جج ہی بولتے رہے

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے آج بھی متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین صدیق الفاروق کو عدالت کے سامنے بیان دے کر وضاحت کا موقع نہ دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اقلیتی مقام کٹاس راج مندر کی حالت زار پر لیے گئے ازخود نوٹس میں صدیق الفاروق کو طلب کیا تھا مگر سماعت کے دوران ریمارکس زیادہ دیے گئے اور وکلاء کو وضاحت کرنے کی بجائے ججوں کی بات سننے پر مجبور کیا گیا۔ ہندوں کے مقدس مقامات میں سے ایک کٹاس راج میں رام شیوا اور ہنومان کی مورتیاں نہ ہونے پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ اس میں لاپرواہی کر رہی ہے۔  عدالت کے تین ججوں نے کہا کہ اس مندر میں پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا بھر سے ہندو برادری اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے آتی ہے لیکن جب اس مندر میں مورتیاں نہیں ہوں گی تو وہ اقلیتی برادری کے بارے میں پاکستان سے کیا تاثر لے کر جائیں گے۔

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے یہ از خود نوٹس چکوال میں سیمنٹ کی فیکٹریوں کی وجہ سے کٹاس راج میں موجود پانی کا تالاب خشک ہونے سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبروں پر کیا تھا۔ کٹاس راج مندر کا تالاب دو کنال اور 15 مرلہ پر محیط ہے اور اس کی گہرائی 20 فٹ ہے ۔ خشک پڑے تالاب کو بھرنے کے لیے سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ عدالت کو پنجاب حکومت کے نمائندے نے بتایا کہ اس علاقے میں سیمنٹ کی چار فیکٹریاں موجود ہیں جن میں بیسٹ وے سیمنٹ، غریب وال اور ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری شامل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم میاں منشا (سیمنٹ فیکٹری مالک) کو بھی بلا سکتے ہیں ۔

محکمہ اوقاف کے وکیل نے کٹاس راج مندر کی حالت خراب کرنے کی ذمہ داری پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں محمکہ اوقاف کے چیئرمین آصف ہاشمی پر ڈالی۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ آصف ہاشمی نے اپنے دور میں کروڑوں روپے کی بدعنوانی کی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملزم کو ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا جس پر محکمہ اوقاف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری خارجہ کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تباہی کے بعد ہی حکومت کو سب یاد کیوں آتا ہے ۔ جن فیکٹریوں نے قدرتی حسن تباہ کیا ان کو اس کاخمیازہ بھگتنا ہوگا۔ علاقے کے سارے پہاڑ کاٹ کر قدرتی حسن خراب کر دیا پے ۔ کٹاس راج مندر میں مورتیاں نہ رکھ کر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ مندر اپنی اصل حالت میں نہیں۔ متروکہ وقف املاک بورڈ سیاسی بن چکا ہے ۔ متروکہ وقف املاک میں سیاسی کارکن کو لگا دیا جاتا ہے ۔ بورڈ میں ٹیکنیکل لوگوں کو شامل کرنا چاہیے تھا ۔ کٹاس راج مندر کا جتنا نقصان بیسٹ وے نے کیا پے کسی اور فیکٹری نے نہیں کیا ۔ ڈی سی چکوال اس فیکٹری کے تمام ٹیوب ویل بند کریں ۔ عدالتی حکم عدولی برداشت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ متروکہ وقف املاک کی زمینوں پر لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں۔ عدالت نے لاہورہائی کورٹ سے ضلع چکوال کی نجی فیکٹریوں کی فائلیں اپنے پاس منگوا لیں۔ عدالت نے پنجاب حکومت سے عملی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ بھی ایک ماہ میں طلب کر لی ۔ عدالت نے سیمنٹ فیکٹری بیسٹ وے کے ٹیوب ویل بند کرنے کا حکم بھی دیا ۔ عدالت نے متروکہ وقف املاک سے شیریں رام، ہنومان مندر نہ کھولنے پر بھی رپورٹ طلب کرلی ۔ عدالت نے کٹاس راج مندر کیس میں ماتحت عدالتوں کو احکامات جاری کیے کہ یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیے کوئی بھی عدالت اس حوالے سے دائر کسی درخواست پر کوئی کارروائی نہ کرے۔ عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت بدھ کے روز تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے