بڑھک بازی کا عادی

بھارتی میڈیا میں بہت شور برپا ہے۔ گجرات کی صوبائی اسمبلی کے لئے جاری انتخابی مہم کے لئے ہوئے ایک جلسے میں وزیراعظم مودی کی تقریر نے ٹی وی سکرینوں پر رونق لگارکھی ہے۔ مودی بڑھک بازی کا عادی ہے۔ ہندودھرم کا پرچارک ہوتے ہوئے مسلمانوں اور پاکستان سے نفرت اس کی فطرتِ ثانیہ ہے۔ ان سب باتوں کے باوجود حقیقت یہ بھی ہے کہ نریندر مودی اس وقت دنیا کی آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی جمہوریت کا منتخب وزیر اعظم ہے۔ کئی برسوں کی مخلوط حکومتوں کے بعد اس نے اپنی تقاریراور شاطرانہ جوڑ توڑ کے ذریعے BJP کو تنہا ایک مضبوط حکومت بنانے کے قابل بنایا۔ وزارتِ عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد سے وہ اپنے ملک کو عالمی قوتوں کے برابر دکھانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ اپنی پہچان بطور ایک Global Statesman کروانے کےلئے بے چین۔ بھارتی ہی نہیں بلکہ عالمی سیاست میں خود کے لئے ایک ”مدبر“ کا مقام حاصل کرنے کو بے چین نریندرمودی مگر اتوار کے روز گجرات کے ایک شہر میں تقریر کے لئے کھڑا ہوا تو بہک گیا۔ جوشِ خطابت میں ایسی کہانی گھڑلی جو تھڑوں پر بیٹھ کر سازشی تھیوریاں گھڑنے والوں کو اس سے کہیں زیادہ معقول دکھاتی ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے، جو اپنے اداروں سے براہِ راست قومی سلامتی سے متعلق معلومات 24/7بنیادوں پر حاصل کرنے کا دعوے دار ہے، دعویٰ کیا کہ گجرات کے صوبائی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لئے پاکستان نے ایک ”اہم فرد“ کو اس کے ملک ”خفیہ مشن“ پر بھیجا ہے۔ اس ”اہم فرد“ کی چند روز قبل کانگریس کے ایک رہ نما مانی شنکرآئر کے ہاں بھارت کے سابق وزیر اعظم، سابق نائب صدر اور اپنے عہدے سے کئی برس قبل ریٹائر ہوئے ایک آرمی چیف سے ملاقات ہوئی۔ تین گھنٹوں تک پھیلی اس ملاقات میں BJPکو شکست دینے کے منصوبے تیار ہوئے۔ نریندر مودی کا گجرات کے جلسہ عام میں دعویٰ یہ بھی تھا کہ پاکستان کے ایک ”اہم فرد“ کی ”خفیہ مشن“ پر بھارت آمد سے قبل پاکستان آرمی کے ایک ریٹائرڈ DG،جسے بعدازاں بھارتی وزیر اعظم نے ”سابق آرمی چیف“ بھی کہا،اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے اس خواہش کا اظہارکرچکے ہیں کہ احمد پٹیل کو گجرات کا نیا وزیر اعلیٰ ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ احمد پٹیل کئی برس سے سونیا گاندھی کے ذاتی معاون کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔ احمد پٹیل کو گجرات کاوزیر اعلیٰ دیکھنے کے خواہش مند پاک فوج کے ”DG/آرمی چیف“ کا نام نریندر مودی نے ارشد رفیق بتایا ہے۔ پاکستانی صحافت کو کئی برس دینے کے بعد میں نے یہ نام اگرچہ پہلی بار سنا ہے۔بہرحال مودی نے یہ نام لے کر ایک کہانی چلائی تو اس کی تقریر کے چند ہی گھنٹوں بعد گجرات کے تاریخی شہر سورت کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بینرز کی بھرمار ہوگئی۔ ان بینرز میں احمد پٹیل کو گجرات کا آئندہ وزیر اعلیٰ بنادیا گیا۔ان محلوں کے مکین پریشان ہوگئے۔ کانگریس اصرار کرتی رہی کہ یہ بینرز اس کے کارکنوں نے نہیں لگائے۔ BJPکی سازش ہے۔ ”نامعلوم افراد“ نے لیکن سورت کے مسلمان اکثریتی علاقوں کو ان بینرز کے ذریعے ممکنہ فسادات کا یقینی نشانہ ضرور بنادیا۔ نریندرمودی نے جس

پاکستانی پر ”خفیہ مشن“ پر بھارت آنے کا الزام لگایا نام ان کا خورشید محمود قصوری ہے۔ میاں محمود علی قصوری کے یہ فرزند جنرل مشرف کے وزیر خارجہ بھی رہے ہیں۔ اس حیثیت میں کام کرتے ہوئے اکثر ان پر پاکستان کے کئی افراد نے ”بھارت نواز“ ہونے کی تہمت لگائی۔ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر مہذب ہمسایوں والے تعلقات کے لئے وہ سرکاری اور غیر سرکاری حیثیت میں مختلف فورمز پر کئی برسوں سے متحرک ہیں۔ ان کی کتاب کی تقریب رونمائی بھارت میں ہوئی تو ہندو انتہا پسندوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ ان کے میزبان کا جو BJP کا دیرینہ کارکن بھی رہا ہے، سیاہی پھینک کر منہ کالا کر دیا گیا تھا۔ ظاہر سی بات ہے۔ خورشید محمود قصوری کسی گوریلے کی طرح بھارت میں گھسنے کا تصور ہی نہیں کرسکتے۔ وہ یقینا اپنے پاسپورٹ پر امیگریشن والوں سے باقاعدہ ٹھپے لگواکر بھارت داخل ہوئے ہوں گے۔ مانی شنکر آئر ان کے دیرینہ دوست ہیں۔ وہ اور آئر دوران تعلیم برطانیہ کے ایک ہاسٹل میں اکٹھے بھی رہے ہیں۔ آئر کی ایک بیٹی کی شادی میں قصوری صاحب بہت اہتمام سے شریک ہوئے تھے۔آئر پاکستان آئے تو قصوری صاحب اس کے اعزاز میں بھرپور کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل جب قصوری صاحب دہلی گئے تو آئر نے ان کی ضیافت کا بندوبست کیا۔ اس ضیافت میں من موہن سنگھ کے علاوہ بھارت کے ایک سابق نائب صدر اور کئی برس قبل اپنے عہدے سے ریٹار ہوئے آرمی چیف بھی موجود تھے۔ بھارتی صحافیوں کی ایک مناسب تعداد بھی وہاں موجود تھی جنہوں نے کھانے کے بعد تقریباََ ایک گھنٹے تک قصوری صاحب سے پاک-بھارت تعلقات کی بابت سوالات کئے۔ بھارت میں مقیم پاکستانی سفیر بھی اس دعوت میں موجود تھے۔ مانی شنکر آئر کی جانب سے اپنے ایک دیرینہ دوست کے اعزاز میں دئیے کھانے کو کسی صورت ”خفیہ ملاقات“نہیں کہا جاسکتا تھا۔ سیاسی اور سماجی اعتبار سے معروف دوستوں کے مابین ”خفیہ ملاقاتیں“ اور وہ بھی بھارت کے دارالحکومت میں کسی صورت ممکن ہی نہیں۔ مودی نے مگر ان دو کی بہت ہی روایتی ملاقات کو ”خفیہ“ بتاکر ایک سنسنی خیز افسانہ گھڑلیا اور اسے جلسہ عام میں سناکر لوگوں کو اشتعال دلانے کی ڈھٹائی برتی۔ مانی شنکر آئر سے اصل تکلیف مودی کو یہ تھی کہ چند ہی دن قبل اس نے بھارتی وزیر اعظم کو ”نیچ“ کہا تھا۔ کانگریس بھارتی وزیر اعظم کے لئے اپنے ایک اونچی ذات کے رہ نما کی جانب سے استعمال ہوئے اس لفظ پر بہت شرمندہ ہوئی۔ آئر کو معطل کرکے شوکاز نوٹس بھیج دیا۔ مانی شنکر آئر اس کے بعد سے وضاحتیں دینے میں مصروف ہے۔ معافی تلافی کا خواستگار ہے۔ مودی کے گھڑے افسانے نے چراغ پا مگر سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کو کیا ہے۔ ایک طویل بیان کے ذریعے اس نے مودی کی مذمت کی۔بھارت میں سیاست دان اپنے موجودہ یا سابق وزرائے اعظموں کو ”سکیورٹی رسک“ نہیں کہا کرتے۔ مودی نے یہ روایت توڑ ڈالی ہے۔ بھارتی میڈیا اس وجہ سے بہت واویلا مچا رہا ہے۔ میرے لئے اہم بات مگر ڈاکٹرمن موہن سنگھ کا ”مذمتی“ بیان ہے جس کا اصل مقصد بھارتی عوام کو یہ بتانا ہے کہ ”سکیورٹی رسک“ وہ نہیں بلکہ مودی ہے جو ”بن بلائے“ نواز شریف سے ملنے جاتی امراء چلا گیا تھا۔ جس نے ISI کو پٹھان کوٹ میں ہوئی دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ”وہاں موجودحساس ہوائی اڈے“ پر آنے کی دعوت دی تھی۔ من موہن سنگھ کے تحریری بیان نے ثابت یہ کیا ہے کہ اس کے اور مودی کے درمیان اصل مقابلہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ان دونوں میں سے اصلی تے وڈا پاکستان دشمن کون ہے۔ کانگریس اور BJP بھارت کی دو صف اوّل کی حریف جماعتیں ہیں۔ ان دونوں کے مابین ”پاکستان دشمنی“ پر اجارہ ثابت کرنے کو جاری ہوا مقابلہ مجھے خبردیتا ہے تو محض یہ کہ بھارتی عوام کی وسیع تر تعداد میں پاکستان کے خلاف نفرت اور تعصب اب شدت کی انتہا کو چھورہے ہیں۔ ایسے ماحول میں معقولیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ نفرت کا لاوا ہے جو اُبلتا چلاجا رہا ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین