بین الاقوامی میڈیا میں

ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزیرداخلہ مگر اس سے بے حسی کی حد تک ماورا ہو چکے ہیں۔

آپریشن ضربِ عضب کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود بلوچستان کا مرکزی شہر کوئٹہ دہشت گردی سے اطمینان بخش انداز میں محفوظ نہیں ہو پایا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندہ افراد کو چن چن کر نشانہ بنانے سے قبل ان سے منسلکہ عمارتوں پر حملے ہوئے۔ گزشتہ برس ایک اندوہناک واردات کے ذریعے اس شہر کو وکلاء کی ایک کثیر تعداد سے محروم کردیا گیا تھا۔ ہزارہ کمیونٹی پے در پے حملوں کو سہنے کے بعد کافی حد تک محفوظ ہوچکی ہے۔ دہشت گردی مگر اب بھی تقریباً معمول کی صورت جاری ہے۔ کوئٹہ میں دہشت گردی کا تسلسل ہمیں کئی سوالات اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔ خود کو آزاد و بے باک بتاتے میڈیا کو ریاست نے مگر بلوچستان کو امن وامان کے حوالے سے ایک Success Story بناکرپیش کرنے کی ترغیب دی اور اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے میں حیران کن حد تک کامیاب رہی۔ سول اور عسکری اداروں کے ملاپ سے بنائی Apex Committees کے ذریعے گڈ گورننس فراہم کرنے کے تناظر میں اس صوبے کو رول ماڈل کے طور پر Promote کیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کی وارداتوں کے بعد واجب سولات لہٰذا اٹھائے ہی نہیں جاتے۔ محض مذمتی بیانات سے کام چلایا جاتا ہے۔
اتوار کے دن بلوچستان حکومت نے لیکن ایک سفاک رویہ اپنایا۔ کرسمس کی تیاریوں کے موسم میں ایک مسیحی عبادت گاہ پر ہوئے حملے کو بھی Success Story بناکر پیش کرتی رہی۔ حکومتی ترجمان اور وزیر داخلہ نے Clinical Precision کے ساتھ ہمیں اس بات پر قائل کرنا چاہا کہ 18منٹوں کے اندر خودکش حملہ آوروں پر قابو پالیا گیا تھا۔ جائے وقوعہ پر بروقت پہنچنے اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت قانون نافذ کرنے والوں نے 400 سے زائد عبادت گزاروں کی بے پناہ اکثریت کو ”بچا“ لیا۔ شرمندگی کا کوئی تاثر دئیے بغیر کافی رعونت سے ہمیں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ امریکہ اور فرانس جیسے ممالک بھی دہشت گرد وارداتوں کو نہیں روک پاتے۔ خودکش حملہ آور عام انسانوں میں گھل مل کررہتے ہیں۔ ان کی ذات اور روزمرہّ زندگی سے متعلق ایسی کوئی خاص بات نہیں ہوتی جو ان کی شناخت میں مدد دے۔ وہ گلیوں اور بازاروں میں عام لوگوں کی طرح گھومتے ہوئے کسی وقت کوئی بھی واردات کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کے ساتھ زندہ رہنے کی عادت اپنانا ہوگی۔
کاش بلوچستان حکومت کے ڈھیٹ اور بے حس ترجمان اور وزیر داخلہ ہمیں یہ بھی سمجھا پاتے کہ خودکش حملہ آوروں نے زرغون روڈ پر واقع ایک Methodist چرچ کا انتخاب ہی کیوں کیا۔ اس سوال پر غور کرنے کے بعد ہی میں اور آپ جان سکتے ہیں کہ اس مخصوص عبادت گاہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنانے والوں کا اصل مقصد دہشت پھیلانا ہی نہ تھا۔Methodistچرچ کا انتخاب امریکی صدر ٹرمپ کے لئے ایک براہِ راست پیغام تھا۔
امریکہ میں بسے مسیحی سفید فاموں کی اکثریت Anglo Saxon Roots کی بنیاد پر پروٹسٹنٹ فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس فرقے میں انتہا پسندی کا رجحان Evangel طبقے سے مختص ہے۔ Methodist فرقہ بھی ان کی ایک شاخ ہے۔ بنیادی طور پر یہ ہماری تبلیغی جماعت سے ملتے جلتے ہیں۔ چرچ میں عبادت گزاری تک محدود نہیں رہتے۔ مسلسل تبلیغ میں مصروف رہتے ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ان کی جو شاخ ہمارے ہاں بہت تیزی سے پھیلی وہ مگر تبلیغ سے زیادہ تعلیم اور صحت کے فروغ کو مشن بناکر محروم اور پسماندہ طبقات کی خدمت کو عبادت کی صورت اپناتی رہی۔
امریکہ میں مقیم Methodist مگر اپنے رویوں میں بہت متشدد ہیں۔ ان کی دانست میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ظہورسے قبل گریٹر اسرائیل کا قیام بھی ضروری ہے۔ ظہورِ عیسیٰ علیہ السلام کے منتظر مسیحی افراد کے لئے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اسرائیل کو ایک طاقت ور اور وسیع تر ملک بنانے میں مدد گار ہوں۔ ڈونلڈٹرمپ ان مسیحی انتہا پسندوں کا ترجمان بن چکا ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ اس نے ان ہی انتہا پسندوں کے دل جیتنے کے لئے کیا۔
پاکستان میں مقیم Methodist کا امریکی مسیحیوں کے انتہا پسند فرقے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ”تبلیغ“ کے بجائے ہسپتالوں اور سکولوں کے ذ ریعے کمزور اور بے بس افراد کی ”خدمت“ ان کی واحد ترجیح ہے۔ کوئٹہ کے زرغون روڈ پر واقع چرچ پر حملہ کروانے والے مگر خوب جانتے تھے کہ پاکستان میں کسی Methodist چرچ پر حملہ ٹرمپ جیسے متعصب شخص کو چراغ پا کردے گا۔ وہ یہ تصور کرنے پر مجبور ہوگا کہ اس حملے کے ذریعے اس کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کا ”جواب“ دیا گیا ہے۔
میں یہ جان کر ہرگز حیران نہیں ہوا کہ کوئٹہ کے چرچ پر ہوئے حملے کی سب سے زیادہ، مسلسل اور اشتعال انگیز رپورٹنگ امریکہ کے Fox ٹیلی وژن پر ہوئی۔ یہ نیٹ ورک ٹرمپ اور اس جیسے متعصب افراد کا ترجمان مانا جاتا ہے۔ Fox ٹیلی وژن کی بدولت پاکستان میں چرچ پر ہوئے حملے کو امریکہ پر حملہ بناکر پیش کیا گیا ہے۔
Fox ٹیلی وژن کی کوئٹہ کے چرچ پر ہوئے حملے میں دیوانہ وار دلچسپی کا گہرائی میں جائزہ لیتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کو بھی یاد رکھنا ہوگا کہ چند ہی روز قبل امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے 13 دسمبر کو اٹلانٹک کونسل کے زیر اہتمام ہوئے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ افغانستان میں متحرک دہشت گرد اپنی توجہ اس ملک کی طرف بھی موڑ سکتے ہیں۔ ایسا ہوگیا تو پاکستان کا ”اپنے علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھنا“ ناممکن نہ سہی تو بہت مشکل ضرور ہوجائے گا۔
اس سے دو ماہ قبل 4 اکتوبر2017 کے روز پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے اپنے دفتر میں ہوئی ایک ملاقات کے بعد ٹیلرسن نے وہاں موجود صحافیوں کو آن دی ریکارڈ یہ بھی بتایا تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کے طویل المدتی استحکام ہی نہیں بلکہ عباسی حکومت کے مستقبل کے بارے میں بھی بہت فکر مند ہے۔ اس کی نظر میں خواجہ آصف جس حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں، وہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں پر قابو پانے کے ضمن میں بہت کمزور ہے۔ ٹیلرسن کے ادا کردہ ان کلمات کے بعد راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والے فیض آباد چوک پرایک دھرنا ہوا۔ عباسی حکومت کے وزیر داخلہ ہماری ریاست کے ایک طاقتور ترین نمائندے کے ”توسط“ سے مظاہرین سے ایک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے۔اس معاہدے کے نتیجے میں زاہد حامد کو وفاقی وزارتِ قانون سے استعفیٰ دینا پڑا۔
بین الاقوامی میڈیا میں فیض آباد کو مظاہرین سے آزاد کروانے والے ”معاہدے“ کے بہت چرچے ہیں اور اب کوئٹہ میں ایک ایسے چرچ پر حملہ ہوگیا ہے جسے سادہ لوح امریکی مسیحیوں کی اکثریت Foxٹی وی جیسے نیٹ ورکس کی بدولت ”اپنے” اوپر حملہ شمار کرے گی۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان اور وزیر داخلہ مگر مطمئن ہیں کہ ”آنکھ“ بچ گئی ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین