ایک ہے چندا مگر قسمت

عمران وسیم

ایک غربت اور پھر جلدی شادی، جنوبی پنجاب میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے تو اس میں اکثریت کا تعلق جنوبی پنجاب، اندرون سندھ اور ملک کے دور افتادہ علاقوں سے ہے ۔ یہ افتادگان خاک مقتدر حلقوں کی آنکھ اور نظر کرم دونوں سے اوجھل ہی رہتے ہیں، عام انتخابات قریب آتے ہیں تو سیاسی امیدوار ان علاقوں کے غریب عوام کو خوشحالی، روزگار، تعلیم، صحت،مکان فراہم کرنے کے وعدوں کا جھانسہ دیتے ہیں اور الیکشن کے بعد وعدوں کی تکمیل آئندہ الیکشن کے نئے وعدوں تک جا پہنچتی ہے۔
یہ تصویر چندہ کی ہے، چندہ کی عمر صرف سترہ برس ہے، غربت کی وجہ سے وہ لوگوں کے گھروں میں عرصہ دس سال سے کام کر رہی ہے، غربت کے مارے ماں باپ نے چودہ سال کی عمر چندا کی شادی بھی کر دی اور وہ شادی کے تین سال بعد ایک سال کے بچے کی ماں بھی ہے۔

گھروں میں صفائی اور برتن دھو کر پیٹ کا دوزخ بھرنے والے پیشے سے منسلک چندہ اکیلی نہیں۔ چندہ کی والدہ بھی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی، چندہ کی چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں، بھائی ابھی چھوٹے ہیں، والدہ بوڑھی ہو چکی ہے، باقی سب بہنین بھی امراء کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور شادی شدہ ہیں، چندا بہنوں مین سب سے چھوٹی ہے، چندہ اب اپنی محنت مزدوری سے گھر کا خرچ چلاتی ہے اور مہینہ بھر پسینہ بہانے کے بعد اس کو  صرف چار ہزار روپے ملتے ہیں، چندہ کے کسی بہن بھائی نے اسکول نامی کسی عمارت کی دہلیز کبھی عبور نہیں کی، غربت کا مارا  امراء کے گھروں میں کام کاج کرنے والا یہ خاندان اکیلا نہیں، جنوبی پنجاب کے شہروں میں ایسی ہزاروں لاکھوں چندائیں ملیں گی جنہیں سکول جانے کا کبھی موقع نہیں ملتا۔ چاہتے نہ چاہتے ہوئے کھیل کود اور پڑھنے کی عمر میں کام پر جانا پڑتا ہے۔ ملک کے دور افتادہ علاقوں میں بچوں سے جبری مشقت یا کام لینے کی روک تھام کا کوئی میکانزم نظر نہیں آتا بس کاغذوں کا پیٹ بھرنے کیلئے قانون سازی کی جاتی ہے، اینٹوں کے بھٹوں پر کم سن بچے اپنے والدین کے ساتھ گرم تپتے بٹھے پر اینٹیں لگاتے ہیں لیکن اقتدار والوں کے پاس سوائے کھوکھلے دعوؤں کے اور کچھ نہیں ۔ انسانیت کی توہین، بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نہ کوئی بولنے والا ہے نہ رزق کی تلاش میں اذیت ناک زندگی گزارنے والوں کی کو سننے والا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے