عدالت میں نواز شریف اور وزیر

وزیر بابو،،، سلام کرلیا،،اب چلتے بنیں… وفاقی وزیر کا نواز شریف کو سلام مہنگا پڑ گیا،، کورٹ روم میں ٹشو کس سے گرا..

احتساب عدالت میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت معمول کے مطابق 9 بجے شروع ہوئی، جج محمد بشیر نے سماعت کی، گواہان تسلیم خان اور زاور منظور کے بیانات قلمبند ہوئے،، مریم نواز، نواز شریف اور کیپٹن صفدر آج ایک ساتھ لیکن الگ الگ گاڑیوں میں پہنچے_

معمول کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز پہلی جبکہ کیپٹن صفدر آخری نشست پر ہی بیٹھے_ وزراء اور ارکان قومی اسمبلی کا ٹولہ معمول کے مطابق پروٹوکول کی صورت شریف خاندان کے ہمراہ موجود تھا _ اور ہر وزیر نے سابق سہی لیکن پارٹی کے دلوں کے وزیراعظم کو سلام کر کے انکے دل میں آیندہ کیلئے بھی اپنی وزارت کی جگہ بنانی ہوتی ہے، تاہم سب ہی فرداً فرداً نواز شریف سے ملنے کی خواہش لیے آتے ہیں، عدالتی کارروائی کیساتھ ساتھ ابھی سلام دعا کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ کب سے وزیر کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سلام کیلئے اپنی باری کے انتظار میں تھے لیکن موقع ہی نہیں مل پا رہا تھا، نواز شریف اور مریم نواز کسی بات میں الجھے ہوئے تھے ایسے میں مریم اورنگزیب اور آصف کرمانی سے بات چیت بھی جاری تھی _ وفاقی وزیر کیڈ کا سارا دھیان اپنے دل کے وزیراعظم کی جانب تھا کہ وہ کب فارغ ہوں اور نظر کرم انکی جانب بھی کریں، آدھے گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد بالآخر خود ہی نواز شریف کے پاس آ گئے، سیٹ کی جانب جھک کر سلام کی اور گفتگو  بڑھانی چاہی لیکن نواز شریف نے وزیر کو سلام کر کے چلتے بننے کے لیے کہا ،، کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولے وہاں بیٹھ جائیں.. طارق فضل چوہدری کا رنگ اڑ گیا،، اس بات کے بعد وہ اپنی نشست پر کیسے بیٹھتے،، تمام کارروائی کے دوران کمرہ عدالت کے بالکل آخر میں طلال چوہدری اور دانیال عزیز کے ٹولے میں جا کر کھڑے ہوگئے، اور خود کو نظر انداز کرنے کے احساس کو ہوا میں اڑانے کیلئے خوش گپیوں میں مگن ہو گئے، لیکن میاں صاحب کو بھی تھوڑا خیال رکھنا چاہیے تھا،، ایک تو وہ وزیر ہیں،، دوسرے ڈاکٹر بھی، اور تیسرا وہ وزیر صرف سلام کرنے ہی تو آئے تھے،، سلام میں تاخیر تو ضرور ہوئی لیکن وزیر بھی تو آپ کو سلام کرنے کا موقع ہی ڈھونڈ رہے تھے،، سماعت کے دوران مریم نواز کے کچھ کاغذات پر تحریر کے دوران انہیں لگا کہ انکا کوئی کاغذ نیچے گر گیا، نیچے نگاہ کی تو پتہ چلا یہ کاغذ نہیں ٹشو ہے،، ٹشو دیکھ اپنے نئے نویلے برانڈڈ بلاک ہیل جوتے کے نیچے دبایا اور کمرہ عدالت میں ہی چھوڑ دیا،، کاغذ ہوتا تو شاید اٹھا لیتیں لیکن اب استعمال شدہ ٹشو اٹھانے کیلئے کمرہ عدالت میں جھکنا بھی تو شایان شان نہیں تھا، عین اسی لمحے میاں صاحب پر نگاہ گئی تو دیکھا وہ حسب معمول الائچی کے دانے نکال کر چپانے لگے لیکن الائچی کا چھلکا اپنی واسکٹ کی جس جیب سے نکالا اسی جیب میں واپس ڈالا،، عدالت کے عہدیداروں کیلئے ان کی نفرت اپنی جگہ،، لیکن کمرہ عدالت کے تقدس کا خیال رکھتے دیکھ کر مجھے اچھا ضرور لگا،، بیٹی نے خود سے گرا ٹشو پیپر نہیں اٹھایا تو کیا ہوا،، باپ نے جو جیب سے نکالا اس کا چھلکا بھی جیب میں ہی ڈالا،، حتی کہ باریک سا چھلکا اگر کمرہ عدالت کے فرش پر گر بھی جاتا تو اس سفید ٹشو پیپر کے برعکس نظر بھی نہ آتا،، عدالتی کارروائی کے دوران لیگی کارکنان ٹولیوں کی صورت میں خوش گپیوں میں مصروف رہے، اور پونے دو گھنٹے کی عدالتی کارروائی کیسے گزری پتہ ہی نہیں چلا، سماعت کے اختتام پر مریم نواز اور طلال چوہدری نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ کوئی جاندار کیس نہیں رہا اب،، مریم تب مسکرائیں جب جواب ملا کہ کیس تو جانداد ہے یا نہیں،، فیصلہ جاندار نہ ہو جائے ، مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ یہ تو فیصلہ کرانے والے ہی جانتے ہیں، سماعت 9 جنوری تک ملتوی ہو گئی ..

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے