار وہ تب اس ہدف کے لئے حرکت میں آیا جب مشرف فارغ ہو گیا اور زرداری حکومت آگئی۔ صاحبزادہ فضل کریم اور ملتان کے کچھ مشائخ کو بھاری فنڈنگ کی گئی۔ ریلیاں بھی نکلوائی گئیں اور فیصل آباد میں مولانا ضیاء القاسمی مرحوم کے گھر پر حملہ کرکے باقاعدہ فرقہ وارانہ تصادم کا ماحول بنانے کی کوشش بھی کرلی گئی مگر بات بنی نہیں۔

یہ سکیم اب تک اس لئے ناکام ہوتی رہی کہ امریکہ کی ضرورت تھی۔ اب یہ پاکستان میں طاقت کے اہم مرکز کی ضرورت بن گئی ہے۔ دو تین ماہ قبل ایک مختصر سی پوسٹ میں عرض کر چکا ہوں کہ دیوبندیوں نے بہت مزے کر لئے اب بریلویوں کی باری ہے۔ آج صاف صاف سن لیجئے کہ حافظ سعید، فضل الرحمن خلیل اور مسعود اظہر کا دور تمام ہوا۔ اب علامہ خادم حسین رضوی کے "امیر المجاہدین” بننے کا وقت ہے۔ حافظ سعید اور مسعود اظہر کا جہاد بھارت کے خلاف ہوا کرتا تھا۔ علامہ خادم حسین رضوی کا جہاد میرے اور آپ کے خلاف ہوگا۔ جو صوفی نہیں ہے وہ کافر ہے۔ ایسے کافروں کو عنقریب قطار میں کھڑا کرکے کلمہ بھی پڑھوایا جائے گا اور تجدید نکاح بھی کی جائے گی۔ صوفی اسلام کے نام سے تکفیری اسلام کے "کلمہ کاؤنٹر” بس سجنے ہی والے ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تجدید نکاح کی ہر اجتماعی تقریب میں لفافے بھی بٹیں گے۔ میری تو بس اتنی ہی معصومانہ سی خواہش ہے کہ مجھے عامر خاکوانی بھائی کے دست مبارک پر کلمہ پڑھوایا جائے اور مرشد ڈاکٹر عاصم اللہ بخش میری تجدید نکاح فرمائیں۔ میں نے تو وہ کلمہ بھی ابھی سے ازبر کرنا شروع کردیا ہے جو مجھے کلمہ شہادت کے بعد پڑھوایا جانا ہے

"میں شہادت دیتا ہوں کہ پاکستانی کائنات میں آرمی چیف سے بڑی کوئی طاقت نہیں اور ان کے برگزیدہ بندے ڈی جی آئی ایس آئی اور ان کے لائے ہوئے دین (پالیسی) پر کامل ایمان رکھتا ہوں اور یہ کہ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو فرشتہ مانتا ہوں۔ لاپتہ ہونے کو موت، عقوبت خانوں کو برزخ اور لوٹ آنے کو بعث بعد الموت سمجھتا ہوں”

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے