کچھ ہونے والا ہے

بالآخر سپیکر قومی اسمبلی، سردار ایاز صادق بھی ”شیر آیا“ پکار اُٹھے ہیں۔ بدھ کی شام ایک نہیں دو ٹی وی شوز میں بیک وقت نمودار ہوئے اور اپنی ”چھٹی حس“ کی بنیاد پر ”کچھ ہونے والا ہے“ کا خوف پھیلاتے رہے۔ مجھ ایسے میڈیا کے سقراط اور بقراط اب ان کی پریشانی کو موضوع بنا کر تجزیے کریں گے۔ مقصد ان تجزیوں کا قوم کو ایک ایسی حکومت کے لئے تیار کرنا ہوگا جس کا بہت عرصے سے انتظار ہو رہا ہے۔

جی ہاں، اپنے شعبوں میں ”ہیرے“ مشہور ہوئے ”ٹیکنوکریٹس“ جن کی صداقت وامانت پر سوال نہیں اٹھائے جاسکتے۔ مبینہ طورپر عسکری اداروں کی نگاہ ہنر شناس کی بدولت ڈھونڈے یہ ”ہیرے“ آزاد اور بے باک عدلیہ کی مہربانی سے ”آئینی طور“ پر کم از کم تین سال حکومت کرنے کا جواز ڈھونڈلیں گے۔
اخلاقی اعتبار سے ”ماجھے ساجھے“ عوام کے چنے افراد کئی برسوں سے حقِ حکمرانی ویسے ہی کھوبیٹھے ہیں۔ بات محض ”ایک دھکا اور دو“ والی رہ گئی ہے۔ ”دھکا“ مگر کسی کو دینا ہو گا۔ دھکا دینے والے کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے چند دھرنے مزید درکار ہیں۔ 4جنوری کو ایک رسم چہلم ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے ہاتھ نجفی رپورٹ بھی آچکی ہے، اس بار ریاستی بے بسی کو تسلیم کرتے ایک اور معاہدے پر دستخط کرنے کی بجائے وفاقی اور پنجاب حکومتیں شاید استعفیٰ دینے پر مجبور ہوجائیں۔ اس کے بعد وہی ہوگا جو جنگل میں ”اچانک“ نمودار ہوا شیر چاہے گا۔
مجھے لیکن خدشہ یہ بھی لاحق ہے کہ شاہد خاقان عباسی ڈھیٹ کے ڈھیٹ بنے رہیں گے۔ شہباز شریف بھی رانا ثناءاللہ کی قربانی دے کر مہلت طلب کرنے کی درخواست کرڈالیں۔ ”دھکا“ دینے والے کے دل میں رحم آجائے اور وہ سب نہ ہوپائے جس کی ہم امید لگائے بیٹھے ہیں۔
فیض احمد فیض سے ایک فقرہ منسوب ہے۔ مشہور ہوئی کہانی کے مطابق وہ ایک محفل میں تھے جہاں موجود ہر شخص پاکستان کے مستقبل کے بارے میں دل دہلا دینے والی کہانیاں سنارہا تھا۔ اپنے حال اور کھال میں مست فیض مگر بالکل پریشان نہ ہوئے۔ ”یہ ملک ایسے ہی چلتا رہے گا“ کہتے ہوئے لوگوں کو مطمئن کردیا۔ کہانی درست ہے مگر فقرہ اے کے بروہی کے ایک بھائی کا ہے جو ایک زمانے میں بہت ”ترقی پسند “مشہور تھے۔ قرة العین حیدر نے ان کے اندر موجود Clownکی بہت کہانیاں لکھی ہیں۔
بات بہت بنیادی ہے۔ 1977کے مارشل لاء کے ذریعے 8برس تک بلاشرکتِ غیرے حکومت کرنے کے بعد جنرل ضیاء نے 1985ء میں انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا۔ یہ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوئے تھے۔ ان کے نتیجے میں جو حکومتیں اور اسمبلیاں بنیں ”مردِمومن“ نے انہیں اقتدار میں ”شریک“ کرنے کا وعدہ کیا۔ واضح الفاظ میں لیکن یہ بھی کہہ دیا کہ انہیں اقتدار ”منتقل“ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم نے اقتدار کو اپنی طرف منتقل کرنا چاہا تو گھر بھیج دئیے گئے۔ ان کے بعد ضیاءبھی نہ رہے۔ فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ 1988 کے بعد سے مگر کئی حکومتیں آئیں اور گئیں۔ ”انتقالِ اقتدار“ پھر بھی ہو نہیں پایا۔ چونکہ یہ سیاسی قیادت کی طرف قطعاََ منتقل نہ ہوپایا اسی لئے 12 اکتوبر 1999کی گنجائش پیدا ہوئی۔ 2002 کے انتخابات کے ذریعے بھی ہم نے 1985 والے تجربے ہی کو دہرایا۔ جنرل مشر ف کی خوش قسمتی کہ انہیں جونیجو کے بجائے ظفر اللہ جمالی ملے۔ مکمل جی حضورے۔ وقت شناس۔ ”اسی تنخواہ“ پر نوکری کرنے کو ہر وقت تیار۔ جن سیاست دانوں میں ”انتقالِ اقتدار“ کو یقینی بنانے کی سکت تھی وہ وطن سے دور بیٹھے ”میثاقِ جمہوریت“ کرتے رہے۔ اس میثاق کے باوجود بھی امریکہ کی مہربانی سے محترمہ بے نظیر بھٹو مشرف کے ساتھ NRO پر مجبور ہوئیں۔ مشرف اور وہ مگر اس کے فوائد اٹھانے سے محروم رہے۔
سیاستدانوں کے مقابلے میں اقتدار کے مراکز کو اصل زک 2007 میں نمودار ہوئی عدلیہ بحالی کی تحریک نے پہنچائی تھی۔ اس تحریک نے بالآخر سیاسی عمل کو مضبوط بنانے کی بجائے ”عدلیہ“ کو اقتدار کے کھیل کا ایک اہم ترین Stakeholder بنا دیا۔ نواز شریف اور ان کے ساتھیوں نے زرداری کی نفرت میں اس ادارے کو مضبوط تر بنایا۔ قوم کو رِٹ پٹیشنز کے ذریعے ”اچھی حکومت“ دیکھنے کی عادت ڈالی۔ ”پانامہ“ سے آئی سردی کی بدولت اگر اب وہ اداس شاموں میں اکیلے پھررہے ہیں تو اپنی پریشانی کا ذمہ دار کسی اور کو نہ ٹھہرائیں۔ ”میموگیٹ“ یاد رکھیں۔
یوسف رضا گیلانی کی فراغت ان کی معاونت کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ ایک وزیراعظم کو گھر بھیجنے کے بعد عدلیہ نے دوسرے وزیراعظم کو فارغ کرنے کی قوت بھی حاصل کرلی۔ نواز شریف اپنا عہدہ بچانے کے لئے گریڈ 18 سے 21 تک کے افسروں پر مشتمل JIT کے سامنے پیش ہو گئے تھے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ان کے بعد آیا کوئی وزیراعظم ایک روز کسی تھانے جا کر وہاں کے SHO کے سامنے پیش ہونے پر بھی مجبور ہوگا۔
وزیراعظم کا عہدہ اب اس ملک میں اعزاز نہیں رہا۔ باعث ِ ندامت وخجالت ہے۔ وزیراعظم کو ریاست کے ایک طاقت ور ترین ادارے کے توسط سے فیض آباد چوک کو دھرنے سے ”آزاد“ کرواکر راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان رابطوںکو بحال کروانا پڑتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی اگر ڈھیٹ نہ ہوتے تو فیض آباد چوک اس ”توسط“ سے آزاد کروانے کے بجائے استعفیٰ دے دیتے۔
سپیکر سردار ایاز صادق بھی اگر اپنی ”اوقات“ پہچان چکے ہیں تو ٹی وی پر آکر برسرِ عام بے عزت ہوئی دوشیز ہ کی طرح دُکھ بھری داستان کیوں سنارہے ہیں۔ دل ٹوٹ چکا ہے۔ سیاست سے دل بھرگیا ہے تو استعفیٰ لکھیں۔ یہ قومی اسمبلی اپنا وجود برقرار رکھنے کو ہر صورت تیار ہے تو کوئی نیا سپیکر چن لے گی۔ جس گھر کے وہ Custodian ہیں، اس کی توقیر اگر لٹ رہی ہے۔ ان کے پاس اس کے بچاﺅ کی کوئی ترکیب نہیں تو Custodian کہلانے کا بھی ان کے پاس کوئی جواز نہیں رہا۔ داد فریاد سے اپنی اور اپنے عہدے کی بے توقیری کو خود بے نقاب کررہے ہیں اور مجھے بے بس ہوکر ماتم کنائی کرنے والے اداس کلاکاروں کے خیالات کا تجزیہ کرنے میں اپنا وقت ضائع کرنے کی عادت نہیں ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button