حدیبیہ کیس کیوں کھولیں؟

سپریم کورٹ سے اے وحید مراد
قومی احتساب بیورو نے سپریم کورٹ کے ججوں کے دباﺅ پر ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ساڑھے تین برس کی تاخیر سے اپیل تو دائر کردی مگر ابھی تک وجوہات نہیں تیار کی جاسکیں کہ مقدمہ کیوں دوبارہ کھولا جائے۔ سپریم کور ٹ کے تین رکنی خصوصی بنچ سے اگر نیب کو یہ توقع تھی کہ وہ بھی پانامہ والے ججوں کی طرح فوری طور پر آنکھیں بند کرکے اپیل منظور کرکے فیصلہ دے دے گا تو دوسماعتوں پر جسٹس قاضی فائز اور جسٹس مشیرعالم نے قانونی سوالات اٹھاکر احتساب بیورو کے پراسیکیوٹرز کی غلط فہمی یا خوش فہمی دور کردی ہے۔ آج تو عدالت نے شام سات سے رات گیارہ بجے تک ٹی وی چینلوں پر بیٹھے ’مداری ججوں‘ کی بھی تسلی کرادی ہے۔
جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ نے پہلے تو صبح صبح نیب کی مقدمہ ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کی اور کہاکہ ساڑھے گیارہ بجے کیس کو سنا جائے گا۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی تک اپیل نہ سنی جائے مگر ججوں نے احتساب بیورو کے وکیل کی ایک نہ سنی۔
ساڑھے گیارہ بجے نیب پراسیکیوٹر عمران الحق اپنے دو ساتھی وکیلوں کے ہمراہ کمرہ عدالت نمبر چار میں تین ججوں کے سامنے روسٹرم پر کھڑے ہوئے تو سوالات وہی تھے جو گزشتہ سماعت پر ہوئے تھے اور جواب میں نیب کے پاس صرف پانامہ کیس کا فیصلہ تھا مگر جج دلائل کا پوچھتے رہے۔ وکیل عمران الحق نے عدالت کو بتایاکہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حدیبیہ ریفرنس کی تمام دستاویزات جمع کرادی گئی ہیں۔ عدالت نے کیس کے حقائق تفصیل سے بتانے کی ہدایت کی تو کہاگیاکہ ریفرنس میں نامزدملزمان کودس دسمبر سنہ دوہزار میں جلاوطن کیاگیا جبکہ ریفرنس ستائیس مارچ سنہ دوہزار کو دائر کیا گیاتھا، ملزمان پچیس نومبر دوہزارسات کو واپس پاکستان آئے اور پانچ جون دوہزار تیرہ کو وزیراعظم بنے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آپ نے درخواست دی ہے کہ ملزم ریفرنس پر اثرانداز ہوئے وہ بتائیں۔ نیب کے وکیل نے کہاکہ وزیراعظم بننے کے بعد ہائیکورٹ کے فیصلے پر اپیل دائر نہ کرنے کیلئے اثرانداز ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ نیب نے یہ ریفرنس اتنا عرصہ کولڈ اسٹوریج میں کیوں رکھا؟۔ وکیل نے جواب دیاکہ ملزم اس وقت کراچی کی عدالت میں طیار ہ اغوا کیس کا سامنا کررہے تھے۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ آپ کی فائل میں اٹک قلعے کا لکھا ہواہے، یہ کیاہے؟۔ وکیل نے کہاکہ یہ جیل ہے۔ جسٹس قاضی نے پوچھاکہ کیا کوئی باقاعدہ جیل ہے؟ قانون کے مطابق بتائیں، ملزمان کو وہاں کیوں رکھا گیا؟ وکیل نے کہاکہ مجھے علم نہیں کہ اٹک قلعے میں کیوں رکھا گیااورکیا یہ جیل قانونی تھی۔جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آئین کو دیکھ لیں جو کہتاہے کہ ملزم کا اوپن ٹرائل ہوگا اگر کوئی ہارڈ کور دہشت گرد نہ ہو۔ جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ عدالت کویہ تمام ریکارڈ چاہیے ہوگاکہ اٹک قلعے کو جیل کب ڈکلیئر کیا گیا، اس کے بعد ملزم کو کہاںرکھا گیا۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ ملزم فری مین نہیں تھا تو اس نے ٹرائل سے خود کو کیسےبچایا؟۔ نیب کیسے کہتاہے کہ ملزم نے ٹرائل سے بچنے کیلئے تاخیری حربے استعمال کیے یااثرانداز ہوا۔جلاوطنی تک سات ماہ میں نیب نے کچھ نہ کیا۔ جسٹس قاضی فائز نے ہارون پاشا کو ہٹائے جانے کا پوچھا ، کہاکہ اس وقت کس کی حکومت تھی؟۔ وکیل نے جواب دیاکہ پرویزمشرف کی حکومت تھی۔ جسٹس قاضی نے کہاکہ امید ہے کہ آپ کا مقدمہ یہ نہیں ہوگاکہ ملزم نے پرویزمشرف پر اثرانداز ہوکر ٹرائل نہ ہونے دیا۔بتایا جائے کہ ملزم کی عدم موجودگی میں اٹک قلعے میں ٹرائل کیسے ہوا؟۔ جسٹس مشیرعالم نے سوال کیاکہ کیا ریکارڈ پر ایسی کوئی دستاویز موجودہے کہ حدیبیہ ریفرنس ٹرائل کے دوران ملزم عدالت میں موجود تھا، جب ماضی کے مقدمے کو کھولنے کی اپیل سن رہے ہیں تو ان تمام چیزوں کو الگ نہیں رکھ سکتے۔نیب کے وکیل نے بتایاکہ ملزمان کی جلاوطنی کے بعد سنہ دوہزار ایک میں ریفرنس کو غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کیاگیا۔ جسٹس قاضی فائز نے سوال کیاکہ کیا قانون میں ایسی کوئی گنجائش ہے؟۔کیا قانون میں جلاوطنی کا کوئی تصور ہے؟ مفرور کاتو سناتھا مگر جلاوطنی کا نہیں۔نیب وکیل نے کہاکہ حکومت اور ملزم کے درمیان معاہدہ ہواتھا۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ کیا قانون میں ایسی گنجائش ہے؟ کل کو آپ کو اٹھا کر کوئی باہربھیج دے تو کس قانون کے تحت ہوگا؟۔ وکیل نے کہاکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے ایک کیس کے فیصلے میں جلاوطنی کا ذکر بھی کیاہے۔ جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ ہم اس کیس میں کسی دوسرے مقدمے سے کوئی چیز امپورٹ نہیں کریں گے۔ جسٹس قاضی فائز نے سوال کیاکہ اگر کسی ملزم کاٹرائل ہورہا ہے تو کیا اس کو جلاوطن کیا جاسکتا ہے؟۔ نیب کے وکیل نے کہاکہ جلاوطنی کا معاہدہ ملزم کی انڈرسٹینڈنگ کے تحت ہوا۔جسٹس قاضی فائزنے کہاکہ یہ کیا ہوتی ہے؟ کل کو کسی قاتل کو انڈرسٹینڈنگ کے تحت باہر بھیج دیا جائے گا؟۔ وکیل نے کہاکہ ملزم نے خود جلاوطنی اختیار کی اور پاکستان چھوڑا۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ اب آپ نئی بات کررہے ہیں،یہ کسی کی مرضی نہیں کہ جب چاہے ایسا کرے، قانون کیلئے اجنبی تصورات یہاں عدالت میں لائے جارہے ہیں،اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ ملزم کو پرویزمشرف نے باہر بھیجا تو نیب نے اس کے خلاف کیا کارروائی کی؟۔یاپھر یہ کہہ دیں کہ ملک قانون کے تحت نہیں ایک شخص کی مرضی سے چلایا گیا۔ جسٹس مشیرعالم نے پوچھاکہ بتایا جائے قانون کے مطابق ایک انڈرٹرائل ملزم کو بیرون ملک کیسے بھیجا جاسکتاہے؟۔ وکیل نے جواب دیاکہ نیب اس معاملے میں خود سے کچھ نہیں کرسکتا، ہمارے پاس ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ کیا اس ملک کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال ہے کہ ملزم کے بیرون ملک جانے سے مقدمہ غیر معینہ ملتوی ہوا ہو؟۔جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ جب ملزم نیب کی تحویل میں تھا تو بیرون ملک کیسے چلاگیا؟۔وکیل نے بتایاکہ ملزم کراچی میں عدالتی تحویل میںتھا، طیارہ اغوا کیس میں سزاہوئی اور صدر کی معافی کے بعد باہر گیا۔ جسٹس قاضی فائز نے سوال کیاکہ کیا ملزم پاکستان آنے کا خواہش مند تھایا عدالت کا سامنے کرنے سے کترا رہا تھا؟۔نیب کے وکیل نے کہاکہ ملزم نے واپس آنے کی خواہش ظاہرکی تھی اور سپریم کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ جب ملزم واپس آئے تو نیب نے عدالت میں پیش کیوں نہ کیا؟۔جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ کیا نیب نے ملزمان کو پیش کرنے کیلئے عدالت سے استدعا کی؟ملزمان کی ملک واپسی پر ان کو گرفتار کیوں نہ کیاگیا؟نیب نے ملزم کو رعایت کیوں دی؟۔ ملزمان کی پیشی کیلئے نیب نے کیا اقدامات کیے؟۔ وکیل نے جواب دیا کہ یہ نیب عدالت کاکام تھا کہ وہ احکامات جاری کرتی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ اس وقت ملک میں ایک جنرل کی حکومت تھی اور ایک جنرل نیب کا چیئرمین تھا۔جب نیب نے غیرمعینہ التوا کی درخواست کی تھی تو ملک واپسی پر کیس کھولنا کیلئے درخواست دینا نیب کا کام تھا۔ عدالت کو ریکارڈ سے بتایا گیا کہ سترہ دسمبر دوہزار آٹھ کو نیب کی جانب سے کسی کے پیش نہ ہونے پر درخواست خارج کردی گئی تھی جس کی بحالی کیلئے پراسیکیوٹر جنرل نے درخواست دی تو عدالت نے کہاکہ چیئرمین نیب کے دستخط سے درخواست دائر کی جائے۔جسٹس قاضی نے کہاکہ فروری دوہزار دس تک نیب نے کچھ نہ کیا، دوسال اس پر گزر گئے اور چیئرمین نیب کے دستخط نہ ہوسکے، پتہ نہیں کیوں اڑے رہے، سترہ جولائی دوہزار بارہ کو چیئرمین فصیح بخاری نے دستخط کرکے درخواست دائر کی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ ہم اس ملک کی عدالتی تاریخ سے آگاہ ہیں، بتایاجائے مشرف کب تک صدر رہے؟۔ عدالت کو بتایا گیاکہ اٹھارہ اگست سنہ دوہزار آٹھ کومشرف عہدے سے سبکدوش ہوئے۔نیب کے وکیل نے بتایاکہ سترہ اکتوبر دوہزار گیارہ کو ملزم نے ہائیکورٹ سے ریفرنس کے خلاف رجوع کیا جس پر عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا۔جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ یہ حکم امتناع ریفرنس کی بحالی کےلئے دائر درخواست پر نہیں تھا صرف نیب کو اصل ریفرنس میں کارروائی سے روکا گیاتھا، آپ نے عدالتی حکم کو درست نہیں پڑھا۔ نیب کے وکیل نے اصرار کیا کہ حکم امتناع حدیبیہ ریفرنس سے متعلق تمام درخواستوں اورکارروائی پر تھا۔جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ آپ کی بات درست نہیں ہے، ہائیکورٹ نے صرف ریفرنس پر کارروائی روکی تھی، ریفرنس بحالی کی درخواست پر نیب کو عدالت نے نہیں روکاتھا۔ وکیل نے کہاکہ ہائیکورٹ نے پورا ریفرنس روکا تھا اگر عمل نہ کرتے تو عدالت توہین کی کارروائی کرتی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ نیب اگر اپنی توانائی صرف کرکے ریفرنس بحالی کیلئے کوشش کرتا مگر ایسا نہ کیا گیا۔ جسٹس مظہرعالم میاں خیل نے کہاکہ ملزم نے رٹ پانچ سال بعد دائر کی اس دوران نیب نے کیا کیا؟۔ نیب کے دوسرے پراسیکیوٹر ناصر مغل نے عدالت کو بتایاکہ جب چھ ستمبر دوہزاربارہ کو عدالتی حکم نامہ آیا تو معلوم ہواکہ ہم غلط سمجھے یا اس حکم میں کوئی وضاحت نہیں تھی اس لیے ایسا ہوا۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ اب آپ درست کہہ رہے ہیں کہ نیب نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو غلط سمجھا حالانکہ وہ واضح لکھا ہوا تھا۔ عدالت کے پوچھنے پر نیب کے وکیل نے بتایاکہ قانون کے سیکشن سولہ کے تحت نیب ریفرنس پر فیصلہ تیس دن میں کارروائی مکمل کرنا ہونا چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ جب ہائیکورٹ کا حکم امتناع کا فیصلہ آیا کس کی حکومت تھی؟ امید ہے کہ آپ ہائیکورٹ کے ججوں پر کوئی الزام عائد نہیں کریںگے۔ پراسیکیوٹر نیب ناصر مغل نے کہاکہ ہم نے نیب عدالت کے کئی احکامات پر تحفظات کے باوجود کبھی جج پر الزام عائد نہیں کیا، پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور عدالت بلاول ہاﺅس کے پیچھے بنے ہال میں لگتی تھی۔ جسٹس قاضی فائز نے فورا کہاکہ ایسی بات نہ کریں، اگر آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے تو گواہوں کے کٹہرے میں کھڑے ہوجائیں، ایک وقت میں آپ تین پراسیکیوٹر عدالت میںکیوں کھڑے ہیں؟۔ سینئر کون ہے؟ ۔ ناصر مغل نے بتایاکہ عمران الحق سینئر ہیں ہم ان کی مدد کیلئے کھڑے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ پھر جو بھی بتاناہے کہ سینئر پراسیکیوٹر کے کان میں کہیں تاکہ وہ عدالت کو آگاہ کرے۔
جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ حدیبیہ کا اصل ریفرنس کیا ہے؟ شکایت کنندہ کون تھا؟ وکیل نے بتایاکہ مشکوک اکاﺅنٹس سامنے آئے تھے جس پر کارروائی کی گئی۔ جسٹس مشیرعالم نے پوچھاکہ مختصرا بتائیں کہ ملزم نیب پر کیسے اثرانداز ہوئے، پہلے کیس دوبارہ کھولنے کا میرٹ دیکھیں گے اس کے بعد ریفرنس کا میرٹ پر جائزہ لے سکتے ہیں۔نیب کے وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے حدیبیہ کیس کو پانامہ کیس سے براہ راست متعلقہ قراردیا ہے۔ جسٹس میاں خیل نے کہاکہ نیب اپنا موقف بتائے۔جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ پہلے بتایا جائے کہ جلاوطنی اور عدم حاضری میں کیا فرق ہے؟ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ پانچ جون دوہزار تیرہ کو ملزم وزیراعظم بنے یہ ساری چیزیں اس سے قبل ہوئیں۔
