خدا کا خوف کرو میں جسم فروش نہیں

فیاض محمود
ایف نائن پارک میں ورزش سے فارغ ہوا تو اپنے دفتر کی جانب چل دیا۔ سیکٹر ایف ٹین کے سامنے والی شاہراہ پر قدم بڑھ رہے تھے،  معروف اسپتال کے سامنے اپنے جسم کو سیاہ برقعے سے ڈھانپے نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔ دو چار قدم اور آگے بڑھا تھا کہ لڑکی کے عقب سے کروزر گاڑی آتے دیکھی۔ جس میں کوئی لگھ بھگ پچاس سال کا بڈھا سوار تھا۔ کچھ سیکنڈز میں گاڑی لڑکی کے سامنے پہنچ کر آہستہ ہوگئی۔ بڈھے نے نوجوان لڑکی کو ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ لڑکی یہ سب دیکھ کر گھبرا گئی۔ اور دو قدم چل کر دوسری طرف رخ کرکے کھڑی ہوگئی۔ اشارہ کرتے وقت بڈھے کی مجھ پر نظر پڑ گئی۔ وہ گھبرایا اور گاڑی تھوڑی آگے لے گیا۔ میں دل ہی دل میں اس کو برا جان رہا تھا کہ مجھے گاڑی کی بریک لگنے کی آواز سنائی دی۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو بڈھا ایک بار پھر اپنی شیطانیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے رک چکا تھا۔ اور لڑکی کے انتظار کی نیت میں کھڑا ہوگیا۔ مجھے لگا شاید پہلے بھی وہ میری وجہ سے آگے گیا۔ اور وہ لڑکی کے گاڑی میں سوار نہ ہونے کی وجہ مجھے سمجھ رہا ہے ۔ لڑکی طرف دیکھا تو وہ اور بھی زیادہ گھبرائی ہوئی دکھائی دی۔ میں نے تھوڑا آگے جاکر رکنے کا فیصلہ کیا۔ اور ٹھان لی کہ اگر بڈھا واپس آیا تو اس سے ضرور پوچھوں گا اس اجنبی کی جگہ اگر تمھاری بیٹی یا بہن کھڑی ہوتی تو کیا تب بھی یوں اسے آفر کرتے۔ مگر بڈھا وہاں سے چلا گیا۔ بڈھا تو چلا گیا مگر کئی سوال پیچھے چھوڑ گیا۔ لڑکی بھی اب تک اپنے گھر پہنچ چکی ہوگی۔ مگر اس کا وجود نہ جانے کتنے سوالوں کے نیچے دب چکا ہوگا۔ کیا معلوم یہی سوچ رہی ہو جو میں سوچ رہا ہوں۔ اگر وہ غریب نہ ہوتی تو آج وہ بھی گاڑی پر ہوتی۔ اور یوں کبھی سڑک کنارے کھڑے گاڑی کا انتظار نہ کرتی۔ اور پھر کبھی بھی کوئی بڈھا بدکار نہ سمجھتا۔ اور نہ ہی اسے ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑتا۔ سوال یہ ہے کیا سڑک پر تنہا کھڑی خاتون کنجری ہی ہوتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ وہ کنجری نہیں بلکہ ایسے بڈھے اسے بننے پر مجبور کرتے ہیں۔ جو اپنی حوس کی خاطر بھول جاتے ہیں وہ کسی کی بیٹی اور بہن بھی ہے۔ یہ سارا واقعہ دیکھا تو میرے آنکھوں کے سامنے سماء کا اسٹنگ آپریشن چلنے لگا۔ نیوز اینکر کرن ناز مردوں کے اسے معاشرے کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرنے کے لیے سڑک کنارے جاکھڑی ہوئی۔ جو اس کے ساتھ ہوا کیمرے کی آنکھ نے پوری دنیا کو دکھایا۔ کاش آج بھی کوئی اسٹنگ آپریشن ہوتا۔ اور میں بڈھے کا بدنما چہرہ دکھاتا۔ دنیا دیکھتی بڑی گاڑی میں بیٹھنے سے کوئی معزز نہیں بن جاتا بلکہ بڑی گاڑی میں بھی چھوٹی ذہنیت نہیں دبتی۔ یہ واقعہ کسی پسماندہ علاقے کا نہیں بلکہ پاکستان کے دارلحکومت کا ہے۔ انسان اتنا گر سکتا ہے۔ کبھی سوچا نہ تھا۔ معاشرتی بے حسی ہے کہ بڑھتی جارہی ہے۔ اور افسوس یہ کہ سدباب کرنے والا کوئی نہیں۔ اگر کوئی خاتون سڑک کنارے کھڑے ایسا مکروہ دھندہ کربھی رہی ہے تو ذمہ دار کون ہے۔ معاشرہ اس کو اس نہج پر پہنچانے کا اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنی وہ خود۔ ایسے انسان۔ انسان نہیں بلکے درندے ہیں۔ ایسے درندوں کو جکڑنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یونہی سڑک کنارے کھڑی بیٹیاں کہتی رہیں گی خدا کا خوف کرو میں جسم فروش نہیں_

مدد چاہتی ہے یہ حوّا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
کہاں ہیں، کہاں ہیں محافظ خودی کے
یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق کو لاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

متعلقہ مضامین