اورنج انصاف

اورنج لائن ٹرین منصوبہ شریف خاندان اور حکمران جماعت کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ لاہور کو شریف خاندان اور حکمران جماعت کا سیاسی قلعہ کہا جاتا ہے۔کچھ لوگوں کی رائے میں لاہور شریف خاندان کا اتنا ہی سیاسی قلعہ ہے جتنا جنرل ضیاالحق کا پاکستان اسلام کا قلعہ تھا۔اس بات کا اپنا اپنا مطلب نکالا جاسکتا ہے۔آخر پاکستان میں سیاست اور مذہب کا ماضی،حال اورمستقبل کچھ زیادہ مختلف تو نہیں نظر آتا۔

اسی وجہ سے اور شریف خاندان کے گرد سیاسی ،قانونی اور مذہبی گھیرا تنگ ہوتا نظر آنے کے باعث اس بات کا خدشہ تھا کہ اس منصوبے پر ایسا فیصلہ آ سکتا ہے کہ اور کچھ نہیں تو اس کا سیاسی فائدہ شریف خاندان یا حکمران جماعت نہ اٹھا پائے گی۔ اس منصوبے کو یکسر کالعدم قرار دے کر ختم کر دینے کا امکان تو کبھی تھا ہی نہیں کیونکہ اس پر پہلے ہی ایک ارب ڈالر کی رقم خرچ ہو چکی تھی جو چین کے ایگزیم بینک کے دئیے گئے ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرضے کا حصہ تھی۔ویسے بھی ماضی کے بعض عدالتی فیصلوں کے باعث پاکستان کو پہلے ہی بین الاقوامی ثالثی عدالتوں میں اربوں روپوں کے ہرجانے کا سامنا ہے۔انڈیپنڈنٹ پاور پلانٹس کے مقدمات میں افتخار چودھری کے فیصلوں نے پاکستان کو بین الاقوامی ثالثی کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑنے کے لئے آج بھی لاکھوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں۔تو جناب اورنج ٹرین منصوبے کو ختم کرنا تو آپشن ہی نہیں تھا تو پھر ایسا کیا ہو سکتا تھا کہ "سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے”۔
ہوا تو کچھ ایسا ہی ہے۔ویسے تو یہ وقت بتائے گا کہ "سانپ” مرا بھی ہے یا نہیں اور یا پھر کہیں لاٹھی ہی تو نہیں ٹوٹ گئی۔مگر ابھی تک کی صورتحال سے کچھ چیزیں واضح ہیں۔وہ یہ کہ اس معاملے کو عدالتوں میں لانا اگر معمول کا سیاسی ہتھکنڈا تھا بھی تو اس کی شروع سے لے کر آخر تک سماعت اور پھر محفوظ فیصلے کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر نے خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ منصوبہ آئندہ انتخابات یا نگران حکومت سے پہلے مکمل نہیں ہو گا بلکہ پاکستا ن کو بھاری جرمانے اور اسکی دوگنی لاگت کا بھی سامنا کرنا ہو گا۔اصل معاہدے کے تحت یہ منصوبہ مارچ 2017 میں مکمل ہونا تھا۔ایسا نہ ہونے کی صورت میں پنجاب حکومت کو ہر اضافی دن پر پانچ کروڑ دس لاکھ روپے یومیہ کے حساب سے ہرجانے کے دعوے کا سامنا کرنا تھا۔چائنا ریلوے اور نورنکو کمپنی نے ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری دوستی کے باعث اس طے شدہ رقم کا دعویٰ تو نہیں کیا مگر ایک اور معاہدے کے ذریعے منصوبے کے مکمل ہونے کی آخری تاریخ مارچ 2018 تک بڑھا دی۔تاہم ساتھ ہی یہ بھی طے کیا گیا کہ اگر اس منصوبے پر کام ایک بار پھر پاکستانی حکومت یا اداروں کی پالیسی یا فیصلوں کے باعث تعطل کا شکار ہوا تو پھر مذکورہ بالا طے شدہ یومیہ ہرجانے کا دعویٰ مارچ 2017 سے مؤثر ہو گا۔حکومتی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کو اس نازک صورتحال سے بہت پہلے آگاہ کر دیا گیا تھا۔یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے 28 جنوری 2016 کے اس حکم امتناعی سے شروع ہوا جس میں منصوبے پر کام روکنے کا عبوری حکم جاری ہوا۔کام رکنے کے فوراً بعد پنجاب حکومت کی ماہرین پر مشتمل کمیٹی نے اضافی سخت شرائط کے ساتھ نیا اجازت نامہ جاری کیا مگر ہائی کورٹ نے اس کمیٹی کو جانبدارانہ قرار دے کر اسکی رپورٹ مسترد کر دی اور پھر اپنے فیصلے میں اورنج لائن منصوبے پر اس وقت تک کام روک دیا جب تک آثار قدیمہ کے محکمے کے سربراہ آزاد ماہرین یونیسکو کے مشورے سے نئی رپورٹ تیار نہیں کر لیتے۔ اس نئی رپورٹ کی روشنی میں پنجاب حکومت کے متعلقہ محکمے نے نئے اجازت نامے جاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا تھا۔اس محکمانہ اختیار کے صوابدیدی استعمال کے قواعد کو تبدیل کرنے کے لئے نئے قواعد مرتب کرنے کی بھی پنجاب حکومت کو ہدایت جاری کی گئی۔19 اگست 2016 کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ستمبر 2016 میں پنجاب حکومت نے اپیل دائر کی جس کا فیصلہ جمعہ کو ایک سال اور دو ماہ کے بعد سنایا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بظاہر تو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے مگر حقیقت میں کیا وہی ہے جو ہائی کورٹ نے کہا تھا۔ یعنی آزاد ماہرین کی اضافی رپورٹوں پر نیا فیصلہ۔جو کام ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب حکومت چند ماہ میں کر سکتی تھی وہی کام سپریم کورٹ میں اپیل کر کے سپریم کورٹ سے کروایا گیا۔مگر شاید پنجاب حکومت نے سمجھا تھا کہ سپریم کورٹ چند ماہ میں فیصلہ کر دے گی۔شہباز شریف تو شاید سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ سماعت پر وقت تو درکنار ایک محفوظ فیصلے کے اعلان میں بھی تقریباً آٹھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ اب شہباز شریف بتائیں کہ جس مشیر نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا مشورہ دیا تھا کیا اسے برطرف نہیں کر دینا چاہیے۔ ظاہری بات ہے سپریم کورٹ میں سماعت اور محفوظ فیصلے کے اعلان میں غیر معمولی تاخیر اور اسکے باعث منصوبے میں اربوں روپے کے ممکنہ نقصان پر ججوں کا احتساب تو ممکن نہیں۔حیرانگی اس بات پر ہے کہ سپریم کورٹ کو محض یہ بات طے کرنے میں ایک سال اور دو ماہ لگ گئے کہ ہائی کورٹ مناسب جواز کے بغیر پنجاب حکومت کے ماہرین کی رپورٹ کو رد نہیں کر سکتی تھی۔عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں نے پیراگراف چھتیس میں ہائی کورٹ کے اس حوالے سے دائرہ اختیار پر ایک سوال تو اٹھایا مگر پھر خود سپریم کورٹ میں انہیں ماہرین کی رپورٹوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ماہرین کی نئی رپورٹیں بھی تیار کروائیں۔فیصلے کے پیراگراف چھتیس میں لکھا ہے کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کس طرح ساکھ والے ماہرین کی رپورٹوں کو (ہائی کورٹ نے) نظر انداز کیا گیا۔ وہ ماہرین جن کو قانونی اختیار حاصل تھا۔ فیصلے میں لکھا گیا کہ ہائی کورٹ کے ججوں کو اسٹرکچرل انجینئرنگ اور ارتعاش کی سائنس میں علم اور تربیت نہ ہونے کے باعث ماہرین کی غیر تردید شدہ تکنیکی رپورٹوں کو رد کرنے کا اختیار نہ تھا۔اس حوالے سے ہائی کورٹ نے بلاجواز ان رپورٹوں کو رد کر کے اپنے اختیار سے تجاوز کیا۔ یوں ہم ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق نہیں۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے معزز ججوں کی انجینئرنگ اور ارتعاش کی سائنس میں عدم تربیت و تعلیم کی تو درست نشاندہی کی مگر پھر خود بھی تو اپنے حتمی فیصلے میں تکنیکی انجینئرنگ سے متعلق ایسے ایسے احکامات دیے کہ شاید اب پنجاب حکومت کو کسی ماہر کی بجائے انگریزی سمجھنے والے مستری کی ہی ضرورت پڑے گی۔ حتمی فیصلے میں جن اکتیس شرائط کو حکم کا حصہ بنایا گیا ہے ان پر عملدرآمد کے لئے کسی انجینئر کی بجائے ایک اور ریٹائرڈ جج کو کمیٹی کا سربراہ چیف جسٹس کے ذریعے نامزدگی پر بنائے جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔مذکورہ بالا اکتیس شرائط بے شک تازہ ترین ماہرین کی رپورٹوں کا نچوڑ ہیں مگر پھر گیارہ تاریخی مقامات پر تعمیرات یا تزئین و آرائش سے متعلق رنگ و روغن اور ٹائلوں کی قسموں کی حد تک سپریم کورٹ کے فیصلوں میں ذکر بھی تو اتنا مناسب نہیں۔خاص کر جب اسی فیصلے کے پیراگراف چوبیس میں یہ لکھا جاتا ہے کہ (ترجمہ)
"ہم تعمیراتی نقشوں ،مکینیکل یا اسٹرکچرل انجینئرنگ یا ارتعاشی سائنس کے ماہر نہیں۔ اسی لئے ہمیں ماہرین کی پیش کی گئی رپورٹوں پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔بادی النظر میں یہ رپورٹیں قابل اعتبار ہیں اس حقیقت کے پیش نظر کہ ان کی آزاد ماہرین نے تصدیق در تصدیق کی ہے انکی تردید بھی نہیں کی گئی۔”
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر لاہور ہائی کورٹ نے اگرایسی ہی ماہرین کی رپورٹوں کو رد کیا تھا تو ساتھ میں مزید رپورٹیں بھی تو مانگی گئی تھیں۔اگر وہ غلط تھا تو پھر سپریم کورٹ محض پنجاب حکومت کے ماہرین کی ابتدائی رپورٹوں کو بحال کر کے بہت ساقیمتی وقت بچا سکتی تھی نہ کہ خود مزید ماہرین کی رپورٹیں منگوا کر ایک سال دو ماہ بعد وہ فیصلہ کرتی جو ہائی کورٹ کے حکم پر ہی عمل کر کے چند ماہ میں حاصل کیا جاسکتا تھا۔بظاہرمعاملہ وقت کی اہمیت کا تھا اور اسے عدالتی دائرہ اختیار کے تنازعے میں تبدیل کر کے غیر ضروری طور پر طول دیا گیا۔ایسی صورت حال میں اب دیکھنا یہ ہے کہ اورنج ٹرین منصوبہ آئندہ مارچ 2018 کی ڈیڈلائن سے پہلے مکمل ہوتا ہے یا پھر آئندہ عام انتخابات یا نگران حکومت سے پہلے بھی ایسا نہ ہو پائے گا۔اگر شریف خاندان یا حکمران جماعت منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہی تو اس کی ذمہ داری جس پرہو گی و ہ سب کو پتا چل چکا ہے۔ اس اورنج انصاف کا نقصان ملک اور عوام کو ہی ہو گا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button