عدالت کو بتایا گیاکہ بارہ اپریل دوہزار ایک کوحدیبیہ ریفرنس غیرمعینہ مدت تک کیلئے ملتوی ہوا، سات اگست دوہزار سات کو بحال کیا گیا۔ جسٹس مشیرعالم نے پوچھا کہ عدالت کو بتائیں ملزم نے نیب کو کارروائی سے کیسے روکا؟۔ نیب کے وکیل نے بتایاکہ اکیس اگست دوہزارآٹھ کو ریفرنس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیا گیا جس پر درخواست دائر کرکے بحال کیلئے کہاگیا، چار ستمبر دو ہزار آٹھ سے سات نومبر آٹھ تک سماعت نہ ہوئی۔بارہ نومبر کو عدالت نے ریفرنس خارج کردیا، تین مئی دوہزار دس کو نیب عدالت نے ریفرنس بحالی کیلئے چیئرمین کے دستخط لازمی قراردیے۔ عدالت کے پوچھنے پر نیب وکیل نے کہاکہ اس دوران چیئرمین کی عدم موجودگی کی وجہ سے درخواست تاخیر سے دائر ہوئی۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ عدالت نے مئی میں حکم دیا جون تک چیئرمین موجودتھے۔ وکیل نے بتایاکہ نئے چیئرمین کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست تھی جس پر ان کو ہٹا دیا گیا تھا ۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آپ اپنے ہی ادارے کو اٹیک کررہے ہیں، اپنے ہی ادارے کی ساکھ خراب کررہے ہیں، یہ مستقبل میں نیب کیلئے بہت خطرناک ہوگا۔ وکیل نے کہاکہ میں کسی کو اٹیک نہیں کررہا، سپریم کورٹ کے پانج ججوں نے یہ کہا ہے۔جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہیں یہ نہیں لکھاکہ نیب اپیل دائر کرے۔ وکیل نے کہاکہ یہ پانامہ کیس سے براہ راست متعلق ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ پانامہ کیس نہ آتا تو آپ یہ اپیل نہ کرتے، کیا یہی آپ کامقدمہ ہے؟۔ وکیل نے کہاکہ ایسا نہیں ہے۔جسٹس قاضی نے کہاکہ یہی آپ کی دلیل ہے۔ وکیل نے کہاکہ عدالت نے پانامہ فیصلے میں آبزرویشن دی ہے۔ جسٹس قاضی نے ہدایت کی کہ پہلے پانامہ فیصلے کا حتمی حکم نامہ پڑھ لیں۔ پراسیکیوٹر نے پانامہ فیصلے میں جسٹس کھوسہ کی دی گئی آبزرویشن پڑھی تو جسٹس قاضی نے کہاکہ آپ یہ اقلیتی رائے پڑھ رہے ہیں، پہلے آرڈر آف دی کورٹ پڑھ لیں، پھر اس کی تشریح کریں۔ عدالتی فیصلہ پڑھا گیاتو جسٹس قاضی نے کہاکہ واضح لکھا گیاہے کہ جب نیب اپیل دائر کرے گا تو عدالت دیکھے گی۔ وکیل نے دوبارہ کہاکہ اس میں جسٹس کھوسہ کی رائے بہت اہم ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ اقلیتی رائے ہے فیصلے سے لینا دینا نہیں۔چلیں اگر ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں تو پھر ہم یہاں بیٹھے کیا سن رہے ہیں؟ اگر جے آئی ٹی نے اپنے طور پر کر لیا تھا اور عدالت نے رائے دیدی توہم یہاں بیٹھ کرکیا کررہے ہیں، بہترین ہوگا کہ نیب اپنا کیس تیار کرکے اپنے دلائل دے۔وکیل نے کہاکہ میرے دلائل متعلقہ ہیں عدالت دیکھ لے۔ جسٹس مشیرعالم نے کہا کہ ہوں گے مگر ہم وہ کیس نہیں دیکھ رہے۔ وکیل نے کہاکہ سپریم کورٹ نے پانامہ نظر ثانی کے فیصلے میں بھی واضح لکھا ہے، پھر وہ حصہ پڑھ کر سنایا، کہا کہ جسٹس کھوسہ نے یہ رائے دی ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ خود سے کوئی وجوہات نہیں بتاسکتے، کیا اپیل اس لیے مان لیں کہ پہلے سے فیصلے میں رائے آچکی ہے؟۔ وکیل نے کہاکہ پانامہ کیس فیصلے دیگر ججوں نے بھی رائے دی ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ اتناوقت ضائع کیا پھروہی دلائل دے رہے ہیں، عدالت کے فیصلے کے بعد اپیل دائر کردی تو اپنا مقدمہ اب میرٹ پر لڑیں۔وکیل نے کہاکہ پانامہ فیصلے میں حدیبیہ پر جسٹس اعجازالاحسن نے بھی رائے دی ہے۔ جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ پہلے بھی بتاچکے ہیں فیصلے کو چھوڑیں اپنے دلائل دیں، اگر ہم مطمئن ہوئے تو جائزہ لیں گے۔ وکیل نے ایک بار پھر پانامہ فیصلے کاذکر کیا تو جسٹس مشیر عالم نے کہاکہ کیا آپ اس قابل نہیں کہ خود سے دلائل دے سکیں؟۔وکیل نے پھر معاملے کی ابتدا کا ذکر چھیڑنے کیلئے کہنا شروع کیا کہ یہ کیس عمران خان نیازی کی درخواست کے ذریعے سامنے آیا تو جسٹس قاضی فائز سخت بدمزہ ہوکر بولے کہ وہ کون ہے؟۔ اب ہم آپ کو نوٹس جاری کریں گے، آپ کو روکتے ہیں آپ پھر وہیں کر رہے ہیں۔
جسٹس قاضی فائز نے نیب کے وکیل کو ہدایت کی کہ اصل ریفرنس پڑھ لیں۔ کمپنی نے خود بیلنس شیٹ پیش کی تھی جس سے معلوم ہواکہ اچانک بہت بڑا سرمایہ لگایا گیا، غیرمعمولی رقم کا ذکرہے۔ وکیل نے بتایا کہ یہ معاملہ انکوائری کیلئے ڈی جی ایف آئی اے کے حوالے کیا گیا۔ غیررہائشی پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس کھولے گئے۔ ریفرنس میں مبینہ کرپشن کے ذکر پر جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ صرف لفاظی ہے ، کرپشن کرپشن، بتائیں کرپشن کہاں ہے؟۔ وکیل نے کہاکہ یہ چار مشکوک اکاﺅنٹس ایک ملزم اسحاق ڈار نے کھولے۔ جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ ریفرنس میں یہ کہاں لکھا ہے جو آپ پڑھ رہے ہیں؟۔ وکیل نے بتایاکہ ریفرنس میں انتہائی مشکوک ٹرانزیکشن ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہاکہ آپ نے خود ریفرنس میں محتاط ہوکر مشکوک لکھاہے۔ ملزمان نے ریفرنس سے پہلے نوٹس پر جواب دیاتھا وہ کہاں ہے؟۔ وکیل نے بتایا کہ وہ تو ہمارے پاس موجود نہیں۔وکیل نے کہاکہ حدیبیہ مل کے اکاﺅنٹس میں یہ رقم شیئرز کی خریداری کیلئے آئی مگر شیئرز خریدے گئے اور نہ ہی ان افراد کو رقم واپس کی گئی کیونکہ جن کے نام اکاوئنٹس کھولے گئے ان کے علم میں ہی نہیں تھا۔جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ جن کے نام اکاوئنٹس کھولے گئے کیا ان کے بیان رکارڈ کیے گئے۔ وکیل نے کہاکہ وہ ابھی ہمارے پاس موجود نہیں۔ جسٹس مشیرعالم نے کہاکہ مکمل رکارڈ کے ساتھ آنا چاہیے تھا۔ اکاونٹس کیسے کھولے گئے؟۔ وکیل نے کہاکہ اسحاق ڈار نے بنک منیجر کو اپنے دفتر بلایا تھا۔ وہ افسر گواہ بھی ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں بھی شامل ہے۔ جسٹس مشیرعالم نے پوچھاکہ کیا جے آئی ٹی کوئی نئی چیز سامنے لے کر آئی؟۔ وکیل نے جواب دیاکہ جی ہاں۔
اس کے ساتھ ہی ڈیڑھ بج گیا تو ججوں نے کیس کل تک ملتوی کرنے کیلئے حکم نامہ لکھوانا شروع کیا۔ جسٹس قاضی فائز نے وکیل پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ ہم آبزرو کریں گے کہ آپ بہت تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔ عدالت نے حکم دیاکہ حدیبیہ اپیل پر ٹی وی ٹاک شوز نہ کیے جائیں صرف رپورٹنگ کی اجازت ہے، خلاف ورزی پر پیمرا چینلز کے خلاف کارروائی کرے۔

 

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button