ستر سال بعد قائداعظم نے خواب میں کیا کہا

 فیاض محمود

جو کہوں گا سچ کہوں گا، سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا،عام طور پر حلف نامے عدالت میں جمع کرائے جاتے ہیں۔ مگر میری تحریر کا آغاز حلف نامے سے ہوا، اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کا جواب تحریر کی سطریں ہی دیں گی۔ یہ صرف حلف نامہ نہیں، بانی پاکستان کی امانت کا اقرار ہے۔ اور غلطی یا بھول چوک ہونے پر قائداعظم محمد علی جناح سے بھی پیشگی معذرت۔ یہاں کوئی کہانی یا من گھڑت واقعہ بیان نہیں کرنے جارہا بلکہ سچ بیان کرنے جارہا ہوں جو بابائے قوم کی زبانی مجھ تک پہنچا۔ خواب بیان کرنے سے قبل پریشان بھی ہوں اور حیران بھی۔ پریشان اس لیے کہ حق ادا نہ کرپایا تو خود کو معاف نہ کرسکوں گا اور حیران اس لیے کہ قائد اعظم نے اس ناچیز کا انتخاب ہی کیوں کیا۔ یہ سوچتے سوچتے آنکھ کھل گئی۔ پیارے دوست سہیل رشید کو خواب سنانے کا فیصلہ کیا۔ اور طے یہ پایا کہ قائد کی امانت ان کی  قوم تک پہنچائی جائے۔ اس خواب سے نظریاتی اختلاف بھی کیا جائے گا اور من گھڑت بھی سمجھا جائے گا۔ مگر حق تو ادا کرنا ہے۔ تحریر میں رائے سے گریز کروں اور فیصلہ قاری پر چھوڑوں گا۔ خواب میں جو دیکھا حرف با حرف بیان کروں گا۔ سرد موسم ہے۔ اسلام آباد میں جاڑہ اپنے قدم جماچکا ہے۔ درالحکومت کی شاہرایں شام پڑتے ہوئے سنان پڑی دکھائی دیتی ہیں۔ ابتدائی رات کا سناٹا بستر میں گھسنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اپنے کمرے میں خنکی پا کر بستر پر لیٹ گیا۔ دن بھر کی تھکاوٹ اور موسم کی شدت سے ناجانے کب آنکھیں بند ہو گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سرکاری دفتر کے صحن میں جاکھڑا ہوا۔ سرخ رنگ کی شاندار عمارت میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات تھے۔ بلڈنگ کے باغیچے اور کیاری میں بڑی ترتیب سے پھولوں کے پودے لگائے گئے تھے۔ ایک طرف خوبصورت پھولوں کی بیل بلڈنگ پر پھیلی ہوئی تھی جو اپنی کشش آپ تھی۔ چار دیواری کے اندر مرکزی عمارت اور باغیچے کے پاس کشادہ سیڑھیاں بالائی منزل پر جارہی تھیں۔ پھولوں کی کیاری کے پاس کھڑا تھا اور چمکتی دمکتی سیاہ گاڑی پر نظریں جمی تھیں۔ جبکہ ریڈ کارپٹ بتا رہا تھا یہاں کوئی سرکاری تقریب جاری ہے۔ زمین پر بچھی پھولوں کی پتیاں اہم شخصیات کی موجودگی کا پتہ دے رہی تھیں۔ اسی اثناء میں عمارت سے سیکورٹی اہلکار باہر نکلے اور مجھے اپنی جگہ پر ہی ٹھہرے رہنے کا حکم ملا۔ خوبصورت تھری پیس میں ملبوس، ٹائی باندھے، براون پالش سے چمکتے صاف ستھرے جوتے اور چاندی کی طرح سفید بالوں والے بزرگ بھی نمودار ہوئے۔ بارعب شخصیت کے ہمراہ سیاہ مغربی لباس میں ملبوس خاتون بھی باہر آئیں۔ خاتون بظاہر کسی ملک کی سربراہ تھیں۔ زبردست شخصیت کے مالک برزگ آگے بڑھے تو میرے ؛قدم؛ بھی بے اختیار ان کی جانب اٹھ گئے۔ سیکورٹی اہلکار نے مجھے مزید پیش قدمی سے منع کردیا۔ آنکھوں کا دریا بہنے لگا۔ اور زبان بے اختیار بول اٹھی۔ قائد اعظم زندہ باد۔ اک پل محسوس ہوا ہمارا نجات دہندہ ہمیشہ کے لیے لوٹ آیا۔ یہ خواب لکھتے ہوئے میاں محمد بخش بھی یاد آ رہے ہیں

’’سپنے وچ ماہی ملیا میں گل وچ پا لئیاں باواں
ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں کتھے فیر بچھڑ نہ جاواں‘‘

خواب میں ملے قائد کے پھر بچھڑ جانے کے خوف نے سیکورٹی حصار کو توڑنے پر مجبور کردیا۔ قائد اعظم سیڑھیوں سے ہوتے ہوئے بالائی منزل کی طرف چل دیے۔ میں بھی دھکم پیل کے بعد اس کمرے کے سامنے کھڑا تھا جہاں بانی پاکستان تشریف فرما تھے۔ وہاں کچھ لوگ پہلے ہی موجود تھے۔ صحن میں کھڑے کسی شخص نے بتایا پاکستان کے مسائل سے متعلق اہم اجلاس جاری ہے۔ سوچوں میں گم میرے دماغ کے کسی کونے میں خیال نے جنم لیا اگر قائد اعظم زندہ تھے اور وہ کسی اور ملک میں قیام پذیر بھی تھے۔ پھر مشکلات میں گھری قوم کی خبر کیوں نہ لی۔ جب صدر ضیاء الحق نے صدارتی نظام کے حق میں بطور دلیل قائد اعظم کی ڈائری ڈھونڈنکالی۔ اور سرکاری میڈیا پر منادی کرا دی جناح تو پارلیمانی نظام کے حامی ہی نہیں تھے۔ اور دال گلتی نہ دکھائی دیکھ کر خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے۔ اگر قائد حیات تھے تو اس دلیل کو ہی رد کردیتے۔انہی سوچوں میں گم تھا کہ اجلاس ختم ہونے کی آواز لگا دی گئی۔ مسلمانوں کا وہ بے مثل رہنما نمودار ہوا زمانہ جس کے سلیقے ، عقل و دانش اور طرز سیاست کا قائل ہوا ۔۔ سٹینلے والپرٹ نے جس کا زکر کچھ ایسے کیا تھا

’’عالمی تاریخ میں صرف چند شخصیات نے تاریخ کا دھارا بدلا، صرف چند نے دنیا کا نقشہ بدلا اورقومی ریاست کے قیام کا کریڈٹ بمشکل ہی کسی کو دیا جا سکتا ہے۔ محمد علی جناح نے بیک وقت تینوں کارنامے سر انجام دیئے‘‘

خیر بابائے قوم کو ایک جنٹلمین کی طرح باہر آتے دیکھا تو مژگاں پہ منتظر موتی فرش راہ کر دیئے ۔ زبان بے ساختہ بولے جاتی تھی قائد اعظم زندہ باد۔قائد اعظم زندہ باد۔ قائد اعظم میڈیا سے خطاب کے لیے کھڑے ہوئے۔ وہی انداز۔ وہی رعب و دبدبا۔ شخصیت بھی ویسی ہی دیکھی جیسی پڑھ اور سن رکھی تھی۔ سیکورٹی اہلکاروں نے حاضرین کو پیچھے رہنے کا حکم دیا۔ مملکت پاکستان کے بانی نے بولنا شروع کیا۔ انداز وہی تھا جو بچپن سے ٹی وی ریڈیو پر ان کی آواز سنتے آئے تھے ’’مسلمان۔۔ مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا‘‘ ۔۔ قائد نے سب سے پہلے اجلاس کا ایجنڈا بتایااور فرمایا پاکستان کو درپیش مسائل کا ہر پہلو سے بغور جائزہ لیا گیا اور وجہ جاننے کی کوشش کی‘‘۔ دل بے تابی سے دھڑکنے لگا ۔۔ قائد آخر کیا وجہ بتائیں گے ۔۔۔ اگلے جملے سے سسپنس ٹوٹا ۔۔ قائداعظم کے جو الفاظ میں نے سنے وہ یہ تھے

’’پاکستان کے مسائل کی اصل وجہ قرآن پاک سے ہٹ جانا ہے‘‘ ۔۔ آنکھ کھلی تو رُخسار آنسووں سے تر تھے ۔۔ خواب کا پیغام اور مطلب واضح ہے۔ سمجھ دار کے لیے اشارہ کافی ہے۔ میں نے قائد اعظم محمد علی جناح کا خواب پوری ایمانداری سے بیان کردیا۔ عام آدمی سے حکمران تک پیغام پہنچا دیا۔

مانا کہ انداز بیاں بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات

متعلقہ مضامین