میں مجبور ہوں، جسٹس دوست محمد

سپریم کورٹ میں سردیوں کی چھٹیاں ہیں ۔ اس دوران زیادہ تر جج اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وقت گزارتے ہیں ۔ کچھ ضروری مقدمات کو سننے کیلئے سپریم کورٹ کی مرکزی عمارت میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز پر مشتمل دو رکنی عدالتی بنچ اس ہفتے دستیاب ہے۔ چیف جسٹس لاہور میں عوامی اہمیت کے حامل مقدمات ’اپنی خوشی‘ سے سننے کیلئے عدالت لگائے بیٹھے ہیں۔
جسٹس دوست محمد خان کی عدالت سے مقدمے کو رپورٹ کرنے کا اپنا ہی مزا ہوتاہے۔ نہایت خندہ پیشانی سے وکیلوں کو سنتے ہیں، قصے، کہانیاں سناتے ہیں اور مسکراتے رہتے ہیں۔ آج ایک مقدمے میں وکیل نے اپنی سنائی تو جسٹس دوست محمد نے کچھ سوال پوچھ لیے، وکیل جواب دینے کی بجائے پھر اپنی سناتے رہے۔ جج چونکہ مقدمے کی فائل پڑھ کر آتے ہیں تو سن کر مسکراتے رہتے ہیں۔ وکیل نے تین بار ججوں کے سوال نظر انداز کیے تو جسٹس دوست محمد نے کہاکہ آپ سنگل ٹریک ریلوے چلارہے ہیں، ڈبل ٹریک چلائیں اور ہمیں بھی سن لیں۔
وکیل نے کہاکہ مقدمے میں بھلے کچھ نہ ہو مگر مجھے سبسٹینشیل جسٹس (اس کا اردو ترجمہ مجھے نہیں آتا) چاہیے۔ جسٹس دوست محمد اور جسٹس قاضی فائز جانتے تھے کہ مقدمے میں کچھ نہیں ہے مگر سنتے رہے۔ وکیل جان چھوڑنے پر تیار نہ ہوا تو جسٹس دوست محمد نے سپریم کورٹ میں مقدمات کے بوجھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وقت ضائع نہ کریں، مقدمہ بن نہیں رہا، اب تو یہاں تک بات آگئی ہے کہ مقدمے کی تاریخ آتی ہے تو لوگ سپریم کورٹ کے باہر جاکر سالگرہ مناتے ہیں اور کیک کاٹتے ہیں۔
وکیل نے پھر کہا کہ مجھے سبسٹینشیل جسٹس چاہیے تو جسٹس دوست محمد نے کہاکہ ہمارے علاقے میں تجاوزات کے خلاف صوبائی حکومت نے مہم شروع کی اور ایک بہت بڑا بلڈوزر لایا گیا، اس میں ڈرائیور بیس فٹ اوپر بیٹھا ہوا تھا، اس کے سامنے جو غیر قانونی تعمیر آئی اس نے اڑا دی، کسی فٹ پاتھ پر قبضے اور چھجے کو نہ چھوڑا، اس بلڈوزر کے بمپر پر لکھا ہوا تھا ’میں مجبور ہوں‘۔ تو وکیل صاحب، ہم بھی مجبور ہیں، اس کے ساتھ ہی اپیل خارج کرنے کا حکم لکھوا دیا۔
اس کے بعد فوجداری مقدمات کی باری آئی۔ جسٹس دوست محمد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں اور فوجداری (کریمنل) مقدمات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔
ملزم میثم رضا پر گیار سو پچاس گرام چرس کا مقدمہ ہے اور اس کو ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ سے چار سال کی سزا ہوئی ہے۔ وکیل نے سزا میں تخفیف کی اپیل کی ہے ۔ جسٹس دوست محمد نے کہاکہ قانون میں سزا ساڑھے چار سال ہے، آپ کو تو چھ ماہ کم ہوئی ہے۔ وکیل نے دلائل کا آغاز کیا تو پوچھا کہ چراس کا جب وزن کیا گیا تو وہ گراس ویٹ ( مکمل وزن پیکنگ سمیت) تھا یا پھر نیٹ ویٹ ( صرف چرس کا وزن) تھا۔ پھر خود ہی کہا کہ استغاثہ کے مطابق چرس شاپر میں تھی اور ہرٹکڑے پر پلاسٹک بھی چڑھا ہوا ہوگا۔ پھر وکیل سے پوچھا کہ آپ نے ایک گرام کا باٹ دیکھا ہے؟۔
وکیل نے بتایا کہ اس کا موکل جیل میں ایک سال گزار چکاہے۔ جسٹس دوست محمد نے ٹرائل کورٹ میں شواہد ریکارڈ کیے جانے کی فائل پڑھتے ہوئے کہاکہ اس میں تو گواہ ہر سوال کے جواب میں جی ہاں، کہہ رہا ہے،کہیں اسے دیسی مرغی تو نہیں کھلائی تھی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ابھی یہ پٹیشن ہے اگر عدالت اس موقع پر صرف سزا کے خلاف اپیل کو سماعت کےلئے منظور کرلے تو بہتر ہوگا، کیس کے میرٹ کو بعد میں دیکھ لیاجائے۔ جسٹس دوست محمد نے کہاکہ کیوں نہ ابھی اس کو مکمل سن کر فیصلہ کرلیں، عدالتی قواعد ہم نے ہی بنائے ہیں، ہم اس میں نرمی بھی کرسکتے ہیں۔ پھر مجرم کے وکیل سے پوچھا کہ آپ کا موکل پرانا جرائم پیشہ تو نہیں۔ وکیل نے کہاکہ یہ پہلا مقدمہ ہے، اور اس کا پولیس اہلکار سے جھگڑا ہوا تھا اس لیے یہ مقدمہ بنایا گیا۔
جسٹس دوست محمد نے کہاکہ پولیس والے بدنیتی سے منشیات کی مقدار ایک کلو سے بڑھا دیتے ہیں تاکہ سزا زیادہ ہوسکے، ان کے پاس آلو ٹماٹر تولنے والے باٹ ہوتے ہیں جبکہ لیبارٹری میں ڈیجیٹل ترازو ہونے کی وجہ سے مقدار مختلف ہوتی ہے، لیبارٹری میں تجزیے کیلئے دس گرام بھیجتے ہیں اور وہاں اس کی مقدار چھ گرام نکلتی ہے۔ پولیس نے ایف آئی آر میں کہانی زیب داستان کیلئے گھڑی ہے حالانکہ اتنی چرس تو لوگ ذاتی استعمال کیلئے لاتے ہیں۔ عدالت نے سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فروری کے دوسرے ہفتے تک وقت دے دیا۔
دوسرا کیس پکارا گیا تو وکیل نے روسٹرم پر آتے ہی کہا کہ میرے موکل سے بارہ سو بیس گرام چرس پکڑی گئی۔ جسٹس دوست محمد نے کہاکہ آپ کی چرس تھوڑی سی زیادہ ہے۔ وکیل نے کہا کہ لیبارٹری میں تجزیہ درست نہیں کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز نے پوچھاکہ کیا آپ کے پاس اس سے بہتر دلیل ہے؟ وکیل نے کہا کہ چرس ہیروئن اور دیگر منشیات کے مقابلے میں کمدرجے کی برائی ہے، دوسال اور نوماہ سے جیل میں ہے۔جسٹس دوست محمد نے کہا کہ یہ قانون ہمیں ٹی سی ایس (کورئیر) کے ذریعے ملا اور ہم نے اپنا لیا۔ اب بھنگ کو ہی دیکھ لیں، یہ درباروں پر ملنگ و فقیر پیتے ہیں مگردیگر منشیات کے ساتھ ہی سزاﺅں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوست کے پودے تین ہزار سال سے موجود ہیں اور میں نے دنیا بھر کے قوانین اور تحقیق پڑھی اس کو سمجھنے کیلئے۔ اس سے منشیات بنانے کے مختلف طریقے ہیں اور چیز کو منشیات میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ حکیم بھی اس کو دوا میں استعمال میں لاتے ہیں۔
وکیل نے پھر دلیل دیتے ہوئے کہاکہ سزا کم ہونی چاہیے کیونکہ لیبارٹری تجزیہ درست نہ تھا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ کوئٹہ میں تو ایسی خالص چرس ملتی ہے جیسے زبردست ان کا دم پخت بکرا ملتا ہے۔ وکیل نے پھر سزا کمی کیلئے کہا تو جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ کیا یہ غریب آدمی ہے؟ وکیل نے مسکراتے ہوئے کہا کہ منشیات کے مقدمے میں سزا غریب کو ہی ہوتی ہے۔ جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ ایک جج نے ملزم کو سزا سنائی تو اس نے کہا کہ وہ رو پڑا کہ غریب آدمی ہوں، کھانا کہاں سے کھاﺅں گا؟ تو استغاثہ کے وکیل نے کہاکہ جیل میں کھانا سرکار دیتی ہے اس کی سزا تھوڑی زیادہ کردیں، غریب آدمی ہے۔
جسٹس دوست محمد نے کہاکہ یہ لوگ ( منشیات استعمال کرنے والے) تو کھرے ہونے چاہئیں۔ باقی تو ہر کوئی غلط کام کرکے مال بناتا ہے اور پھر کہتے ہیں اللہ مہربان ہے۔ جسٹس دوست نے پھر غلط مصرع پڑھا کہ
رندوں کے جوتے چرا کر ظالم نے میکدے کو بھی مسجد بنا دیا
وکیل نے کہا کہ عدالت اپیل سماعت کیلئے منظور کر لے، تفصیلی دلائل بعد میں دوں گا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ عدالت کی الماریاں اور شیلف پہلے ہی فائلوں کے بوجھ سے جھکے ہوئے ہیں، آپ کے مقدمے کی فائل آپ کی پکڑی گئی چرس کے برابر تو نہیں مگر آٹھ سوگرام بھاری تو ہوگی۔ اپیل خارج کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے مقدمہ ختم کر دیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے